غیر قانونی ڈومیسائل جس کسی نے بنائے ہیں وہ قانونا” جرم ہے-

سی ایس ایس آفیسر پورے پاکستان میں 5 سال کے لیئے تعینات ہوتے ہیں۔سروسز رولز آف پاکستان کے مطابق 17 اور اس سے اوپر کی پوسٹ پر وفاق یا صوبہ کسی کو کہیں بھی تعینات کر سکتا ہے۔سند میں جو اسسٹنٹ کمشنر یا پولیس کی کسی پوسٹ پر پنجاب کے لوگ کام کر رہے ہیں وہ ساری پوسٹیں 17 اور اس سے اوپر گریڈ کی ہیں۔۔۔۔قانونی طور پر جائز ہیں اور کوئی مائی کا لعل انہیں وہاں سے نکال نہیں سکتا ورنہ کراچی میں 80 فیصد پوسٹوں پر قابضین کو کراچی میں

موجود پنجابی اور پٹھانوں کی مدد سے واپس ان کے ملک بھیج دیا جائے گا۔۔۔۔۔
ناجائز وہ لوگ ہیں جنہوں نے کراچی کی گریڈ 1 سے 16 تک کی پوسٹیں غیر قانونی طور پر ہتھیا لی ہیں۔۔۔۔۔کے ایم سی۔۔۔کے ڈی اے۔۔۔واٹر بورڈ۔۔۔کے بی سی اے۔۔۔ڈسٹرکٹ کونسل اور 16 گریڈ تک کی پولیس کی تمام پوسٹیں سو فیصد مقامی پوسٹیں ہیں۔ان سب پر جعلی ڈومیسائل بنا کر قبضہ کر کے کراچی کے مقامی لوگوں کا معاشی قتل کیا ہے۔اور مفتیان کے فتوی کے مطابق معاشی قتل کرنے والے واجب القتل ہے۔اگر 15 پنجابیوں کے ڈومیسائل منسوخ کئے گئے تو 25 ہزار جعلی ڈومیسائل پر سندھیوں نے جو نوکریاں حاصل کیں انہیں نہ صرف منسوخ کیا جائےگا بلکہ ان سارے لوگوں بشمول بنانے والوں کے سب کو سر عام پھانسی دی جائے گی۔مجھے یاد ہے کہ الطاف حسین نے ایک سندھ سیکرٹری کو دھمکی دی تھی کہ فورا” کراچی چھوڑ دو ورنہ زندہ واپس نہیں جاو گے۔وہ صاحب ایک ہفتے تک ڈیوٹی سے غائب رہے۔پھر کسی کے ذریعے رابطہ کر کے 90 گئے وہاں معافی تلافی ہوئی اور طے ہوا کہ ایک کروڑ روپے دیں گے تب معاملہ حل ہوا۔۔۔۔۔اب تو جو اندر ہی اندر لاوا پک رہا ہے اس کا انجام الطاف حسین کے دور سے کہیں زیادہ بھیانک ہو گا۔مقبوضہ کراچی پر قبضہ کرنے والوں بھیانک انجام کے لیئے تیار رہو کیونکہ اب جو طوفان آئے گا وہ تمام قبضہ گیروں کو بہا کر لے جائے گا۔
اب تو بلوچوں کی طرف سے ایک نئی مومنٹ چلی ہے کہ انگریزوں نے کراچی جام آف لسبیلہ بلوچوں سے چھینا تھا اس لیئے کراچی لسبیلہ کو واپس کیا جائے۔اب جو نیا صوبہ بنے گا وہ کراچی اور لسبیلہ کو ملا کر بنے گا۔۔۔
غیر قانونی ڈومیسائل جس کسی نے بنائے ہیں وہ قانونا” جرم ہے ایسے لوگوں کو سر عام پھانسی دی جائے۔اہل کراچی کا مطالبہ