تابش دہلوی اور اسلم اظہر ۔۔۔ “پاکستان کا معیاری وقت “

آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو پاکستان سے تقریبا ربع صدی تک اردو خبریں پڑھنے کی وجہ سے میرے والد محترم کو خبروں کی آگاہی کا بہت شوق تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی خبریں باقائدگی سے سنتے تھے ۔ علاوہ ازیں صبح ناشتے سے پہلے اور بعد میں اخبارات کا وسیع مطالعہ روزمرہ کا معمول تھا ۔ اخبار مالکان کی ان سے محبتوں کی وجہ سے کئی اخبارات بطور تحفہ گھر آتے تھے ۔

یہ غالبا ً سن 80 کی دہائی کی بات ہے کہ میں پی آئی اے کی اسلام آباد – کراچی کی پرواز سے واپس رات کو جب گھر پہنچا تو انکو سلام کرنے انکے کمرے میں گیا تو وہ کسی سے ٹیلی فون پر بات کر رہےتھے ۔ میں نے اشارے سے سلام کیا اور وہیں کھڑا ہوگیا ۔ کچھ ہی دیر میں مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر اسلم اظہر سے بات کر رہے تھے ۔ وہ اسلم اظہر سے کہہ رہے تھے کہ انہوں نے آج رات 9 بجے کی خبروں سے پہلے ٹی وی پر ایک سلائڈ دیکھی ” پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم ” تو بھائی کیا اسٹینڈرڈ کا اردو ترجمہ موجود نہیں ۔ کیا ” پاکستان کا معیاری وقت ” نہیں لکھا جاسکتا ۔ والد محترم کہنے لگے ” اسلم میاں حیدرآباد دکن کی جامعہ جو ساتویں نظام میر عثمان علی خاں کے نام پر عثمانیہ یونیورسٹی ہے نے قیام پاکستان تک تمام علوم حتیٰ کہ سائنسی اصطلاحات تک کے اردو میں ترجمے کرکے رکھ دئے تھے ” جناب اسلم اظہر جو تابش صاحب کے بڑے مداح تھے اور احترام کرتے تھے نے اگلے دن سے سلائڈ بدل دی تھی ۔ یہ ساری تمہید مجھے اس لئے باندھنا پڑی کہ پاکستان کے کچھ نجی ٹی وی چینلز آج کل خبروں سے پہلے انگریزی زبان کا استعمال ضرور کرتے ہیں ۔ میں یہاں فی الوقت سماء اور اے آر وائی کا ذکر کروں گا ۔ سماء ہمیشہ خبروں سے پہلے جو بھی وقت ہوتا ہے اسے کچھ It is nine pm اور اے آر وائی سے This news are brought to you by نشر یا ٹیلی کاسٹ کرتا ہے ۔ کیا ان انگریزی الفاظ کی جگہ اردو کے الفاظ نہیں بولے جاسکتے ۔ دوسری بات یہ کہ لفظ news واحد یعنی singular ہے یہ جمع یعنی plural نہیں ہے لہٰذا are کی جگہ is آنا چاہیے ۔ کئی مرتبہ ان چینلز کے ڈائریکٹر نیوز سے اس غلطی کی نشان دہی کی ہے مگر اب اسلم اظہر جیسے لوگ نہیں بلکہ جاہلوں کا ٹولہ بیٹھا ہوا ہے ۔ نہ انہیں خبروں کی اہمیت کا اندازہ ہے کہ کونسی خبر کس ترتیب سے کہاں آنی چاہیے اور نہ ہی بیانیہ (انٹرو) بنانا آتا ہے ۔ ہمارےایک دوست جو پہلے Geo پھر Abtk اور آج کل Hum ٹی وی سے منسلک ہیں Hum ٹی وی کے ایک ٹاک شو میں امریکا کی غلط تاریخ بتا رہے تھے ، وہاں موجود دوسرے شرکاء بھی ان ہی جیسے تھے کسی نے اصلاح نہیں کی ۔ میں نے فون پر انہیں شرمندہ نہیں کیا بلکہ فیس بک پر ان کو بین السطور انکی غلط تاریخ بیان کرنے کی جانب اشارہ کیا تو موصوف برا مان گئے – Hum ٹی وی پر اپنا عہدہ بتاتے ہوئے کہنے لگے کہ میں روز ٹاک شو کا ایک اہم رکن ہوں آپ مجھے امریکی تاریخ بتا رہے ہیں ۔ میں نے ایک دو اردو میں لکھی گئی کتابوں کے نام بتا کر پڑھنے کی درخواست کی تو مجھے اپنی فرینڈ لسٹ سے ا

سعید تابش ایک سابق صحافی ہیں جنہوں نے قومی ایئر لائن میں بھی خدمات انجام دیں