عبدالحفیظ کاردار بھٹو کے سرکاری کن ٹٹے افتخار تاری سے کیسے محفوظ رہے؟

اقبال دیوان –
———–
ڈاکٹر محمد اجمل کی نفسیات دانی کے بھٹو صاحب کے جاہ و حشم سے تصادم کی کہانی شائع ہوئی تو عزیزم آثر اجمل نے تصحیح کر دی۔ ان کی بات درست ہے۔ بھٹو صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو سیکرٹری تعلیم کے عہدے سے ہٹائے جانے کا حکم دیا تھا لیکن

Iqbal Dewan

اس سے پہلے کہ یہ حکم سرکاری نوٹیفیکیشن تک پہنچتا، بھٹو صاحب نے اپنی رائے پر نظر ثانی کرتے ہوئے حکم واپس لے لیا تھا۔ دراصل ڈاکٹر ظفر الطاف کے اسلام آباد ایف ایٹ والے گھر میں 1978ء کی جس نشست کا ذکر ہو رہا تھا، وہاں ایک بے تکلف دوستانہ ماحول میں یہ ذکر چل نکلا تھا کہ بھٹو صاحب کس سے، کس بات پر ناراض ہوئے؟ آپ جیسے صاحبان نظر جانتے ہیں کہ ایسی نشستوں میں تحقیقی مقالے جیسی مین میخ کی جگہ نہیں ہوتی۔ اور جب یہ گفتگو ہو رہی تھی تو حاضرین مجلس کے لئے واقعاتی حقائق یوں تازہ تھے کہ ان تفصیلات کا کم و بیش سب کو علم تھا کہ ڈاکٹر اجمل کو بھٹو صاحب نے نہیں بلکہ ضیا الحق نے عہدے سے ہٹایا تھا۔ اور کیوں ہٹایا تھا، یہ آپ کو عزیزی آثر اجمل نے بتا دیا۔ ایک ٹکڑا ہم بھی لگا دیتے ہیں کہ کسی شخصی اونچ نیچ سے قطع نظر سیاسی حکومت میں گاہے گاہے فیصلوں پر نظر ثانی کا امکان بہرحال موجود ہوتا ہے۔ “مارشل لا کے صحرا میں یہ پھول نہیں کھلا کرتے”۔ یہ جملہ میرا نہیں، بریگیڈیئر صدیق سالک کا ہے، Witness to Surrender سے اڑایا ہے۔ بریگیڈیئر صدیق سالک کا ذکر آتا ہے تو بے ساختہ منیر نیازی یاد آ جاتے ہیں۔

تھی وطن میں منتظر جس کی کوئی چشم حسیں

وہ مسافر جانے کس صحرا میں جل کے مر گیا

Pakistan tour manager and former Pakistan and India cricketer Abdul Hafeez Kardar, photographed in the players’ dining room at Edgbaston, Birmingham, circa June 1962. He played three Tests for India during the 1946 tour of England, then captained Pakistan for their first 23 Test matches. (Photo by Ken Kelly/Popperfoto via Getty Images/Getty Images)

جو کڑیل جوان کلکتہ کے بلیک ہول اور آگرہ کے جنگی قیدی کیمپ سے سلامت لوٹا تھا، اس کی قسمت میں ستلج کے مغربی کنارے پر لودھراں کی بالو ریت میں سوختہ جانی لکھی تھی۔ دیکھیے ہم عمر رفتہ کی تتلیوں کے تعاقب میں چھوٹے چھوٹے قصے کہانیوں کی مدد سے اپنا احوال تو لکھنے بیٹھے ہیں، ہمیں سیاسی تاریخ کی شکنیں درست کرنے میں چنداں دلچسپی نہیں۔ ہمارے لئے یہی خوشی بہت ہے کہ آپ جیسے عقاب نگاہ پڑھنے والوں سے واسطہ پڑا ہے۔ جہاں کوئی، حکایت واقعے سے ہٹتی نظر آئے، بے تکلف نشان دہی کر دیجئے۔ ہم ایسے ضدی نہیں کہ غلطی پر اڑ جائیں۔

