الوداع اوکاڑہ اور چند متفرّق باتیں

یادوں کے جھروکوں سے

عابد حسین قریشی

(7)

الوداع اوکاڑہ اور چند متفرّق باتیں

تقریباً دو ماہ قبل اپنی 38 سالہ جوڈیشل سروس کی گم گشتہ مگر ذہن کے نہاں خانوں میں زندہ یادداشتیں قلمبند کرنے کا ارادہ کیا۔ جسکے لیے نہ تو کوئی ڈائری تھی اور نہ ہی کوئی چیز لکھی پڑھی مگر یار دوستوں کی خواہش تھی کہ میں ایسا کر سکتا ہوں۔ اور پھر کرونا وائرس کے جبری لاک ڈاؤن نے وہ موقع اور فرصت مہیا کر دی۔ لٰہذا اپنے زمانہ طالب علمی، وکالت اور اپنی پہلی پوسٹنگ اوکاڑہ کے بارے میں چند اقساط لکھ کر جونہی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں تو میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ اسطرح کا بھرپور رسپانس آئے گا جس سے حوصلہ افزائی، ہمت بڑھنا اور ارادوں میں ایک نئی رمک اور دھمک پیدا ہوگی جو کچھ مزید لکھنے پر مجبور کر دے گی۔ یہ سب میرے اللہ تعالٰی کا کرم ہے۔


اُسکی بے پایاں عنایات ہیں ورنہ مجھ جیسا آدمی جو گزشتہ تقریباً بیس سالوں سے اُردو کا شاید ہی کوئی ڈھنگ کا عبوری حکم بھی نہ لکھ سکا ہو کہ سارا کام انگریزی میں بزریعہ سٹینوگرافر چلتا رہا۔ ایک دم اُردو زبان میں کچھ لکھنا اور پھر معیاری لکھنے کی کاوش کرنا بھی غیبی مدد ہی سمجھ لیں۔ بے شمار سوالات سوشل میڈیا پر میری فیس بُک پر اور کچھ براہ راست میرے وٹس ایپ پر موصول ہوئے کہ سب کچھ کیسے ممکن ہے۔ فرداً فرداً جواب دینا ممکن نہ تھا۔ صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں

دُنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے لوٹا رہا ہوں میں

نہ اپنی اُردو دانی پر ناز۔ نہ اپنی قابلیت و اہلیت پر مان۔ نہ اپنی صلاحیتوں پر گھمنڈ۔ نہ اپنی capacity پر کوئی شبہ۔ ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ۔ صرف اللہ کی ذات پر توّکل اور نہایت عاجزانہ پیشکش۔ کاوش صرف اس قدر کہ جو کچھ لکھا جائے سچ لکھا جائے۔ کسی کی پگڑی نہ اُچھالی جائے۔ منفی رویے اور باتوں سے اجتناب کیا جائے۔ اور ان یادداشتوں سے ماضی کے بار اور بنچ کے خوشگوار تعلقات جو پُر امن بقائے باہمی، وضع داری، اخلاقیات کے اعلی اُصولوں اور عزت و احترام کے باہمی رشتوں سے منسلک ہوتے تھے انہیں مناسب انداز میں اُجاگر کیا جائے۔ اور نئی نسل دونوں بار اور بنچ کے لیے ان اعلی روایات میں سے مستقبل کی صورت گری کی کوئی سبیل بن جائے اور کچھ راہنمائی ہمارے نوجوان دوستوں کو میسّر آسکے، اور گزرے وقتوں کی قابل فخر عدلیہ کا زکر اور جوڈیشل افسران کے درمیان باہمی اُنس و محبت سے اپنے قلب و ذہن پر بننے والے انمٹ نقوش کی تصویر کشی ہوسکے تو میں سمجھوں گا کہ سفر حیات کا رائیگاں نہیں گیا۔

