ایک انگریز کو بچپن سے ہی یہ خوف تھا کہ جب وہ سوتا ہے تو اس کے بیڈ کے نیچے کوئی ہوتا ہے

پاکستانی ڈاکٹر
! !!!! !! !! ایک انگریز کو بچپن سے ہی یہ خوف تھا کہ جب وہ سوتا ہے تو اس کے بیڈ کے نیچے کوئی ہوتا ہے لیکن بڑا ہونے کے باجود اس کا یہ خوف دور نہ ہوا.
بڑی سوچ بچار کے بعد وہ ایک ماہر نفسیات کے پاس گیا اور اسے اپنا مسئلہ بتایا کہ کوئی حل بتائیں نہیں تو میں اس خوف سے پاگل ہو جاؤنگا.
ماہر نفسیات نے اسے کہا کہ مجھ سے علاج کروا لو. ایک سال میں تمہارا یہ مسئلہ گارنٹی کے ساتھ حل ہو جائے گا. بس ہفتے میں تین دن تمہیں آنا ہو گا میرے پاس.

انگریز نے پوچھا اور آپ کی فیس کتنی ہو گی.
100 پاونڈ فی وزٹ، ماہر نفسیات نے بتایا.

ہمممممم، چلیں میں سوچ کر بتاوں گا، انگریز بولا.
پھر کوئی ایک سال بعد اس مریض اور ماہر نفسیات کی کسی فنکشن پر ملاقات ہوئی تو ماہر نفسیات نے پوچھا کہ تم آئے نہیں تھے میرے پاس.
گورے نے جواب دیا کہ میرا وہ مسئلہ میرے ایک پاکستانی دوست نے صرف “ایک برگر اور ایک بوتل” پر دور کروا دیا تھا اور آپ کی فیس کے پیسے بچا کر میں نے گاڑی بھی خرید لی ہے 😎

ماہر نفسیات نے بڑی حیرانی سے پوچھا: بھئی اس نے ایسا کیا علاج بتایا مجھے بھی بتاؤ پلیز
گورا: پاکستانی دوست نے مشورہ دیا کہ بیڈ بیچ دو اور فرش پر گدا ڈال کر سویا کرو.

محمد عمران ( لاہور )