کورونا وائرس نے روٹی بھی چھین لی، امریکہ میں کروڑوں شہری بے روزگار

نئے کورونا وائرس کوویڈ 19نے لاکھوں افراد کی جان لینے کے ساتھ ساتھ کروڑوں لوگوں کا روزگار بھی چھین لیا، دنیا بھر میں اب تک کروڑوں افراد بے روزگار ہوکر گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے امریکی محکمہ محنت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے مزید 21 لاکھ افراد نے اسے بیروزگار ہونے سے متعلق آگاہ کیا ہے اس طرح مارچ سے اب تک ذریعہ آمدن کھونے والے امریکیوں کی تعداد چار کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔

امریکی میگزین واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 21 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں 33 لاکھ افراد نے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دی تھی۔ اس کے بعد ہر ہفتے یہ تعداد بالترتیب 69 لاکھ، 66 لاکھ، 52 لاکھ، 44 لاکھ، 38 لاکھ، 31 لاکھ، 27 لاکھ، 24 لاکھ اور 21 لاکھ رہی۔ اس وقت محکمہ محنت کے ریکارڈ کے مطابق 4 کروڑ 7 لاکھ افراد کے پاس حکومت کی امداد کے سوا آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔

معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ ضروری نہیں کہ لوگ اسی ہفتے ملازمتوں سے نکالے گئے ہوں۔ گزشتہ ہفتوں میں داخل کی گئی درخواستوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ریاستیں انہیں نمٹا نہیں پارہی تھیں امکان ہے کہ ان درخواستوں کو اب شمار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے بیروزگار ہونے کا سلسلہ وسط مارچ میں شروع ہوا تھا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اب تقریباً تمام ریاستوں نے بندشوں میں کمی کردی ہے اور جزوی طور پر کاروبار کھلنا شروع ہوگئے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں معیشت کو بحال ہونے میں طویل عرصہ لگے گا۔

سرکاری اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کے ایک چوتھائی سے زیادہ کام کرنے والے بیروزگار ہوچکے ہیں۔ ریاست نیواڈا میں ان کی شرح 26٫7 اور فلوریڈا میں 25 فیصد ہے۔ سب سے بڑی ریاست کیلی فورنیا میں 20٫6 فیصد ورک فورس گھر پر بیٹھی ہے۔

Courtesy Ary News