عربوں کو اونٹ کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان کی طبیعت میں نخوت ، غيرت اور سختی کا عنصر بہت پایا جاتا ہے

عربوں کو اونٹ کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان کی طبیعت میں نخوت ، غيرت اور سختی کا عنصر بہت پایا جاتا ہے …

ترکوں کو گھوڑے کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں طاقت ، جراءت اور اکڑ پن کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے….

انگریزوں کو خنزیر کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں فحاشی, بدکرداری وغیرہ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے ….

حبشی افریقی بندر کھاتے ہیں اس لیے ان میں ناچ گانے کی طرف میلان زیادہ پایا جاتا ہے….

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
جس کو جس حیوان کے ساتھ انس ہوتا ہے اس کی طبیعت میں اس حیوان کی عادتیں غیر شعوری طور پر شامل ہوجاتی ہیں… اور جب وہ اس حیوان کا گوشت کھانے لگ جائے تو اس حیوان کے ساتھ مشابہت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ….

ہمارے زمانے میں فارمی مرغی کھانے کا رواج بن چکا ہے… چنانچہ ہم بھی ان فارمی مرغیوں کی طرح صبح و شام چوں چوں تو بہت کرتے ہیں لیکن ایک ایک کرکے ہمیں ﺫبح کردیا جاتا ہے … فارمی مرغی کا گوشت کھانے کی وجہ سے ہم میں سستی کاہلی کی، ایک جگہ بیٹھے رھنے کی ،زندگی میں دوڑ دھوپ نہ کرنے کی، سر جھکا کر چلنے کی، مزاحمت نہ کرنے کی،زیادتی برداشت کرنے کی اور پستی اور ذلت میں رہنے کی عادتیں پیدا ہوچکی ہیں.

محمد منشاء ( دبئی )