سادہ پرکار ہیں خوباں غالب

ہم سے پیمان وفا باندھتے ہیں

تو چلئے، 1978 کی اسی دوپہر میں جہاں اس داستاں کے کردار دوپہر کے کھانے پر موتی لٹا رہے تھے اور اور آپ کا یہ بازویل (Boswell) داستان گو موجود تھا۔ ظاہر ہے دوسرا سوال اب ڈاکٹر اجمل کی جانب سے آنا تھا کہ کاردار صاحب سے بھٹو کی ناراضی کا سبب کیا بنا۔ وہ تو آپ کو ہیرو اور اسکپر کہا کرتے تھے۔ کہنے لگے ”جب بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو میری مرضی یہ تھی کہ مرکز میں وزارت کھیل اور تعلیم کا قلمدان میرے پاس ہوتا۔ ایک امکان یہ تھا کہ آئل اینڈ گیس کے حوالے سے بیرونی ممالک میں میرے تعلقات کو جانتے ہوئے وزیر اعظم مجھے اپنا مشیر خاص رکھتے۔ “مجھے بھٹو نے صوبائی وزیر زراعت بنا دیا۔

تعلیمی اداروں کو قومیانے کی میٹنگ میں لاہور میں مجھے بھی بٹھالیا۔ جب سیکرٹری ڈاکٹر طارق صدیقی نے، جو سن پچپن کے بیچ کے سی ایس پی تھے، اس تجویز سے جدا حکومت کا کردار معاونت اور نگرانی یعنی ریگولیٹری رول رکھنے کا پالیسی اشارہ دیا تو بھٹو نے اسے اپنی مخالفت جانا اور ڈاکٹر طارق صدیقی (جن سے بھٹو صاحب پہلے کچھ خاص واقف نہ تھے) کے بارے میں کچھ تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا تو میں نے بھی بھرے اجلاس میں کہہ دیا کہ وزیر اعظم جتنا میں ڈاکٹر صدیقی کو جانتا ہوں تو اس کی قابلیت کا ہم میں کوئی بھی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ تعلیم کے بارے میں وہ جتنا کچھ اکیلا جانتا ہے، ہم اتنا سب مل کر بھی نہیں جانتے۔

کاردار صاحب کہنے لگے کہ میرے ذہن میں وہ ممبئی والا Hero-Worshipping, Wide-eyed Bhutto تھا۔ اس پر ڈاکٹر اجمل کہنے لگے اقتدار کی بلندی پر جاکر آکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس سے سر چکرانے لگتا ہے۔ ہم سب بھول گئے کہ بھٹو ایک شو بوائے قسم کا بے اصول جاگیردار تھا۔ اس کا ظاہری دکھاوا (demeanor) ایک قسم کا کیموفلاج تھا مگر deep down he was an insecure despot (وہ اپنی شخصیت کی گہرائی میں ایک غیر محفوظ آمر تھا)۔

ڈاکٹر صاحب بتاتے تھے کہ جے اے رحیم اور ان کے بیٹے سے بھٹو ناراض ہوگیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جے اے رحیم آئی سی ایس افسر تھے۔ فارن سیکرٹری بھی رہے تھے اور پیپلز پارٹٰی کے بانی ارکان میں سے ایک تھے۔ ایک سرکاری ڈنر میں وزیر اعظم بھٹو کی آمد میں تاخیر ہوئی تو جے اے رحیم ناک بھوں چڑھا کر انہیں” مہاراجہ آ ف لاڑکانہ“ کہہ کر ان کی آمد کا انتظار کیے بغیر نکل گئے۔ بھٹو تک اطلاع پہنچی تو وہ سیخ پا ہو گئے۔ رات کو وزیر اعظم کے سیکورٹی چیف سعید احمد خان (جن کو پولیس میں سعید کٹا کہا جاتا تھا) جے اے رحیم کو جوتم پیزار کر کے صبح کے ایک بجے گھر سے بیٹے سمیت لے گئے۔

ہم نے ان دو افسران راجہ سکندر زمان ڈی ایس پی اور راجہ فضل الرحمان کی، جو سندھ کی سی آئی اے پولیس میں ڈی ایس پی تھے، تحقیقات کو ہینڈل کیا ہے۔ جب ان باپ بیٹوں کو کراچی منتقل کردیا گیا تھا تو یہ اہل کار جسمانی تشدد کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ ان دونوں کے خلاف جنرل ضیا کی مارشل اتھارٹیز نے کیس درج کیا تھا۔ بتاتے تھے کہ ستر برس کے جے اے رحیم اور ان کے بیٹے کو وہ کیسے لال مرچوں کا enema دیتے تھے۔ سب بتاتے تھے۔