اوکاڑہ سے اپنا تبادلہ اپریل 1985 میں ہوا۔ کیا اچھے وقت تھے۔ ٹرانسفر آرڈر میں یہ نہیں لکھا ہوتا تھا کہ کس تاریخ تک اگلے سٹیشن پر جائن کرنا ہے۔ آرام سکون سے ہر کام ہوتا تھا۔ بعد میں نجانے کس دور میں یہ پابندی ضروری سمجھی گئی کہ فلاں تاریخ کو ہر صورت میں اگلے سٹیشن پر جائن کرنا ہے۔ بعض اچھی روایات ہم نے خود ہی ختم کر دیں۔ ہمارے سروس کے پہلے دس بارہ سال موسم گرما میں عدالتی اوقاتِ کار صُبح ساڑھے سات بجے تا دو بجے دوپہر ہوا کرتے تھے اور سردیوں میں نو تا چار۔ گرمیوں والی ٹائمنگ کیا زبردست تھی۔ دوپہر کو آرام سے گھر پہنچ کر کھانا تناول کرنا، قیلولہ کرنا اور شام کو ٹینس کے لیے وافر وقت۔ اُن دنوں سروس کی موجودہ آسودگیاں حاصل نہ تھیں۔ نہ کار، نہ اے۔سی، نہ موبائل فون، نہ نیٹ اور نہ پُر تکلف کھانے۔ سادہ غذا مگر شفاف اور مثبت سوچ۔ مگر اس سب کے باوجود ایک عجب طرح کا سکون، چین، آسودگی اور راحت تھی جو وسائل بڑھنے اور کئی دیگر وجوہات کی بنا پر مفقود ہو گیئں۔

نوّے کی دہائی میں بجلی بچانے کے لیے حکومت نے دو چھٹیاں شروع کر دیں۔ عدالتوں نے بھی عمل درآمد شروع کر دیا۔ ظاہر ہے کورٹ ٹائمنگ بھی تبدیل ہو گئے۔ بعد میں دو چھٹیاں ختم کر دی گئیں مگر موسم گرما کے عدالتی اوقات میں صرف آدھ گھنٹہ کی تحفیف کی گئی۔ موجودہ اوقات آٹھ بجے تا ساڑھے تین بجے سمجھ سے بالا تر ہیں۔ حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ موسم گرما میں دوپہر دو اڑھائی بجے کے بعد کچہریاں سنسانی کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح اگر عدالتوں میں ہفتہ وار دو چھٹیاں کر دی جائیں تو نہ صرف حالات کار بلکہ استعداد کار بھی بہتر ہو گی۔ جناب سیّد منصور علی شاہ صاحب کے بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے زمانے میں ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے معاملات کے حل کے لیے ایک Advisory Committee تشکیل دی گئی تھی۔ بطور سیشن جج لاہور میں بھی اس کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کرتا رہا۔ عدالتی افسران کے stress کو کم کرنے کے لیے ہفتہ وار دو چھٹیوں کی تجویز بھی زیر غور آئی اور جوڈیشل افسران کو ریلیکس رکھنے کے لیے ضلعی سطح پر جم بنائے گے جن میں بڑے جدید آلات بھی مہیا کیے گئے۔ لاہور میں میں نے تقریباً ساٹھ سے زائد ایڈیشنل سیشن ججز کے چیمبرز میں Treadmill رکھوا دیں کہ جب چاہے جج صاحبان ہلکی پھلکی exercise بھی کر لیں۔

