دنیا میں شاید دو فیصد ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت دوسری عورت کا ریپ کروا دے

اس معاشرے میں پدرشاہی کو تقویت دینے کے لیے ہمیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے ہم ضرور جائیں گی کیونکہ ہمیں اچھی عورت کا تمغہ مرنے سے پہلے ہر حال میں حاصل کرنا ہے۔ اور اس کے لیے ایک عورت اور مرد کے رشتے کا ہونا نہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اب وہ رشتہ کس نوعیت کا ہے۔ کتنا امیر ہے۔ کتنا غریب ہے۔ کس قدر قابل فہم ہے۔ کتنا آسان اور میچور ہے۔ اس رشتے میں دوطرفہ جذبات ہیں جس نہیں، دونوں فریق ایک دوسرے کی ذاتی زندگی میں دوست کی حیثیت رکھتے ہیں جس فرعون ہیں؟ بتاتی چلوں کہ یہاں میں ایک ازدواجی رشتے میں موجود مرد اور عورت کی بھی بات کر رہی ہوں۔

دنیا میں شاید دو فیصد ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت دوسری عورت کا ریپ کروا دے یا خود کسی عورت کا ریپ کردے اور اسی وجہ سے ہم نے کبھی یہ محسوس بھی نہیں کیا ہوگا کہ کیسے ایک عورت دوسری عورت کا ریپ کر سکتی ہے۔ میں آپ کو بتاتی ہوں۔ رات کے وقت اسلحہ کے ساتھ گارڈز اور تین چار عورتوں کے ہمراہ ایک عورت اپنے گارڈز کو دو امیر لڑکیوں کے گھر کے دروازے کو پھلانگنے کا حکم دیتی ہیں۔ اور پھر ان لڑکیوں کے گھر پر دھاوا بولتی ہیں۔ ایک لڑکی جس کا نام عظمی خان ہے اور وہ فلمسٹار اور ماڈل ہیں جب کہ ان کی چھوٹی بہن ہما خان بھی اسی شعبے سے بہت کامیابی کے ساتھ منسلک ہیں۔

اب یہ طاقتور عورت گھر میں گھستے عظمی خان کو غلیظ گالیوں سے نوازتی ہیں اور تھپڑوں کی بوچھاڑ کرتی ہیں۔ باقی عورتیں گھر میں توڑ پھوڑ کے ساتھ صرف عظمی اور اس کی بہن کی وڈیو بناتی ہیں جن پر وہ اپنے شوہر عثمان کے ساتھ تعلقات کے الزام میں غیر انسانی عمل کر رہی ہیں۔ ان پر آتش گیر لیکویڈ پھینکا جا رہا ہے۔ مارا جا رہا ان کو، نازیبا الفاظ سے نوازا جا رہا ہے۔ قتل کی دھمکی کے ساتھ گارڈ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس کو ہاتھ لگاؤ پھر یہ تمہارے ساتھ بھی سو سکتی ہے۔ ان کے کپڑوں کو باہر پھینکنے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔ تا کہ وہ ان دو لڑکیوں کے کپڑوں کو آگ لگا سکے۔ آئی ایس آئی کے ذریعے دونوں لڑکیوں کو اٹھوانے کی دھمکی دی جاتی ہے اور وہ روتی بلکتی معافیاں مانگ رہی ہوتی ہیں۔ ایک لڑکی کا تو پاؤں اس قدر لہولہان ہے کہ پورے گھر میں خون کے نشان دیکھے جا سکتے ہیں۔

لکھنے میں یہ اس قدر تکلیف دہ ہے تو جس دو لڑکیوں کے ساتھ یہ سب کیا گیا ان کی کیا حالت ہوگی؟

یہ ہوتا ہے۔ ریپ کسی کئی اجازت کے بغیر اسلحہ اور گارڈز سمیت دھاوا بول دینا زد و کوب کرنا، اس غیر انسانی رویے کی جتنی مذمت کی جائے اتنا کم ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت اس قدر پدرشاہی نظام کو پروان چڑھا چکی ہے کہ اگر وہ اس زیادتی کا ازالہ کرنا بھی چاہے تو وہ مر تو سکتی ہے۔ مگر ازالہ نہیں کر پائے گی۔ آمنہ عثمان نامی یہ طاقتور اور انتہائی غیر انسانی رویے کی حامل عورت اپنے وڈیو پیغام میں بتاتی ہیں کہ اگر کوئی اور عورت بھی ہوتی تو وہ اس سے زیادہ تباہی کرتی۔

