جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے

سنتھیا رچی کے اکاؤنٹ کو چلانے والے صاحب یہ بتا دیں کہ 1999 کے بعد پرویز مشرف کی حکومت میں جب آصف علی زرداری پر بیسیوں مقدمات چلائے جارہے تھے تھے اور حکومت ان کو بار بار سزا دلوانے میں ناکام ہو رہی تھی تو وہ مبینہ گرل فرینڈز کو حکومت اپنی سرپرستی میں لے کر سامنے کیوں نہ لائی جن کو مبینہ طور پر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے حکم پر گینگ ریپ کیا گیا تھا۔ آپ بار بار بےعزت ہونے کے شوقین ہو۔

ہم آج سوال پوچھتے ہیں کہ ان مبینہ خواتین کا تعارف شائع کیا جائے ان کے کوائف مشتہر کیے جائیں اور اگر ممکن ہوسکے تو ان کے بیانات سامنے لائے جائیں اور یہ بات بھی بتائی جائے کہ پرویز مشرف کے دس سال اور موجودہ حکومت کے عرصہ میں وہ خواتین کے لیے آگے کیوں نہیں بڑھ پائیں۔
کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے
آصف علی زرداری کی 1996 میں گورنر ہاؤس لاہور میں گرفتاری کے وقت ان کی دائیں بغلی جیب میں سے دو ٹن سونے کے بسکٹ برآمد ہوئے تھے۔ آصف علی زرداری کی بائیں بغلی جیب میں سے دو ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ برآمد ہوئے تھے۔ یاد رہے اس وقت پانچ سو روپے کا نوٹ بھی نہیں ہوتا تھا۔ کہا گیا تھا کہ یہ نوٹ نئی کرنسی کی شکل میں اسٹیٹ بینک سے براہ راست گورنر ہاؤس لاہور پہنچائے گئے تھے۔
آپ شرم کرو حیا کرو ۔ یہ برآمدگی کہاں گئی بتا دو ۔جب یہ مقدمہ ہی نہیں قائم کیا گیا اور اس معاملہ پر کوئی انکوائری یا ٹرائل نہیں ہوا تو آصف علی زرداری کا یہ پیسہ واپس کیوں نہیں کرتے ۔
آصف علی زرداری میں میں بخاری نامی ایک برطانوی شہری کی ٹانگ سے بم باندھ کر پانچ لاکھ پاؤنڈ تاوان حاصل کیا تھا اس مقدمہ کے حقائق کیوں نہیں سامنے لاتے ہو۔ آصف علی زرداری کو گیارہ سال جیل میں رکھا اور خصوصی عدالتوں میں ٹرائیل کروایا اس مقدمہ میں انہیں سزا کیوں نہیں دلوا سکے تھے ۔
سنتھیا رچی کوئی صحافی نہیں ہیں۔ وہ ایک خوبصورت ماڈل ہیں اور بس ۔ محترم محترمہ بختاور بھٹو پر الزام لگانے کے لیے سنتھیا رچی میں اپنے Twitter اکاؤنٹ پر سٹوری کی. یہ اکاؤنٹ چلانے والا یہ بتائیے کہ اپنی سٹوری کی تصدیق کے لئے اس کے پاس کیا کیا ذرائع تھے۔ ہم بلاشبہ سورس نہیں پوچھ رہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اپنی اسٹوری کی تکمیل کے لئے انہوں نے بلاول ہاؤس کا موقف جاننے کی کوشش کی۔ اپنی اسے غیرتی پر مبنی کہانی کو تقویت دینے کیلئے کوئی فوٹو شاپ تصاویر ہی بنا لیتے ۔


سنتھیا رچی کے نام کے پیچھے چھپنا بذات خود تمہاری دلیل کی کمزوری ہے۔ کھل کر سامنے آؤ ۔ حوالدار صاحب۔
اس پورے سیناریو میں سب سے مزے کی بات یہ ہے ۔ کہ حوالدار صاحب یہ بھول گئے کہ سنتھیا رچی گزشتہ دو سال سے پاکستان میں مقیم ہیں اور نوے کی دہائی میں جب کی مبینہ کہانیاں یہ لکھ رہی ہیں اس وقت وہ ماں کی گود میں فیڈر پیتی تھیں۔
اگر اس وقت ماں کی گود میں انہیں پاکستان کے واقعات اور سیاسی اختلافات جاننے کے بارے میں اس قدر دلچسپی تھی تو یقینی طور پر انہیں دس سال پہلے نوبل پرائز مل جانا چاہیے تھا۔

This- is-an- opinion. More- will- welcome- about -it.