آج ہمارا ہر دوسرا جوڈیشل آفیسر شوگر، بلڈ پریشر، عارضہ قلب، امراضِ گردہ و جگر کا شکار ہے۔ ان میں سے اکثر بیماریاں ظاہری و مخفی پریشر کی بدولت لاحق ہوتی ہیں۔ گزشتہ تین چار سالوں میں تقریباً پندرہ سولہ نوجوان جوڈیشل افسران دوران سروس ہمیں داغِ مفارقت دے گئے۔ یہ شرح اموات کسی بھی دیگر محکمہ سے کہیں زیادہ ہے اور ایک الارمنگ پوزیشن کی نشاندہی کر رہی ہے۔ میں اپنے طویل عدالتی تجربہ کی بنیاد پر بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ جوڈیشل افسران پر بے شمار قسم کے پریشر ہوتے ہیں۔ وہ اندر ہی اندر دبائے رکھتے ہیں جو بالآخر کسی بڑی بیماری کی صورت میں منتج ہوتے ہیں۔ ہفتہ وار دو چھٹیاں یا گرمیوں میں اوقات کار کو معقول سطح پر لانے سے ان کو کافی ریلیف ملنے کا امکان ہو سکتا ہے۔ ایک طویل عرصہ جوڈیشل سروس کا حصہ رہنے کے بعد یہ نشاندہی کرنے میں حق بجانب ہوں کہ مقدمات کو جلد نپٹانے کے لیے لگاتار اور متواتر ڈائرکشنز کا اجرا جو زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتیں اور جو نہ صرف جوڈیشل افسران پر غیر ضروری دباؤ کا باعث بنتی ہیں بلکہ انصاف کی کوالٹی بھی کمپرومائز ہو جاتی ہے۔

یہ بات بحث طلب نہ ہے کہ آپ کسی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں آپ کے حالات کار، دفتری ماحول آپکے کولیگ، آپکی صحت اور زندگی پر نقوش چھوڑتے ہیں۔ یہ بات ذاتی تجربہ سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ اگر ذہنی طور پر مطمئن اور ایک خوشگوار ماحول میں کام کر رہے ہوں تو آپکے اندر مثبت رویے جنم پذیر ہوتے ہیں۔ مثبت رویے کیا ہیں۔ خدائی تقسیم پر راضی رہنا۔ اُسکی تقسیم سے اختلاف کرنا حسد کو جنم دیتا ہےجو انسانی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتا ہے۔ جب انسان شکل و صورت، قد و قامت، جسمانی ساخت، قوت و توانائی، ذہانت و فطانت، صباحت و ملاحت، ذہنی استعداد اور جاہ و منزلت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور یہ یقیناً خدائی تقسیم ہے تو پھر حسد کس بات کا۔ یہ تو پھر سراسر خدائی تقسیم سے انکار ہے۔

انسان کے اندر مثبت اور منفی دونوں قوتیں ہیں۔ بلکہ آپس میں برسرپیکار ہوتی ہیں۔ ان میں سے جو غلبہ پائے زندگی کا رخ اُدھر مڑ جاتا ہے۔ محبت و اُلفت، پیار و شفقت، ایثار و قربانی، احسان و شکر گزاری، عفو و درگزر، معافی، برداشت، سخاوت، میٹھا بول، خوش اخلاقی، عاجزی و انکساری، ایمانداری، قناعت، صلہ رحمی اور احترام انسانیت سب مثبت رویے ہیں۔

اگر آپ اپنے دفتر، فیکٹری یا دکان پر مثبت رویہ اپناتے ہیں تو لازم ہے کہ اپنی فیملی کے ساتھ بھی وہی رویہ اپنائیں۔اپنے ماتحتوں سے بھی حسنِ سلوک کا مظاہرہ کریں۔ جو بات کہتے ہیں وہی کریں کہ اللہ تعالٰی کو وہ شخص بڑا نا پسند ہے جو کہتا کچھ اور ہے اور کرتا کچھ اور ہے۔ حوالہ کے لیے قرآن پاک کے پارہ نمبر 28 کی سورہ الصّف کی آیات نمبر 2 اور 3 پڑھ لیں۔ بڑا واضح اور اٹل پیغام ہے۔ منفی رویے کیا ہیں۔ غصہ، نفرت، بُخل، بے چینی، حسد، بغض، کینہ، سازش، گھمنڈ، چغلی، چیرہ دستی، خودپسندی و خود پرستی، ظلم، زیادتی، بد اخلاقی اور تکبر وغیرہ۔ جب یہ غلبہ پا جائیں تو انسان رزیل اور مرتبہ اشرف المخلوقات سے گر جاتا ہے۔

