سنتھیا۔ ڈی۔ رچی ۔۔۔۔ کیا واقعی وہ ایک پاگل گوری جاسوس ہے ؟

سنتھیا۔ ڈی۔ رچی ۔۔۔۔ کیا واقعی وہ ایک پاگل گوری جاسوس ہے ؟

وہ ایک خوبصورت غیر ملکی ٹریولر ہے جو دستاویزی فلموں کی پروڈیوسر کی حیثیت سے پاکستان میں تاریخی اور ثقافتی ورثے کو سمجھنے اور اس پر دنیا کو اپنی دستاویزی فلمیں دکھانے کے لئے کام کر رہی ہے حکومت پاکستان کی جانب سے اسے پاکستانی ثقافتی اور تاریخی ورثے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوششوں میں مدد فراہم کی جا رہی ہے جس طرح ان تمام لوگوں کو مدد فراہم کی جاتی ہے جو پاکستان آکر یہاں کے تاریخی ورثے کو دنیا کے سامنے نمایاں کرنے کے خواہشمند ہیں ۔

لیکن یہ خاتون آپ پاکستان میں تنازعات کی زد میں آ چکی ہیں ان کی شخصیت دن بدن متنازعہ ہوتی جارہی ہے کیونکہ اس خاتون نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کچھ ایسی باتیں اور ٹویٹس کیے ہیں جن پر پاکستان اور پاکستان کے باہر کافی اعتراضات اٹھائے ہیں اور اس خاتون کے ایجنڈے مقاصد اور سرگرمیوں پر سوالیہ نشانات لگائے جارہے ہیں خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی کارکنان اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس کے خلاف شکایات بھی سامنے آئی ہیں اعتراضات بھی اٹھائے ہیں اور اس خاتون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے جس کے جواب میں اس خاتون کا دفاع کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد بھی میدان میں کود پڑی ہے جبکہ یہ خاتون خود بھی ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے اور اپنی باتوں پر قائم رہنے اور انہیں دوہرانے کے عزم کا اعادہ کرتی نظر آرہی ہے جس کی وجہ سے خرچہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کوئی مزید خراب صورتحال پیدا نہ ہو جائے ۔


اس غیر ملکی خاتون نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے حوالے سے کچھ ایسے ریمارکس دیے ہیں اور ان کی پرائیویٹ لائف کے بارے میں کچھ سنسنی خیز انکشافات کرنے کا دعوی کیا ہے جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کا ردعمل آنا ایک فطری اور سیاسی بات ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شیری رحمان نے ان کے ریمارکس کو انتہائی نازیبا قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے جبکہ شازیہ عطا مری نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اس غیر ملکی خاتون کی ٹویٹ انتہائی بکواسات گھٹیا ہے

سوال یہ ہے کہ یہ غیر ملکی خاتون کس مقصد کس ایجنڈے کے تحت پاکستان آئی ہوئی ہے کسی کو اس کے ارادوں کا پتا نہیں ہے اداروں کو معلوم کرنا چاہیے کہ اس خاتون نے مسلم دنیا اور پاکستان کی پہلی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے خلاف گھٹیا اور غلیظ مواد پر مبنی ٹوئیٹ کیسے کیے اور اس کے خلاف کیا کاروائی کی گئی ہے ۔جبکہ ماریہ اقبال ترانہ نے کہا ہے کہ میں اسے عدالت لے کر جاؤں گی اور اسے ثابت کرنا پڑے گا جو کچھ نظیر بھٹو کے بارے میں ٹویٹ کیا اور آئندہ ایسے جرت نہیں ہوگی کہ کسی خاتون کے بارے میں اس طرح کے ریمارکس دے سکے ۔جبکہ رچی نے اس پر کمنٹ کیا کہ تمہاری لیڈر کوئی saint نہیں جو اس کے خلاف کوئی بات نہیں کی جاسکتی اگر مزید کچھ انکشاف کیا تو خود پی پی پی کی اپنی قبر کھدے گی۔ سوشل میڈیا پر ایک تعارف میر محمد علی خان نے ٹویٹ کیا ہے کہ دس سال سے ملک میں رہنے والی اور ہمارے لوگوں کی اچھی باتوں کو پرموٹ کرنے والی اور کسی ادارے کو نہ لوٹنے والی رچی کو کیا یہ اختیار بھی نہیں کہ وہ ہمارے ملک کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر سکے جبکہ دوسری جانب ناریل کی طرح باہر سے براؤن اور اندر سے سفید وہ لوگ ہیں جو ملک لوٹ رہے ہیں اور اپنے خیالات کو ہم پر تھوپ رہے ہیں ۔

