لاک ڈاؤن میں سختی یا نرمی؟…….. فیصلہ آج

قومی رابطہ کیمٹی کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوگا جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ صوبائی حکام بھی شریک ہوں گے۔ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء، این ڈی ایم اے اور صحت حکام شریک ہوں گے

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے سفارشات پیش کی جائیں گی۔ اجلاس میں فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل کورونا صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور اموات کی شرح پر بریفنگ دیں گے۔

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے قبل خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ایس او پیز سخت کرنے کی سفارش متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت وفاق سے وینٹی لیٹرز اور دیگر سامان کی فراہمی کا مطالبہ کرے گی۔ خیبرپختونخوا کی جانب سے بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے گی۔

اجلاس میں کورونا کے مریضوں کے علاج اور طبی سازو سامان کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔ قومی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں 9 مئی سے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا اعلان کیا گیا تھا اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے مشاورت سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 72 ہزار 460 تک پہنچ گئی ہے اور 1543 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز ایک لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ اور جون میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آسکتے ہیں۔

معاون خصوصی برائے صحت ظفرمرزا نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں کورونا کیسز میں مزید اضافہ ہوگا اور اموات بھی بڑھیں گی۔

Courtesy HumNews Urdu