کراچی طیارہ حادثے کو دس روز گذرچکے ہیں لیکن لواحقین اب تک میت کی وصولی کے لئے دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں اور حکومتی اداروں کی جانب سے میتیں حوالے کرنے میں تاخیر کو حکومتی بے حسی قراردے رہے ہیں۔جب کہ میڈیا ہلاک ہونے والوں کی متضاد تعداد بتارہا ہے

یاسمین طہٰ
کراچی طیارہ حادثے کو دس روز گذرچکے ہیں لیکن لواحقین اب تک میت کی وصولی کے لئے دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں اور حکومتی اداروں کی جانب سے میتیں حوالے کرنے میں تاخیر کو حکومتی بے حسی قراردے رہے ہیں۔جب کہ میڈیا ہلاک ہونے والوں کی متضاد تعداد بتارہا ہے۔وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق طیارہ حادثے میں کل 97 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا جن میں سے 41 میتیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں جبکہ 56 کا ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے مسافروں کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے اور فارنزک تجزیے کے نتائج آنے میں ایک ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔لواحقین کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے میں اپنے پیاروں کی موت کو اللہ کی مرضی سمجھ کر صبر کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن جو سلوک پی آئی اے ہمارے ساتھ کر رہا ہے اس کو بیان کرنا مشکل ہے، اس کی کوئی معافی نہیں مل سکتی، یہ لوگ بے حس اور نااہل ہیں۔ہمیں میتوں کی حوالگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ لاہور اور کراچی کی فارنزک ٹیم کے آپسی لڑائی کی وجہ سے میتوں کی شناخت میں تاخیر ہورہی ہے جبکہ بعض متاثرین پی آئی اے کے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کے عمل کو ہی ’جھوٹا‘ قرار دے رہے ہیں۔اس حادثے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عوام اسے حادثہ ماننے کو تیار نہیں،اور نہ ہی اسے کسی انکوائری رپورٹ سے سروکار ہے کیوں کہ آج تک تقریباً چار برس قبل چترال سے اسلام آباد جانے والے اے ٹی آر جہاز کو پیش آنے والے حادثے کی رپورٹ منظر عام پر نہ آسکی جس میں جنید جمشید سمیت اس میں 47 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس لئے پی آئی اے کراچی حادثے کی رپورٹ سامنے نہیں آنے کی توقع نہیں اس وقت لوگوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لئے تمام توجہ انکوائری رپورٹ پر مرکوز کرائی جارہی ہے۔یہ ایک رواج بنتا جارہا ہے کہ حادثہ کی زمہ داری مرحوم پائلیٹ پر ڈال دی جاتی ہے اور اسطرح ادارے کی نااہلی کوپس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ حادثے کی تحقیقات کبھی وقت پر نہیں ہوتی اگر شفاف تحقیقات ہوں تو پرزوں کی خریداری سے لے کر جہاز کا معائنہ کرنے والے انجینئرز اور جعلی سندوں پر بھرتی ہونے والے پائلٹس سب اس کی زد میں آئیں گے اور یہ ممکن نہیں کہ کوئی تحقیقات کر کے اپنے ہی خلاف ثبوت اکٹھے کرے۔المیہ تو یہ ہے کہ ایئر لائن کوٹہ سسٹم کے تحت پائلٹ بھرتی کرتی ہے جس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو افسر نے کراچی آنے کے لئے خود بھی اپنی ائیر لائن کی بجائے ایئر فورس کے جہاز کا انتخاب کیا اور پریس کانفرنس میں بتایا کہ جہاز اور عملے میں کوئی خرابی نہیں تھی۔ کیا ادارے کا سربراہ اور بالخصوص کسی پاکستانی ادارے کا سربراہ یہ بتائے گا کہ ان کے ادارے کی نااہلی سے حادثہ رونما ہوا۔یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ سیاسی تقرریوں نے قومی ائر لائنز کے اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔اس کے علاوہ افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ اس حادثے پر سیاسی جماعتیں سیاست کررہی ہیں۔اور اپوزیشن جماعتوں کی بیان بازی سے تو ایسا لگ رہا ہے کہ ان کے دور حکومت میں قومی ائیر لائن کو کبھی حادثہ پیش نہیں آیا۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے عمران خان سے سوال کیا ہے کہ وہ کب تک سندھ حکومت کو موقع دیں گے؟ اب عوام مزیدانکی کرپشن برداشت نہیں کر سکتی ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ، بیت المال سندھ کے سربراہ حنید لاکھانی کے ہمراہ اقراء یونیورسٹی کیمپس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وفاق پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کیلئے آرٹیکل 235 کا ڈنڈا چلائے۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا پیپلز پارٹی کے دور میں دو طیارے کے حادثات ہوئے تھے، بھوجا اور ایئر بلو کی رپورٹ پر پیپلز پارٹی اپنی کارکردگی بتائے، جس طرح سے ان لوگوں نے پاکستان کے اداروں کو تباہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ پی آئی اے میں انہوں نے زائد ساڑھے 4 ہزار لوگوں کو بھرتی کیا تھا جب ان کا دور شروع ہوا تھا تو پی آئی اے کا خسارہ 35 ارب تھا،نواز شریف کے دور میں پی آئی اے کا خسارہ 500 ارب تھا، فردوس شمیم نے کہا کہ طیارہ حادثے پر ماہرین تحقیقات کر رہے ہیں، غیر ملکی ٹیم بھی تحقیقات میں شامل ہے،ہم یقین دہانی کرواتے ہیں کہ طیارہ حادثے کی صاف شفاف تحقیقات ہو گی۔ کراچی میں کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کے خوف ناک نتائج آرہے ہیں ،جہاں وبا کے بڑھتے کیسز کے باعث کراچی کے تمام اسپتال میں مریضوں کے لئے جگہ نہیں رہی۔ذرائع کے مطابق کرونا کے مریضوں کی اچانک اضافے کے باعث جناح اسپتال، سول اسپتال اور ڈاؤیونیورسٹی اسپتال اور انڈس اسپتال میں گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اسپتالوں کا رخ کرنے والے مریضوں کو شہر میں قائم کئے گئے مختلف آئسولیشن مراکز اور ایکسپوسینٹر منتقل کیا گیا۔لاک داؤن میں نرمی کے بعد عید کے دوران شاپنگ میں جو مناظر سامنے آئے اسکے بعد کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کا جو خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا وہ درست ثابت ہوا۔لاک ڈاؤن کے دوران شاپنگ سینٹرز کے جو ٹائمنگ رکھے گئے ہیں اس پر دکاندار جس طرح عمل کررہے ہیں اگر عام حالات میں بھی دکانیں ان اوقات میں ہی کھلی رکھی جائے تو اس بجلی کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتاہے۔کم از کم حکومت سات بجے تک کا وقت بھی عام حالات میں مقرر کردے تو اس شہر کے بجلی کے مسئلے کے حل کے ساتھ لاء اینڈ آرڈر کے مسائل میں بھی کمی واقع ہوگی