جب زندگی میں پہلی بار چائے کے باغ دیکھے

آج وہ دن یاد آیا جب زندگی میں پہلی بار چائے کے باغ دیکھے تھے ۔


یہ شاید پانچ چھ سال پرانی بات ہے ۔ میں اور عالیہ ، کولمبو سے نوارا ایلیا جا رہے تھے جسے سری لنکا کا نسبتا” سرد ہل اسٹیشن کہا جاتا ہے ۔ راستے میں ہی چائے کے باغ دیکھنے تھے جن کا ذکر اپنی نوعمری میں اے حمید صاحب کے فکشن میں پڑھا تھا ۔ یہ باغ سطح سمندر سے سات ہزار فٹ کی بلندی پر ہی پھلتے پھولتے ہیں اور انہیں سالانہ کم از کم پچاس انچ کی بارش درکار ہوتی ہے ۔


میرے وہم و گمان میں نہ تھا کہ یہ باغات اتنے بڑے ہوں گے ۔ وہ بے حد سبز باغ ، وادیوں میں تھے اور سامنے نظر آنے والی پہاڑیوں پر اور ان کی ڈھلانوں پر اور ان کے پیچھے سے جھانکنے والی پہاڑیوں پر تھے اور تا حد نگاہ پھیلے ہوئے تھے اور گاڑی ، ان کے درمیان بنی سڑک پر دوڑتی جاتی تھی مگر وہ باغ ختم نہ ہوتے تھے۔


پتا چلا کہ دنیا کو چائے فراہم کرنے والوں میں سری لنکا چوتھے نمبر پر ہے ۔ چین ، بھارت اور کینیا اس سے آگے ہیں۔ مگر یہاں کی چائے کی مہک خوب ہے ۔ سری لنکا میں چائے کے سب سے بڑے باغات میک وڈز نامی کمپنی کے ہیں ۔ دوسری کمپنیوں کے باغات بھی ہیں ۔ میک وڈز والوں نے اپنا نام ان پہاڑیوں پر اسی طرح نصب کیا ہوا تھا جیسے امریکا میں ہالی وڈ کا نام دکھائی دیتا ہے ۔


بیشتر فیکٹریوں میں سیاحوں کو چائے کی پتی کے تیار ہونے کا پورا عمل دکھایا جاتا ہے ، پورا ٹور کرایا جاتا ہے ، خوب صورت ٹی شاپس میں تازہ چائے پلائی جاتی ہے ۔ چاہیں تو وہاں سے چائے خرید بھی لیں ۔ نہ خریدیں تو بھی کوئی بات نہیں ۔
ہم جس فیکٹری میں گئے ، وہاں داخل ہوتے ہی ایک دیوار سامنے آ جاتی تھی جس پر لکھا تھا ۔” جس آدمی کے بدن میں چائے نہیں ہے ، وہ حسن اور سچائی کو سمجھنے کے قابل نہیں ہے۔”

میرا خیال تھا کہ چائے کا پودا کوئی چار پانچ فٹ اونچا تو ہوتا ہو گا ۔ پتا چلا کہ محض دو ڈھائی فٹ اونچا ہوتا ہے ۔ پودے میں سے بس تازہ اگی ہوئی تین چار چھوٹی چھوٹی پتیاں چنی جاتی ہیں ۔ پھر ایک ڈیڑھ ہفتے بعد مزید اگ آنے والی دو تین تازہ پتیاں ۔ پودے کے باقی (اور نسبتا” بڑے) پتوں کو ہاتھ بھی نہیں لگایا جاتا ۔
ان تا حد نظر پھیلے باغات سے یہی ننھی ، تازہ پتیاں یوں جمع کی جاتی ہیں جیسے قطرہ قطرہ دریا بنانا مقصود ہو ۔ اور قطرہ قطرہ واقعی دریا بن جاتا ہے کیونکہ اس طریقے سے لگ بھگ 35 کروڑ کلوگرام چائے حاصل ہوتی ہے ۔ پتا نہیں اس کے کتنے ٹن بنتے ہیں ۔
زندگی بھر مجھے یقین رہا کہ گرین ٹی اور بلیک ٹی دو مختلف پراڈکٹس ہیں جن کی آپس میں کوئی رشتہ داری نہیں ہے ۔ سری لنکا میرے یقین کا مدفن ثابت ہوا ۔ پتا چلا کہ دونوں میں سگی رشتہ داری ہے ۔ چائے کے پودے کی ایک ہی سی پتیوں سے گرین ٹی بھی بن سکتی ہے اور بلیک ٹی بھی ۔ عرصے تک افسوس رہا ۔
چائے کی لاکھوں ٹن پتیاں چن لی جاتی ہیں ۔ انہیں باغات کے درمیان ہی بنی ہوئی فیکٹریوں میں قدرتی طریقے سے تھوڑا سکھایا جاتا ہے تاکہ اندر موجود نمی کچھ کم ہو ۔ پھر ان کروڑوں پتیوں کو گھمایا ، ہلایا ، جلایا جاتا ہے تاکہ وہ ذرا سی چٹخ جائیں اور ان کے اندر چھپی خوشبو کو باہر نکلنے کا راستا ملے ۔
پھر ہلکی حدت اور نمی سے آکسیڈائزیشن کا عمل شروع ہوتا ہے ۔ گرمی پیدا کرنے کے لئے بڑے بڑے تنے سلگائے جاتے اور ان پر دھیرے دھیرے روسٹ ہونے والی چائے کی پتیوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے ۔ سبز پتیوں کا رنگ بدلتا جاتا ہے ، فرمینٹیشن کا عمل مکمل ہونے لگتا ہے جس کے بعد حتمی فائرنگ پراسیس کا مرحلہ آ جاتا ہے جہاں آکسیڈائزیشن کا عمل روک دیا جاتا ہے اور چائے کی پتیوں کو پہنچائی جانے والی گرمی سے طے ہوتا ہے کہ کون سی چائے بنائی جا رہی ہے ۔
میں نے زندگی میں کبھی چائے سے لطف اندوز ہوتے وقت ایسی باتوں کے بارے میں نہ سوچا تھا ۔
وہاں ہم نے ایک ہی جیسی پتیوں سے کئی طرح کی چائے بنی دیکھی ۔ پیکو چائے ۔اورنج پیکو چائے ۔ گولڈن ٹپس چائے ۔ سلور ٹپس چائے ۔ سبز چائے ۔ یہ جان کر جھٹکا لگا کہ جسے ہم بلیک ٹی کہتے ہیں وہ دراصل اورنج پیکو ہوتی ہے ۔ اور یہ جو سبز چائے ہوتی ہے اس کی پتیوں کو سب سے کم روسٹ کیا جاتا ہے ۔
آج لاک ڈاون کی بیزاری کے دنوں میں ، چائے کے باغات کی شاداب وادیوں کی پرانی تصویریں دیکھتے ہوئے یہ دن یاد آیا ۔ ایسے دن ہی ان دنوں سہارا فراہم کرتے ہیں

from-Akhlaq-Ahmed-FB- wall