کوئی اس عورت کو کبھی بھی یہ نہیں بتا سکا کہ تباہی کرنے سے بہتر حل علیحدگی یا طلاق بھی ہو سکتا تھا۔ آپ کیسے کسی ایسے مرد کو زبردستی اپنے ساتھ باندھ کر رکھ سکتی ہیں اور دوسری عورت کو قصور وار ٹھہرا کر باقی مردوں کو تحفظ دے رہی ہیں کہ وہ جب چاہیں کسی بھی عورت کو پیسے مادی اشیا کی چمک دکھا کر عورت کو کٹھ پتلی بنا لیں گے۔ طلاق مسئلے کا حل ہے۔ طلاق کا حق جتنا مرد کو ہے۔ عورت بھی اپنے زور بازو پر یہ حق بہت پر امن طریقے سے لے لیتی ہے۔

مگر ہم طلاق نہیں لیں گی۔ ہم مرد کو اپنے ساتھ باندھ کر رکھنا اس کئی زندگی کا احتساب کرنا اپنا پدرشاہی فرض سمجھتی ہیں۔ ہمارا پدرشاہی نظام اس قدر مضبوط ہے کہ ایک امیر کبیر با اثر باپ کی بیٹی کو بھی زندگی گزارنے کے لیے مرد ہی چاہیے پھر وہ اس مرد کو کیسے بھی حاصل کرے وہ ہمارے معاشرے کی بہت ڈاڈھی عورت سمجھی جائے گی جو کسی دوسری عورت کی چٹیا اپنے ہاتھ میں لے گی۔

قندیل بلوچ نے کیا کیا تھا۔ اس نے بھی طلاق لے لی تھی۔ اپنے شوہر کئی زندگی میں اس نے مسلط ہونا قبول نہیں کیا سینہ تان کر اس معاشرے کی غلاظت کو برداشت کیا اور سامنے لے کر آئی جس کی سزا اس نے پدرشاہی نظام کی جیت میں پائی۔

اپنے مرد کی ہوس کا ذمہ دار کسی دوسری عورت کو ٹھہرانا اس منفی پہلو کو اور بھی بڑھانا ہے کہ مرد تو اپنے جذبات پر قابو ہی نہیں رکھ سکتا۔

جہاں آمنہ عثمان نے عظمی خان کو چار بار وارننگ دی کیا وہاں اس نے اپنے شوہر کو بھی وارننگ دی؟ کیا اتنی ہی بار انہوں نے اپنے شوہر سے علیحدگی کی بات کی ہوگی؟ خلع کی درخواست دائر کئی ہوگی؟ یقیناً نہیں کی ہوگی کیونکہ وہ تو مرد ہے۔ اس کی تو خصلت میں ہے۔ بے وفائی لہذا یتیم نہتی لڑکیوں کو دھر لو، عورت کے وجود کو اس معاشرے میں گالی بنا دو ہمیشہ عورت ہی کو قصوروار ٹھہرا کر دیوار کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔

جب اس معاشرے میں سال بھر کئی بچیوں کے ساتھ آپ کے مرد جیسا ہی کوئی مرد زیادتی کر کے مار دیتا ہے۔ تب آپ کو یہ احسن تجویز کیوں نہیں آتی؟

اگر شادی کے تیرہ سال گزر جانے کے بعد دو لوگ ایک دوسرے کے لیے صحیح نہیں ہوتے تو اس کا بہترین حل باہمی رضامندی سے علیحدگی ہوتا ہے۔ نا کہ کسی دوسری عورت کو جان سے مارنے کی دھمکی دینا اور اپنے شوہر کئی وڈیو تک نہ بنانا اس لیے کہ جیسا ہے۔ پتی دیو میرا ہے۔ یہ پدرشاہی نظام کی جیت نہیں تو کیا ہے۔

اس سارے معاملے میں پتی دیو تو ابھی بھی دیو مالائی پہاڑوں میں اعتکاف پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ ماڈرن ریپ اور کتنا آگے تک جائے گا۔ یہ تو پدر شاہی نظام کی جیت طے کرے گی۔
—–
Muqqadas- Rafiq