آج تمباکو نوشی کا عالمی دن

دنیا بھر کے تنتیس فیصد بالغ افراد اس بری لت میں مبتلا ہیں
پاکستان سگریٹ نوشی میں دنیا میں پندھرویں نمبر پر ہے
سگریٹ پینے والے پر کورونا وائرس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے

عالمی ادارہ صحت نے تمباکو کی تباہ کاریوں کی وجہ سے 1987ء سے 31 مئی کو انسداد تمباکو نوشی کے نام سے منانے کا اعلان کیا جو آج تک منایا جاتاہے۔ سگریٹ نوشی و تمباکو نوشی ایک طرف خون پسینے کی کمائی کو دھویں میں اڑانے کا موجب ہے تو دوسری طر ف تپ محرقہ،کینسر،پیھپڑوں ،دل،دماغی بیماریوں کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے تنتیس فیصد بالغ افراد اس بری لت میں مبتلا ہیں۔بھارت ، فلپائن،تھائی لینڈ کی طرح افسو س ناک امر ہے کہ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں سگریٹ نوشی کا عفریت تیزی سے پھیل رہاہے۔عالمی اداری صحت کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے باعث ہر چھ سیکنڈ میں ایک شخص موت کے منہ میں جا رہا ہے۔یوں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد کو سگریٹ نوشی کی لت موت کی نیند سلا رہی ہے۔ان میں وہ افراد بھی شامل کئے گئے جو خود سگریٹ نوشی سے گریز کرتے ہیں لیکن سگریٹ کے دھویں کے آلودہ ماحول میں رہنے سے اس کے منفی اثرات کے باعث غیر طبعی موت کا شکار ہوئے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق ایک سگریٹ پھونکنے کے عوض سگریٹ نوش اپنی طبعی عمر سے پانچ سے گیارہ منٹ کم کر لیتا ہے ۔ علاوہ ازیں سگریٹ سے آتشزدگی کے نتیجہ میں بھاری جانی و مالی نقصان رپورٹ ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں میل ،فی میل طلباء میں سگریٹ نوشی کا ٹرینڈ خطر ناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔تمباکو نوشی اپنے آپ کو مہلک بیماریوں میں مبتلا کر کے خود کشی کے مترادف ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء میں یوں ممانعت فرمائی ہے’’اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو‘‘ سگریٹ کی ڈبیہ پر منفی و مضمرات کے انتباہی پیغامات کیلئے بھیانک تصاویر کی موجودگی اور ہیلتھ وارننگ کار گر ثابت نہیں نہ اسے سیریس لیا جاتا ہے۔
پاکستان سگریٹ نوشی میں دنیا میں پندھرویں نمبر پر ہے اس کے استعمال میں 31.8فیصد مرد،5.8فیصد خواتین اور 19فیصد نوجوان نسل اس کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ افراد سگریٹ سے پیدا شدہ بیماریوں سے موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں ۔بلا شبہ انسداد تمباکو نوشی کے حوالے سے گذشتہ دس سالوں میں پاکستان کے اقدامات قابل تحسین ہیں اور سگریٹ نوشی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے
سگریٹ نوشی کے صحت پر ضمنی اثرات کی بات کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سگریٹ نوش کو لمحہ بہ لمحہ قبرستان کی طرف گھسیٹنے والی بیماریاں چاروںاطراف سے گھیر لیتی ہیں۔ تمباکو مصنوعات کے استعمال کرنے والوں میں بعض کا خیال ہے کہ حقہ سگریٹ کی نسبت کم خطرناک ہے حالانکہ یہ خام خیالی ہے حقہ زیادہ دیر کش لگانے کی بنا پر سگریٹ سے بھی مضر ہے ۔سگریٹ سے دماغ کو خون کی فراہمی کی کمی سے یاداشت،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور استدلال کی قوتیں شدید متاثر ہوتی ہیں۔سگریٹ پھیپھڑوں کے خلیوں کو تباہ کر کے کینسر کا مؤجب بنتے ہیں۔اسے پینے والے پر کورونا وائرس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