جو تھا نہ بے نظیر بھٹو نے قائم کیا تھا اسی تھانے نے بینظیر بھٹو کی توہین کرنے والی غیر ملکی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ۔

جو تھا نہ بے نظیر بھٹو نے قائم کیا تھا اسی تھانے نے بینظیر بھٹو کی توہین کرنے والی غیر ملکی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ۔

اسے آپ قسمت کی ستم ظریفی کہیں گے یا سرکاری عہدوں پر بیٹھنے والوں کی مطلب پرستی ۔

پیپلز پارٹی کی رہنما عظمی اوشو ناصر نے متعلقہ تھانے میں درخواست دی تھی کہ غیرملکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور کاروائی کا آغاز کیا جائے کیونکہ غیر ملکی خاتون نے


سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے بارے میں انتہائی گھٹیا اور توہین آمیز ریمارکس دیے ہیں ۔تحریری درخواست میں عظمی ناصر نے موقف اختیار کیا تھا کہ غیر ملکی خاتون نے سوشل میڈیا پر جو ریمارکس دیئے ہیں وہ صحیح نہیں ہیں اور انتہائی متعصبانہ اور بالکل جھوٹے پروپیگنڈے پر مبنی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے لاکھوں کارکنوں اور محب وطن پاکستانیوں کو شدید دکھ صدمہ پہنچا ہے اور انہیں تکلیف ہوئی ہے کیوں کہ بے نظیر بھٹو شہید کی پاکستان کے لیے بہت قربانیاں ہیں انہوں نے جمہوریت کے لیے اور خواتین حقوق کے لئے ساری عمر جدوجہد کی اور شہادت پائی ۔


تحریری درخواست اسلام آباد میں وومین پولیس اسٹیشن کی ایس ایچ او کو دی گئی تھی لیکن انہوں نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ۔