لیاری کے بچوں کو کھیلوں کی جانب راغب کریں گے ۔ گورنرسندھ

لیاری کے بچوں کو کھیلوں کی جانب راغب کریں گے ۔ گورنرسندھ
عید پر لیاری کے بچوں کو کھلونا پستول دینا ایک نئی سازش کا حصہ لگتا ہے ، لیاری کے دورہ کے موقع پر بات چیت

کراچی ( مئی 30 )
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں، ان کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے عید پر لیاری کے بچوں کو کھلونا پستول دینا ایک نئی سازش کا حصہ لگتا ہے لیکن ہم لیاری کے بچوں کو کھیلوں کی جانب راغب کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز لیاری کے دورہ کے موقع پر کیا۔ لیاری کے دورہ کے دوران گورنرسندھ آزاد باکسنگ کلب گئے جہاں انہوں نے بچوں کو باکسنگ گلوز ، فٹبال اور دیگر کھیلوں کا سامان بھی دیا ۔گورنرسندھ 200 کرکٹ کٹس،500 فٹبالز اور 50 جوڑے باکسنگ گلوز سمیت دیگر کھیلوں کا سامان بچوں کو دیا ۔ اس موقع پراراکین قومی و صوبائی اسمبلی آفتاب صدیقی ، عبد الشکور شاد ، حلیم عادل شیخ ، خرم شیر زماں ،اشرف قریشی ، رمضان گھانچی ، ڈاکٹر سعید آفریدی ، عدنان اسماعیل ، زبیر گیلانی اورمحمود مولوی بھی موجود تھے ۔انہوں نے کہا کہ لیاری میں ٹیلنٹ بہت زیادہ ہے یہاں کے نوجوان باصلاحیت ہیں ضرورت ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ہے اس ضمن میں بھرپور کوشش کریں گے کہ اس علاقہ سے ایک بار پھر باکسنگ اور فٹبال کے قومی سطح کے کھلاڑی مہیا کئے جاسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ بڑی محنت سے لیاری میں امن بحال کیا ہے اب ہم اپنے بچوں کو منفی سرگرمی میں ملوث ہوتا نہیں دیکھ سکتے ہیں ہم ان بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار کی بجائے کتابیں اور کھیلوں کا سامان دیکھنا چاہتے ہیں اس کے لئے بھرپور تعاون اور مدد جاری رکھیں گے ان نوجوانوں کو مثبت سرگرمی کی جانب راغب کرنے کے لئے وزیراعظم پاکستان کے کامیاب جوان پروگرام سے بھرپور مالی مدد فراہم کی جائے گی ۔ گورنرسندھ نے کہا کہ لیاری میں فٹبال، باکسنگ، سائکلنگ اور دیگر روایتی کھیلوں کے فروغ کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے اس ضمن میں جہاں اور جب میری ضرورت ہوگی، میں حاضر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ لیاری سے بڑی مشکل سے گن کلچر کا خاتمہ ہواماضی میں اس علاقہ نے بڑی خونریزی دیکھی ہے، اسے واپس نہیں آنے دیں گے کیونکہ لیاری سے گن کلچر کا خاتمہ کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔گورنرعمران اسماعیل نے مزید کہا کہ لیاری کے عوام کے بھرپور تعاون کے باعث علاقہ کو گینگ وار، کلاشنکوف کلچر سے نجات ملی ہے، آج کی کھلونا گن کل کی اصل پستول بن سکتی ہے بچوں میں اس خطرناک رجحان کا فروغ طے شدہ منصوبہ بندی کا حصہ لگتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ لیاری گن کلچر سے پہلے کھیلوں کا گڑھ ہوا کرتا تھا علاقہ سے نکلنے والے فٹبالرز برصغیر کے مشہور ترین فٹبال کلبز اور قومی فٹبال ٹیم سے کھیلتے تھے ،انہوں نے خاص طور پر تقریب میں موجود سابق قومی فٹبالر عبدالکریم بلو چ کا تذکرہ بھی کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ باکسنگ اور سائیکلنگ کے حوالے سے بھی لیاری کا نمایاں مقام تھالیکن بعد میں ایک سازش کے تحت لیاری میں منشیات اور پھر کلاشنکوف کلچر متعارف کروایا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ لیاری سمیت پورے ملک سے منشیات کے خاتمہ کے لئے اینٹی نارکوٹکس فورس اور نارکوٹیکس ڈویژن متحرک کردار ادا کررہے ہیں ان کی ان کاوشوں کو مزید بڑھائیں گے تاکہ منشیات سے چھٹکار ا حاصل ہو سکے ۔ طیارہ حادثہ کے لواحقین کو لاشیں نہ ملنے پر پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ ڈی این اے میں بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے کوشش ہے کہ لواحقین کو جلد از جلد ان کے پیاروں کی لاشیں مل سکیں ہمیں لواحقین کے غم اور کرب کا اندازہ ہے ۔ ٹڈی دل حملہ اور وفاق کے اقدام کے حوالہ سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ ٹڈی کے دل کے خاتمہ کے لئے وفاق پورے ملک میں یکساں اقدامات کررہا ہے اس ضمن میں صوبہ میں ٹڈی دل کے خاتمہ کے لئے اسپرے اور دیگر اقدامات یقینی بنائے جارہے ہیں ۔لیاری کے بچوں نے گورنرسندھ کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا ۔ گورنرسندھ نے اپنے پرتپاک استقبال پر لیاری کے عوام اور خصوصاً بچوں کا شکریہ ادا کیا۔

لیاری میں گینگ وار مافیا کے آغاز سے قبل ، منصوبہ سازوں نے کھلونا بندوقیں صرف نو عمر لڑکوں کے بچوں میں پریکٹس کے لئے تقسیم کردیں۔ اب پھر وہی کھیل لیاری میں شروع ہوا اور بچے آپ کی بندوقوں کے ساتھ گلیوں میں کھیلتا نظر آرہے ہیں۔
پیپلز پارٹی اپنے مضبوط سیاسی ہولڈ ایریا سے محروم ہوگئی تھی اور گینگ وار سے قبل اس علاقے کو ہتھیار ڈال دیا تھا جس نے 2013 کے انتخابات میں پی پی پی کے ٹکٹ پر اپنے ایم این اے اور ایم پی اے منتخب کیے تھے۔ اب وہی عنصر پیپلز پارٹی کے خلاف تھی جو 2018 میں الیکشن ہار گئی۔