رچی کے اکاؤنٹ پر پیپلزپارٹی کو پرانی تاریخ یاد دلاتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی نے سابق وزیر اور پی ٹی آئی کے سابق لیڈر معراج محمد خان پر بھٹو دور میں پولیس تشدد کیا اور ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی پیپلزپارٹی کے سابق لیڈر جے اے رحیم اور ان کے بیٹے کو پولیس کسٹڈی میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور باپ بیٹے کو ایک دوسرے کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اسی طرح بھٹو دور میں مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل جن سے آپ لاکھ نظریاتی اختلاف کر سکتے ہیں لیکن بھٹو دور میں میاں طفیل کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور یہ باتیں بھٹو دور کے خاتمے پر ضیاء الحق کے دور میں سامنے آئی ۔ایک سوشل میڈیا صارف الرحمان کے مطابق وہ پیپلزپارٹی ایف آئی اے سائبر وِنگ سے رجوع کر رہی ہے تاکہ نامی خاتون کے ریمارکس کو روکا جائے ۔
ایک اور صارف نے اسے جاگیردار بمقابلہ پاگل گوری جاسوس قرار دیا ہے جبکہ نامور صحافی سرل المیڈا نے اس خاتون کو الٹی وومن قرار دے دیا ہے ۔
رچی کے بعض ٹویٹس پر حیرت ہوتی ہے اور یہ تاثر ابھرتا ہے کہ کیا اس کے اکاؤنٹ کو کوئی اور بھی استعمال کر رہا ہے ۔
مثال کے طور پر ایک جگہ وہ اپنے ٹویٹ کا آغاز ان الفاظ سے کرتی ہے ۔
ایک سیکنڈ چاچا ۔۔۔۔۔۔شہباز شریف کے ٹوئٹ پر اس کا کمنٹ کسی طرح آتا ہے اور تاثر ابھرتا ہے کہ یہ اکاؤنٹ کسی اور کے بھی استعمال میں ہے ۔

ایک صارف نے لکھا کہ وہ ایک پیسے لینے والی لڑکی ہے اسے صرف پیسوں سے غرض ہے پے پال پر رقم بھیج دو اور جو چاہے ٹویٹ کر آلو جس کے خلاف چاہے باتیں کرا لو ۔

ایک اور جگہ ٹویٹ کرتی ہے کہ پی ٹی ایم روسی صحافیوں کو استعمال کر رہی ہے ویسٹرن ذرائع اور واضح اینٹی رشیا ایجنڈا ہے ہیومن رائٹس ادارے پی ٹی ایم کے بارے میں انویسٹی گیٹ کریں ۔

بچی نے پاکستانی ٹیلی ویژن کے باعث پروگراموں میں بھی شرکت کی ہے اور بعض انٹرویوز بھی دیے ہیں جس میں وہ اردو کے چند جملے بولتی ہوئی نظر بھی آ رہی ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ اس نے پاکستان میں رہ کر کچھ اردو اور مقامی زبانوں کے جملے بھی سیکھ لیے ہیں جنہیں وہ اپنے ٹویٹ میں یا گفتگو میں استعمال کرنے لگی ہے لیکن یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ وہ صرف پیپلز پارٹی اور پی ٹی ایم کو ہی ٹارگٹ کیوں کر رہی ہے ۔


ایک جگہ وہ لکھتی ہے کہ پی پی پی اور پی ٹی ایم اپ سیٹ ہی ہماری ٹیمیں ریاست کے خلاف ان کے الائنس کا سچ جاننے کے قریب ہیں ہم پی ٹی ایم کی مالی امداد یونیورسٹی گیٹ کر رہے ہیں افغانستان میں انکی ٹریولنگ کون فنڈنگ کرتا ہے ویلیاں کون منع کرتا ہے فوٹوشاپ تصاویر کے ذریعے تحریک کو بہت بڑا دکھایا جاتا ہے ۔اس طرح کے ٹویٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ رچی کے ساتھ کوئی اور بھی ہیں جو پیپلز پارٹی اور پی ٹی ایم کو ٹارگٹ کر رہا ہے ۔
سوشل میڈیا پر یہ معاملہ کافی گرم ہے اور آنے والے دنوں میں لگتا ہے کہ سوال سے کوئی مزید خبریں سامنے آ سکتی ہیں ۔
رچی نے سندھ سے تعلق رکھنے والی باز خواتین کی کچھ پوسٹس کا حوالہ بھی دیا ہے جن میں پیپلزپارٹی کی حکومتی کارکردگی پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں اور سندھ کے عوام کی محرومیوں اور مسائل کا ذکر کیا گیا ہے جس پر چین نے پیپلز پارٹی کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ان مسائل کو حل کرو معاملات کو درست کرو پھر مجھ سے بات کرو ۔
Salik-Majeed-for -jeeveypakistan.om