خیر اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ اوکاڑہ سے تبادلہ کے فوری بعد الوداعی دعوتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ اُن دنوں بار اور سینئر وکلا جوڈیشل افسران کو الوداعی کھانے دیا کرتے تھے اور ان کو ہرگز برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ یہ سب باتیں خواب و خیال ہو کر رہ گئیں۔ میں چارج جلد چھوڑنا چاہتا تھا مگر سیشن جج صاحب نے منع کیا کہ اچھی خاصی دعوتیں چل رہی ہیں تمہیں کیا جلدی ہے۔ اوکاڑہ میں ریسٹ ہاؤس میں قیام کے دنوں میں ایک ہلکا پھلکا واقعہ بیان کرنا مناسب ہے۔ ریسٹ ہاؤس میں میرے علاوہ شوگر مل کے دو تین انجینئر بھی قیام پذیر تھے۔ ریسٹ ہاؤس کا کُک صدیق نامی ایک سادہ لوح آدمی تھا۔ اُسے جب بھی گوشت خریدنے کے لیے بھیجتے وہ اللہ کا بندہ اسطرح کا گوشت لاتا کہ اوّل تو وہ ٹھیک پکتا ہی ناں اور پھر کھانے کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ آخر اجتماعی فیصلہ یہ ہوا کہ اسے گوشت خریدنے اور پکانے کی زحمت دینے کی بجائے سبزی اور دال پر انحصار کیا جائے۔ پھر کیا تھا دوپہر کو آلو مٹر اور شام کو مٹر آلو پکتے رہے۔ یہ ان وقتوں کا ذکر ہے جب گوشت کھانے کی میز کا لازمی جزو نہ تھا۔ بازار میں چھوٹے اور بڑے گوشت کے نام سے خریدا جاتا تھا اور ابھی اس نے مٹن اور بیف کا روپ نہیں دھارا تھا۔ قصاب کی دکانوں پر پاؤ اور آدھ کلو کے اوزان دستیاب تھے۔ اور شرفا پاؤ گوشت خریدتے وقت کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ اب تو کبھی کبھار کسی قصاب کی دکان پر جانے کا اتفاق ہو تو لوگ پورا پورا بکرا اسطرح خرید رہے ہوتے ہیں جیسے یہ انہوں نے کھانا نہیں ایکسپورٹ کرنا ہے۔ماضی کی یہ یادیں دہراتے ہوئے محسن نقوی کا یہ شعر اپنے حسبِ حال ہے:

محسن ہمارے ساتھ ایک حادثہ ہوا
ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

یہاں پہنچ کر اوکاڑہ کو الوداع کہتے ہوئے اگلے سٹیشن پر جانے سے قبل میں اس سوچ میں ہوں کہ ابھی میرے اٹھارہ بیس اور بھی مقامات تعیناتی ہیں اور کیا ہر سٹیشن آف پوسٹنگ پر قسط لکھی جائے۔ میرے پاس لکھنے کو کافی مواد اور کہانیاں ہیں۔ مگر اسطرح یہ سلسلہ طوالت اختیار کر جائے گا جو قارئین میں عدم دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے اور انکی بصارتوں پر بوجھ بھی۔ اور پھر یہ کہ “اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا” یہ سلسلہ ایک خاص حد تک ہی قابل قبول ہو سکتا ہے اور مجھے اسکا شدید ادراک ہے۔

اب میرے پاس دو تین آپشن ہیں۔ سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہر سٹیشن پر ہونے والے واقعات، تعینات جج صاحبان اور دیگر اہم و غیر اہم باتیں لکھی جائیں۔ دوئم ہر سٹیشن کو الگ الگ لکھنے کی بجائے دو تین چار سٹیشن کا سیٹ بنا کر اہم اور دلچسپ باتیں اور یادیں قلم بند کی جائیں۔ یا یہ سب کچھ عرصہ کے لیے موخر کرتے ہوئے اور ان سارے واقعات کو کتابی شکل میں ترتیب دیکر شائع کرا دیا جائے۔ یہ گھمبیرتا اگر سلجھ جائے اور ٹھیک فیصلہ بر وقت کر سکوں تو یہ مزید عنایت الٰہی ہو گی۔