انصاف کی جیت

بحریہ ٹائون ہزاروں ارب مالیت کی ہزاروں ایکڑ زمین کی ناجائز الاٹمینٹ، قبضہ اور فروخت کے مقدمے میں 460 ارب سات سالوں میں انتہائی آسان اقساط میں سپریم کورٹ کو ادا کرکے بری الذمہ بحریہ ٹائون 27 اگست 2019 تک 25 ارب کی ڈاون پیمنٹ کرےگا ڈھائی ارب کی پہلی قسط یکم ستمبر 2019 کو واجب الادا ہو گی۔ ڈھائی ارب کی مزید 48 اقساط عرصہ چار سال یعنی اکتیس اگست 2023 تک ادا ہوں گی۔ اسطرح اکتیس اگست 2023 تک 460 میں سے اگر بحریہ تمام اقساط وقت پر ادا کرتا ہے تو صرف 145 ارب ادا ہوں گے۔۔قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں بحریہ صرف 4 فیصد سالانہ کے حساب سے سرچارج بھی ادا کرے گا۔ جبکہ 315 ارب کی بقایا خطیر رقم تین سال میں ادا کی جائے گی جس کا کوئی شیڈول نہیں بتایا گیا۔ اسوقت کمرشل بینکس قریب 12 فیصد سالانہ پر اچھے کسٹمرز کو قرض دے رہے ہیں اس حساب سے 460 کی رقم پر صرف ایک سال کا سود 53 ارب بنتا ہے۔ ۔جبکہ پہلے سال بحریہ 25 ارب ڈاون اور 30 ارب قسظون میں کل 55 ادا کرےگا، یعنی صرف سود ہی ادا کرےگا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اگلے تین سال تک صرف 30 ارب سالانہ یعنی سود کی رقم کا بھی قریب آدھا ادا کرےگا اور پھر اسکے بعد تین سالوں میں کتنا اور کیسے ادا کرے گا اس کا کچھ پتہ نہیں اور اس کے ساتھ ہی نیب کو بحریہ کے خلاف کوئی نیا کیس اور پرانے کیسز بھی سپریم کورٹ سے اجازت لئے بغیر بنانے اور چلانے سے روک دیا گیا ہے۔ عدالت مین خوشی سے نعرے لگائے گئے اور ملک ریاض کو سب نے مبارکباد دی۔ ملک ریاض کا یہ بیان کہ پاکستان میں ہر ادارہ بکائو مال ہے، میں فائلوں کو پہیے لگا دیتا ہوں اور میرے کام نہیں رکتے۔ ریکارڈ پر موجود ہے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں