پہلی سے بارہویں جماعت تک کے تمام طلبہ و طالبات بغیر امتحانات دئیے آگے کلاسز میں پرموٹ ہوجائیں گے

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اس سال پہلی سے بارہویں جماعت تک کے تمام طلبہ و طالبات بغیر امتحانات دئیے آگے کلاسز میں پرموٹ ہوجائیں گے اور جو بچے اگر فیل بھی ہیں تو انہیں بھی پاسنگ مارکس دے کر اگلی کلاسز میں پرموٹ کردیا جائے گا۔ اس سال کوئی خاص امتحان نہیں ہوگا اور جو طلبہ اپنے مضامین میں بہتری کے خواہ ہیں انہیں اگلے سال امتحان کا موقع دیا جائے گا۔

ہم نے نجی تعلیمی اداروں کو کھولنے سے نہیں روکا ہے وہ چاہیں تو آج سے کھول دیں لیکن ہم نے تدریسی عمل بند کیا ہے اور کوئی اسکول اپنی مرضی حکومت کی اجازت کے بغیر تدریسی عمل شروع نہیں کرسکتا۔ چینی اسکینڈل کمیشن کی رپورٹ میں عمران نیازی اور اس کے اے ٹی ایم ملوث ہیں اور اب ان کو بچانے کے لئے فارنزیک کا ڈرامہ رچایا جارہا ہے۔ چینی امپورٹ کرنے کی اجازت خود وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں دی اور بعد ازاں اس میں مزید ایک لاکھ ٹن امپورٹ کی اجازت بھی انہوں نے ہی دی اور اس کے باعث ملک کے غریب عوام کے جیب سے 300 ارب کی رقم ان چماروں کے جیب میں گئی ہے، جو عمران نیازی کے اے ٹی ایم ہے۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ کا مقصد کرپشن کا خاتمہ نہیں بلکہ اپوزیشن کا خاتمہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز اپنی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر راشد ربانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے کرونا وائرس کے باعث پہلے ہی جماعت اول تا آٹھوین تک کے بچوں کو پرموٹ کرنے کا اعلان کردیا تھا اور بعد ازاں نویں تا بارہویں تک کے بچوں کو پرموٹ کرنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ ان کے پرموٹ کرنے کے طریقہ کار کو وضح کرنے کے حوالے سے محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کی ایک سب کمیٹی تشکیل دی تھی، اس کمیٹی نے دو ست تین اجلاس کے دوران اپنی سفارشات مرتب کرلی ہیں اور ہم آئندہ 2 روز میں محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے ان کے سامنے یہ سفارشات رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سفارشات کے مطابق نویں اور گیارہویں جماعت کے بچوں کا چونکہ کوئی ریکارڈ ہمارے پاس موجود نہیں ہے اس لئے ان بچوں کو اگلی کلاسوں میں بغیر کسی مارکس کے پرموٹ کردیا جائے گا اور جب یہ بچے دسویں اور بارہویں کے امتحانات دیں گے اور اس میں جو نمبرز حاصل کریں گے ان نمبروں کو نویں اور گیارہوں کے نمبرز تصور کئے جائیں گے۔ جبکہ کلاس دسویں اور بارہویں کے بچوں کو ان کے نویں اور گیارہویں کے نتائج کی بنیاد پر اگلی کلاسوں میں پرموٹ کیا جائے گا اور ان کے حاصل کردہ نمبروں میں 3 فیصد اضافی نمبرز شامل کئے جائیں گے۔ جو بچے چاہے وہ کتنے ہی پیپرز میں فیل ہوں ان کو پاسنگ مارکس دے کر پاس کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کوئی خاص امتحان کا انعقاد نہیں کیا جائے گا اور جو بچے اپنے مارکس کی بہتری چاہتے ہیں انہیں بھی پرموٹ کردیا جائے گا البتہ اگر وہ چاہتے ہیں تو انہیں اگلے سال اس کا موقع دیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ پرائیوٹ طلبہ و طالبات پر بھی یہی رولز لاگو ہوں گے۔ نجی تعلیمی اداروں کی ایسوسی ایشنز کی جانب سے 15 جون کو تعلیمی ادارے کھول دینے کے اعلان کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے نجی تعلیمی اداروں کو کھولنے سے نہیں روکا ہے وہ چاہیں تو آج سے کھول دیں لیکن ہم نے تدریسی عمل بند کیا ہے اور کوئی اسکول اپنی مرضی حکومت کی اجازت کے بغیر تدریسی عمل شروع نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یکم جون سے تعلیمی ادارے نہ کھولنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کھولنے کے حوالے سے کوئی تاریخ نہیں دی ہے اور ہم صورتحال کا جائزہ لے کر اور تعلیمی پالیسی کو اسٹیرنگ کمیٹی میں مرتب دے کر کوئی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں میں نہیں سمجھتا کہ کوئی والدین اپنے بچوں کو اسکولز بھیجیں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ کئی روز سے پی ٹی آئی کی جانب سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف ایک پروپگنڈہ چینی اسکینڈل کے نام پر شروع کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی اسکینڈل کمیشن میں جتنی چیزیں سبسیڈی کو لے کر اٹھائی گئی تھی، اس پر ایک جے آئی ٹی بنائی گئی تھی اور اس میں تمام انکوائری بھی مکمل کرکے ریفرنس بھی بنائے گئے تھے۔ اگر یہ سب کچھ ماضی میں ہوچکا تھا تو ہم وزیر اعظم اور ان کے چماڑو سے پوچھتے ہیں کہ یہ کمیشن کیوں بنایا گیا تھا۔ اس کمیشن کے ٹی آر اوز کے مطابق چینی کی قیمتوں میں 2018-19 اور 2019-20 میں اضافہ اور اس کے نتیجہ میں عوام پر 300 ارب روپے کی زائد رقم عوام کی جیبوں سے نکالنے کی تحقیقات کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیشن کی رپورٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ 10 لاکھ میٹرک ٹن چینی امپورٹ کرنا قرار پایہ ہے اور بعد ازاں مزید ایک لاکھ ٹن کی اجازت دینا ہے اور یہ سن وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں دئیے گئے فیصلے ہیں اور اس اجازت کے باعث ہی چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ وزیر اعظم نے 20 فروری کو یہ کمیشن بنایا اور اس نے 9 مارچ کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، اس کے بعد اس پر کارروائی ہونا چاہیے تھی لیکن چونکہ اس رپورٹ میں عمران خان کے تمام اے ٹی ایمز جس میں اسد عمر، رزاق داؤد، حفیظ شیخ، بزدار اور خود عمران خان ذمہ داران میں شامل ہیں اس لئے ان اس کمیشن کی رپورٹ کے بعد فرازنک کا ڈرامہ شروع کردیا گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں نیب سے پوچھتا ہوں کہ اسے یہ 300 ارب روپے کی کرپشن کیوں نظر نہیں آتی اور کمیشن کی رپورٹ کے بعد انہوں نے کیوں عمران نیازی اور ان کے اے ٹی ایم کے خلاف کارروائی کا آغاز نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب اور نیازی کا گٹھ جوڑ کرپشن کے خاتمہ کے لئے نہیں بلکہ اپوزیشن کے خاتمے کے لئے ہے اور یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے کہ ان اے ٹی ایم کو بچانے کے لئے اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ ہو، گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو، بھارت سے ادویات کی امپورٹ کی اجازت کا معاملہ ہویا چینی کی امپورٹ کی اجازت یہ سب فیصلے وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں ہوتے ہیں اور اس کی منظوری وہ خود دیتے ہیں اور پھر خود ہی تحقیقات کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نالائق اور نااہل سلیکٹیڈ حکومت نے گذشتہ ایک سال کے دوران جتنے قرضے لئے ہیں اتنے قرضے پیپلز پارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں بھی نہیں لئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کنسٹریکشن ریلیف پر بھی وزیر اعظم خود کمیشن بنائے گا، کیونکہ اس میں بھی اس کے جگاری پھنس رہے ہیں اور وہ ان کے بچانے کے لئے یہ ڈرامہ ضرور کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے تمام فیصلے اس کے اپنے سرمایہ کاروں کے لئے ہیں جو بین الاقوامی جگاری ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر نیب کو اپنی غیر جانبداری ظاہر کرنا ہے تو انہیں فوری طور پر 300 ارب روپے عوام کی جیبوں پر چینی مہنگی کرکے ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف کرنا ہوگی، جس کے ذمہ دار عمران خان اور ان کے اپنے وزراء ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت بیرون ملک پاکستانی اوور سیز بھی موجودہ نااہل حکومت کی پالیسیوں کے باعث شدید اذیت کا شکار ہیں اور انہیں لانے کے لئے پی آئی اے ان سے تین تین گنا زیادہ کرایہ وصول کررہی ہے اور انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح لایا جارہا ہے۔ پی آئی اے طیارہ حادثہ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں آمرانہ سسٹم رائج ہے اور جہاز کے پائلٹ سے انٹرنیشنل رولز کے برخلاف 22 سے 23 گھنٹوں کی ڈیوٹیاں کرائی جارہی ہیں اور اس وقت کرونا وائرس کے بعد ایس او پی کے تحت 50 سال سے زائد عمر کے شخص کو سب سے زیادہ احتیاط کرنا ہے وہاں پی آئی اے نے کنٹریکٹ پر اپنے 60 سال سے زائد عمر کے پائلٹ کو رکھا ہوا ہے اور ان سے کام لیا جارہا ہے اور اگر کوئی اس پر آواز اٹھائے تو اسے ادارے سے فارغ کردیا جاتا ہے اور اسی لئے پی آئی اے میں ایسوسی ایشنز پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہے تاکہ کوئی آواز نہ اٹھا سکے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ معاشی ایمرجنسی اگر لگنی ہے تو وفاق میں لگنی چاہیے۔ اس وقت سندھ حکومت جو کام کررہی ہے وہ دیگر تمام صوبائی حکومتوں اور خود وفاقی حکومت سے بہتر کررہی ہے۔ 18 ویں ترمیم کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ 1973 کے آئین کے بعد 18 ویں ترمیم ہی ہے، جس نے صوبوں کے درمیان خلس کا خاتمہ کیا ہے، صوبوں میں ہم آہنگی پیدا ہوئی ہے اور اس سے وفاق مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن کو آئین اور 18 ویں ترمیم کی شقوں کا علم نہیں ہے وہ میڈیا پر آکر اس پر تبصرے کررہے ہیں اور اگر ان سے کوئی پوچھے تو وہ اس پر بات کی بجائے اپنی ڈرامہ بازیاں شروع کردیتے ہیں۔