کرونا کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں کام کرتے ہوئے میرا آج دوسرا دن ہے

اس وقت رات کے دو بج رہے ہیں کرونا کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں کام کرتے ہوئے میرا آج دوسرا دن ہے. 8 بجے سےاب تک کے یہ 6 گھنٹے انتہائی کٹھن گزرے ہیں 3 ماسک، حفاظتی چشمے، کٹ، گاؤن، جوتوں اور سر پہ کوور پہننے کے کچھ دیر بعد ہی سانس لینا دشوار اور کپڑے پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں. یہاں زندگی اور موت کی کشمکش جاری ہے اور کرونا جم کر اپنی بازی کھیل رہا ہے. ایک طرف میرے نہایت قابل احترام استاد اور بہت پیارے بھائی کے والد کی تابوت میں بند لاش ہے تو دوسری طرف یہاں داخلے کے اہل اور خواہشمند افراد کا تانتا بندھا ہوا ہے. میں ایک نظر ان کے دکھ اور رنج سے بھرے ہوئے چہرے کو دیکھتا ہوں تو دوسری طرف کسی انتہائی تشویشناک حالت میں لائے گئے مریض کا ایکسرے. کہیں انہیں دلاسا تو کہیں مریض کے لواحقین کو تسلی کے جگہ ختم ہے یہاں آپ فلحال ایمرجینسی میں انتطار کریں. ایک طرف میں اپنی ایک ساتھی ڈاکٹر اور اس کے والد کی سیمپلنگ کے لیے کال لکھ رہا ہوں تو دوسری طرف اسٹاف سے ان کو دوا لگانے کی تگ و دو میں ہوں.ایک طرف ایمرجینسی میں انتہائی گرمی اور رش میں میرے دو بھائیوں جیسے دوست جو اپنے کام میں مصروف ہیں ان کو مریضوں کی ادویات لکھوا کے آیا ہوں تو دوسری طرف یہاں 5 بیڈز کی جگہ پے ساتواں مریض داخل کروا رہا ہوں. انتہائی نگہداشت میں استطاعت سے زیادہ مریض ہو چکے ہیں ایک تیس سال کا نوجوان سانس کی شدید دشواری کا شکار ہے تو ایک پچاس سال کی خاتون اپنی آخری سانسوں پر ہے. اس وقت سول اسپتال کی ایمرجنسی میں انتہا کا رش ہے، کرونا کے مریض ایک کے بعد ایک آتے جا رہے ہیں ان کے لئے مختص کی گئی جگہ ایک دن پہلے کھلی اور 24 گھنٹوں کے اندر اندر بھر چکی ہے. غلام محمد آباد اور الائیڈ اسپتال بھر چکے ہیں، اب بیڈز تب ہی خالی ہوتے جب کوئی موت ہوتی ہے اور اب تو اس کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا ہر گھنٹے میں ایک سے دو لوگ فیصل آباد کے تینوں بڑے اسپتالوں میں جان کی بازی ہار رہے ہیں. کام کرنے والوں کے حالات سن لیں یہاں میں ہوں جو گھر کا واحد میل میمبر ہوں. مجھے اپنی ماں اور اپنی بہنوں کی خود سے زیادہ فکر ہے کیونکہ ان کی دنیا میرے ہی گرد گھومتی ہے مجھے دو ماہ ہو چکے ان سے علیحدہ رہتے ہوئے. میرے دو دوست جو ایمرجینسی میں کام کر رہے ہیں ایک اپنے والد کو شدید بخار میں چھوڑ کے آیا ہے تو دوسرے نے کل اپنی جیب سے اپنے گھر والوں کے کرونا کے ٹیسٹ کروائے ہیں. ایک کو فکر ہے کہ والد کو بھی یہی بیماری نہ ہو تو دوسرا اپنے گھر والوں کے نتائج کے لیے فکر مند ہے. ہمارے اس اسپتال کے تین وارڈز میں 7 سے 8 ڈاکٹرز اور ان کی پوری کی پوری فیملیز اس مہلک وبا کا شکار ہیں. ہم میں سے جو بھی ڈیوٹی پہ ہے وہ حفاظتی انتظامات کے لیے کبھی انتظامیہ سے لڑتا ہے تو کبھی کسی مریض کے لیے موت سے. مگر سب موجود ہیں اپنا کام کر رہے ہیں سب کو اپنے گھر والوں سے پہلے یہاں داخل مریضوں کی فکر ہے. ہمیں نہیں معلوم ہم میں سے کون بچے گا اور کون اس کا شکار ہو گا مگر اپنے لوگوں کے لیے سب عید کے دنوں میں بھی علاج میں مصروف ہیں. یقین مانیں اگر یہ سب لوگ جو آپ کے اور بیماری کے درمیان دیوار بن کے کھڑے ہیں بیمار ہو کر گر گئے تو اس ملک کا نظام صحت تباہ ہو جائے گا. ایک ایک کر کے یہ سب فرنٹ لائنرز اس کا شکار ہوتے رہے تو کل یہاں شاید حفاظتی سوٹ بھی ہوں گے، سیلوٹ کرنے کے لئیے یہ قوم بھی ہو گی، علاج کے منتظر مریض بھی ہوں گے مگر آپ کے یہ فرنٹ لائن واریرز نہیں ہوں گے. خدارا اب بھی سمجھ جائیں اپنے لیے لڑنے والے ان لوگوں کی مدد کریں، گھروں میں رہیں، حفاظتی تدابیر اپنائیں. اب بھی نہ ہوش کی تو آنے والے دنوں میں خدا نہ کرے ہم بھی اٹلی اور امریکہ کی طرح لاشوں کے لیے جگہ ڈھونڈتے پھریں گے. ہم میں سے کوئی بھی اضافی تنخواہ یا سیلوٹ کا خواہشمند نہیں، خواہش ہے تو بس اتنی سی کہ آپ لوگ ہماری سن لیں ایک قوم بن کے اس وبا سے اپنا دفاع کر لیں، ہمیں خود کو بھی بچانا ہے اور اپنے قومی سرمائے کو بھی. ہم اس وبا سے نمٹنیں میں کامیاب ہو گئے تو یہی آپ کی طرف سے ہمیں اور اس سبز سفید جھنڈے کو سیلوٹ ہو گا.

از
محمد ارسلان
پی جی آر میڈیکل یونٹ 4
( فیصل آباد اور چنیوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک ڈاکٹر)

عابد حسین قریشی