شہروز سبزواری اور صدف کنول ایک ہوگئے

معروف اداکارہ و ماڈل صدف کنول اور اداکار شہروز سبزواری نے اچانک سادگی سے نکاح کرکے ان تمام افواہوں کو ختم کردیا جو ان دونوں کے تعلقات کے حوالے سے گزشتہ 6 ماہ سے جاری تھیں۔

دونوں کے درمیان تعلقات کی خبریں گزشتہ برس دسمبر میں اس وقت آنا شروع ہوئیں جب کہ شہروز سبزواری اور ان کی پہلی اہلیہ سائرہ یوسف کے درمیان علیحدگی کی خبریں سامنے آئیں۔

ابتدائی طور پر شہروز سبزواری اور سائرہ یوسف کی علیحدگی کی خبروں کے حوالے سے بھی شہروز سبزواری کے اہل خانہ نے تردید کی تھی تاہم بعد ازاں دونوں کے درمیان علیحدگی کی تصدیق کردی گئی تھی۔علیحدگی کی تصدیق ہوتے ہوئی سائرہ یوسف اور شہبروز سبزواری کے درمیان طلاق کی خبریں بھی سامنے آئیں اور ابتدائی طور پر طلاقوں کی خبروں کو بھی افواہ قرار دیا گیا تھا۔

سائرہ اور شہزور نے 2012 میں شادی کی تھی—فوٹو: فیس بک
خبریں تھیں کہ پر شہروز سبزواری اور ماڈل صدف کنول کے درمیان بڑھتی قربتوں کی وجہ سے اداکار سے اہلیہ نے علیحدگی اختیار کی تھی، جس کے بعد دونوں کے درمیان اختلاف مزید شدید ہوئے تو دونوں میں طلاق ہوگئی۔

شہروز سبزواری نے ماڈل صدف کنول سے تعلقات کی خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایسی جھوٹی خبریں نہ پھیلائی جائیں۔

مزید پڑھیں: شہروز سبزواری کی سائرہ سے علیحدگی کی تصدیق
اگرچہ علیحدگی کی خبروں پر شہروز سبزواری نے وضاحتی بیان دیے تھے تاہم سائرہ نے کوئی بیان نہیں دیا تھا اور ماڈل صدف کنول نے بھی اپنا نام آنے پر کوئی وضاحت نہیں کی تھی۔

تاہم مارچ 2020 میں سائرہ یوسف اور شہروز سبزواری نے ایک ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی طلاق کی تصدیق کی تھی۔

سائرہ اور شہزور کو ایک بیٹی بھی ہے—فوٹو: انسٹاگرام
دونوں نے ایک جیسے ہی پیغام میں مداحوں کو بتایا تھا کہ اب وہ میاں اور بیوی نہیں رہے اور ان کے درمیان باقاعدہ طور پر طلاق ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: سائرہ اور شہروز سبزواری کے درمیان طلاق ہوگئی
دونوں نے اپنی شادی ختم کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا اور مداحوں سے گزارش کی کہ ان کی ذاتی زندگی کا خیال رکھا جائے اور ان کی طلاق پر افواہیں یا غلط معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

دونوں نے طلاق کی خاص وجہ نہیں بتائی اور نہ ہی یہ بتایا تھا کہ ان کے درمیان کب طلاق ہوئی۔

تاہم دونوں نے اعتراف کیا کہ شادی کو ختم کرنا دونوں کے لیے مشکل فیصلہ اور مرحلہ تھا، تاہم وہ امید کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے اثرات ان کی اکلوتی بیٹی پر نہیں پڑیں گے