لندن میں کووڈ 19سے ہلاک پاکستانی کی میت کراچی منتقلی کی منتظر

پاکستانی حکام لندن میں کوویڈ 19 سے ہلاک ہونے والے کراچی کے 62 سالہ رہائشی سید اسرار الحسن زیدی کی تدفین کیلئے میت کی پاکستان واپسی سے انکار کر رہے ہیں۔ پاکستانی شہری اسرار الحسن اپنے بچوں سے ملنے لندن گئے تھے جہاں بدقسمتی سے انہیں کورونا وائرس لاحق ہوا اور وہ زندگی گنوا بیٹھے ۔ سینٹ پیٹرز ہسپتال کی سرکاری دستاویز کے مطابق مسٹر زیدی کا کا انتقال کوویڈ 19 ملٹی آرگن فیلیئر اور ٹائپ 2 ذیابطیس کی وجہ سےہوا تھا۔ اسرار الحسن زیدی کراچی کی النور سوسائٹی میں رہتے تھے اور ڈرافٹسمین تھے۔ وہ اپنی بیٹی افشین شیراز سے ملنے لندن گئے تھے جس کے شوہر شیراز زیدی چند ماہ قبل ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ میت کی وطن واپسی کیلئے سینٹ پیٹرز ہسپتال کے جاری کردہ خط میں لکھا گیا ہے کہ لاش کو باڈی بیگ میں بند کر دیا گیا ہے اور اسے زنک لائن میں منتقل کیا جانا ہے، تابوت ہرمیٹیک طور پر سیل شدہ ہے جسے برطانیہ میں فیونرل ڈائرکٹری سروس کے ذریعے انجام دیا گیا ہے تاکہ وہاں پر تابوت کو سنبھالنے کے ذمہ دار کسی بھی فرد کیلئے کوئی خطرہ نہ ہو۔ جیو ٹی وی اور دی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں مرحوم کے بیٹے علی رضا نے کہا کہ میرے والد پاکستانی شہری ہیں جنہوں نے پوری زندگی پاکستان میں گزاری۔ ان کی آخری خواہش پاکستان میں ہی دفن ہونا تھی۔ میرے والد کی میت سٹینمور امام بارگاہ کے مردہ خانہ میں ہے اور ہم میت کے پاکستان لے جانے تک اس کی تدفین نہیں کریں گے۔ ابتدائی طور پر پاکستان ہائی کمیشن نے اس خاندان کو زیدی کی میت کی وطن واپس لےجانے کیلئے اجازت دے دی تھی اور اس سلسلے میں ایک این او سی بھی حاصل کر لیا تھا ۔ کرونا وائرس مریض کی لاش کی منتقلی کیلئے این او سی مندرجہ ذیل شرائط پر جاری کیا جاتا ہے۔ (i) تابوت ہرمیٹیک طور پر زنک آکسائیڈ سے سر بمہر اور ائر ٹائٹ ہو ۔ (ii) پی آئی اے سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ منسٹری نیشنل ہیلتھ سروس ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی ہدایت کے مطابق میت کو منتقل کرے

Courtesy Jang News Urdu