امریکی ریاستوں میں کرفیو، وائٹ ہاؤس پر دھاوا

سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں میں شدت آگئی جس کے بعد 16 امریکی ریاستوں کے 25 شہروں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہےجبکہ وائٹ ہائوس پر بھی مظاہرین نے دھاوا بول دیا اور قریب کےاسٹورز پر لوٹ مار بھی کی ہے، ادھر سیاہ فام شہری کی ہلاکت کیخلاف لندن اور فرانس میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں جہاں سیکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا،امریکی صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے امریکا میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی شدید مخالفت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹامیں سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں، جس کے باعث ملک کی 16 ریاستوں کے25 شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ امریکی ریاست مِنی سوٹا کے شہر مینی پولِس میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر احتجاج آج بھی جاری ہے،مشتعل مظاہرین کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ بھی کیا جا رہا ہے۔واشنگٹن، نیویارک، لاس اینجلس، ہوسٹن، اٹلانٹا اور لاس ویگاس سمیت کئی شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں اورہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہے ہیں،اس دوران پولیس موبائل سمیت کئی گاڑیوں اور دکانوں کو نذرآتش کردیا گیا، مشتعل افراد نے بہت سی دکانوں کے شیشے توڑ کر لوٹ مار کی ہے۔پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہیں،جبکہ 1400 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیاگیاہے۔دوسری جانب امن عامہ کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے 12 ریاستوں میں نیشنل گارڈز کو طلب کر لیا گیا ہے۔امریکہ کی 11 ریاستوں جارجیا، کینٹکی اوہایو، ویسکونسن، کولاراڈو، یوٹا، واشنگٹن، کیلیفورنیا، ٹینیسی، میزوری اورٹیکساس کے گورنرز نے بھی نیشنل گارڈز کو امن عامہ کے لیے طلب کر لیا ہے۔ ان ریاستوں میں کئی مقامات پر مظاہرے پُر تشدد احتجاج میں تبدیل ہو گئے ہیں۔کیلیفورنیا کے گورنر نے لاس اینجلس میں ہنگامی حالات نافذ کر دیے ہیں۔ ہفتے کی شب احتجاج میں لاس اینجلس میں مظاہرین نے کئی مقامات پر آگ لگا دی تھی۔ریاست انڈیانا کے شہر انڈیاناپولس میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جب کہ دو زخمی ہوئے تھے۔دریں اثنا سینکڑوں مظاہرین سیاہ فام نوجوان کی ہلاکت کے خلاف فرانس کے شہر منیپولیس کی سڑکوں پر نکل آئے ، ادھر لندن میں پکنگھم میں بھی سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا اور امریکا میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کیخلاف مانچسٹر اور برمنگھم میں بھی مظاہرے کیے گئے ۔ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہائوس کے باہر مظاہرہ کرنے والے افراد پر کتے چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ نہیں کہیں گے کہ مظاہرین کو گولی ماردیں لیکن میں انہیں تجویز دوں گا کہ پرتشد د مظاہرے کرنے والوں پر خونخوار کتے چھور دیے جائیں

Courtesy jang news