ہمیں ہدایات تھیں کہ ان کو پنڈی کے راجہ کنکشن کی بنیاد پر بحال تو کردیا گیا ہے مگر انہیں بے توقیر رکھنا ہے۔ دونوں آنسوﺅں سے روتے تھے۔ راجہ سکندر زماں دیکھنے سے ہی ایک خبیث، بے رحم، بے اصول پولیس والا لگتا تھا۔ ہمارے لیے کہتا تھا کہ ”میمنوں میں بھی ہلاکو اور حجاج بن یوسف ہو سکتے ہیں۔ یہ دیوان صاحب کو دیکھ کر یقین آتا ہے۔ اس کا یہ گلہ سن کر ہمارا اسسٹنٹ علی محمد سموں کہا کرتا تھا۔ اڑے گھوڑا رے گھوڑا اللہ پناہ۔ ایسا ظالم ہے کہ تیرے بھیجے میں گولی مار کر بوہریوں کے ہاتھ کی بنی پستہ آئس کریم کھانے لگ جائے گا۔ اس کی میمنوں میں کوئی عزت نہیں جبھی تو فورتھ کامن میں آیا ہے ورنہ اچھا آدمی ہوتا تو اس کی جوڑیا بازار میں کپڑے کی دکان ہوتی۔

ڈاکٹر صاحب کی ڈاکٹر طارق صدیقی اور ان کے خاندانی دوست اور بیچ میٹ ڈاکٹر شعیب سلطان سے بہت ہی گہری نیاز مندی تھی۔ تقریباً روز کا ملنا۔ انہوں نے بعد میں ہماری معلومات میں وقفے وقفے سے کئی اضافے کیے۔

پہلا تو یہ کہ اسکپر کی بات نہ مانی گئی تو انہوں نے وزارت کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ یوں بھٹو کو اور بھی آگ لگی کہ ایک تو بھری محفل میں ایک بیوروکریٹ کو ان پر ترجیح دی گئی۔ دوسرے سرکار کی پالیسی کو بودی اور فضول ثابت کرنے کے لیے عبدالحفیظ کاردار نے سرکار کو لات مار کر ایک طرف کر دیا۔ طے ہوا کہ اس بات کا سبق سکھانا ہے۔

Z A Bhutto (1970) – J A Rahim is behind him
اپنے ساتھیوں کو Fix -Up کرنا بھٹو کے مزاج کا حصہ تھا۔ جے اے رحیم، معراج محمد خان، مختار اعوان اور پنجاب کے ایک اور ایم این اے سیالکوٹ کے ملک سلیمان کو وہ ان کی مخالفت کا مزہ چکھا چکے تھے اور کئی دوسروں کو بشمول نواب محمد خان قصوری مروا چکے تھے۔ اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی چھ ستمبر 1977کی اشاعت میں اس کا تفصیلی احوال درج کیا۔ اپنے مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک نیچے گر سکتے تھے۔ اس بات کا کاردار صاحب کو بخوبی علم تھا۔

ایسے میں اسکپر کو کسی نے اندرون شہر سے اطلاع دی کہ لاہور کی ہیرا منڈی کا ایم پی اے، کنجروں کا سرتاج اور صوبائی وزیر جیل خانہ جات افتخار تاری جیل سے کچھ قیدی غنڈے نکال کر آج رات کسی وقت ان کی رہائش گاہ پر حملہ کرے گا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف ان دنوں پنجاب فلور ملز کے ڈائریکٹر فنانس تھے۔ انہیں علم ہوا تو سب سے پہلے ڈاکٹر صاحب نے اپنے چند دوستوں کو جمع کیا اور کاردار صاحب کے اہل خانہ کو محفوظ مقامات پر شفٹ کیا۔ یہ تمام دوست اسلحہ لے کر کاردار صاحب سمیت مختلف کھڑکیوں میں بیٹھ گئے۔

شاید چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی افتخار تاری کے عزائم کی بھنک مل گئی تھی۔ کسی پولیس افسر کے ذریعے ہیرا منڈی کے چیف آپریٹنگ افسر مامے مودے کو پیغام بھیجا گیا کہ اس سے کہو بندے دا پتر بن جائے۔ یوں یہ حملہ روک دیا گیا۔ کسی بات پر جب سرکار افتخار تاری سے ناراض ہوئی تو اس لفنگے کو حراست میں لے کر بدنام زمانہ دلائی کیمپ آزاد کشمیر منتقل کردیا گیا جہاں انہیں دریائے نیلم میں سخت سردی میں ننگا لٹکایا جاتا تھا۔ افسروں کے غصے، کاردار صاحب پر حملے اور افتخار تاری کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ سلوک کو سامنے رکھیں تو سمجھ میں آجائے گا کہ بیوروکریسی اور عورت اپنے ساتھ کیے گئے سلوک کو کبھی نہیں بھولتی۔
from-humsub-pages