گھوڑوں کو غلام بنانے والی ’’گھوڑی‘‘

میں جب کسی گھوڑے کو تانگے کے آگے جُتا ہوا دیکھتا ہوں تو مجھے اس پر سخت غصہ آتا ہے کہ اتنا طاقتور اور خوبصورت جانور اپنی یہ تذلیل کیوں برداشت کر رہا ہے۔ میں کئی گدھوں کو بھی ریڑھیوں کے آگے جُتا دیکھتا ہوں لیکن مجھے ’’گدھوں‘‘ پر کبھی غصہ نہیں آیا کہ ان کی بیوقوفی تو ضرب المثل بن چکی ہے البتہ ان کی مظلومیت پر ترس ضرور آتا ہے۔
Ataul Haq Qasmi urdu columnist
اگر آپ نے جنگلی گھوڑے کو جنگلوں اور کھلے میدانوں میں زقندیں بھرتے دیکھا ہو اور اس کے بعد آپ اسے تانگے کے آگے جُتا دیکھیں تو آپ کے احساسات بھی وہی ہوں گے جو میرے ہیں۔ دنیا کی تمام پاور فل گاڑی بنانے والی کمپنیاں زیادہ سے زیادہ ’’ہارس پاور‘‘ شو کرکے اپنی گاڑی کی قیمت بڑھاتی ہیں اور جناب ’’ہارس‘‘ کو شرم نہیں آتی کہ یہ ریس کورس کے علاوہ کسی تانگے کے آگے جُتا پیلے دانتوں والے کسی کوچوان سے چھانٹے کھا رہا ہوتا ہے۔

میں اس مسئلے پر بہت عرصے سے غور کرتا چلا آرہا ہوں کہ گھوڑا یہ ساری ذلتیں کیوں برداشت کرتا ہے؟ تانگے میں یہ جوتا جاتا ہے، ریس کورس میں اس کی ذلت ہوتی ہے اور اس کے علاوہ جو کوئی چاہے پلاکی مار کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاتا ہے اور یہ بغیر کسی حیل و حجت یا احساسِ ندامت کے فراٹے بھرنے لگتا ہے۔

ان گھوڑوں میں کمی کمین بھی ہوتے ہیں اور بہت سے خاندانی گھوڑے بھی شامل ہیں۔ تاہم واضح رہے جن گھوڑوں کو کمی کمین قرار دیا ہےاس سے کالم نگار کا متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ گھوڑا کم نسب ہو یا عالی نسب، اس کی طاقت اور خوبصورتی میں بظاہر کوئی فرق نہیں ہوتا۔

خیر! طویل عرصے کی سوچ بچار کے بعد میں تقریباً اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ گھوڑا باامر مجبوری یہ ذلت برداشت کرنے پر تیار ہوا ہے۔ جنگل میں اس کی زندگی تو بہت اچھی تھی خصوصاً موسم بہار میں اسے گھاس وافر تعداد میں میسر ہوتی تھی لیکن باقی موسموں میں اسے کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اسی طرح کے کسی بُرے موسم میں شہر سے کچھ سفید فام شکاری جنگلوں میں پہنچے۔

جن گھوڑوں کو مشکلات کے باوجود اپنی آزادی پسند تھی وہ تو ان شکاریوں کے عزائم پہچان کر انہیں دیکھتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے اور جنہیں آزادی سے زیادہ ہری ہری گھاس پسند تھی وہ کھڑے رہے۔ شکاری انہیں شہروں میں لے آئے اور تانگوں کے آگے جوت دیا۔ وہ جو آزادی کے دنوں میں کسی کو پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے تھے، اب آنکھوں پر کھوپے چڑھائے سارا دن سواریاں ڈھوتے ہیں۔

تاہم میں نے مناسب سمجھا کہ اس مسئلے پر کیوں نا کسی گھوڑے سے براہ راست بات کی جائے چنانچہ میں نے ایک گھوڑے کو بڑی مشکل سے رضامند کیا کہ وہ خود بتائے کہ اسے اپنی آزادی کا یہ سودا کیسا لگا؟ یہ بہت شرمیلے قسم کا گھوڑا تھا۔ اس نے میرے تجزیے سے جزوی طور پر اتفاق کیا مگر پھر شرماتے ہوئے کہا ’’سرجی! مجھ سے میری آزادی چھیننے والی ایک گھوڑی تھی‘‘ میں نے پوچھا:وہ کیسے؟

بولا:سارے جنگل میں اس کی دھومیں تھیں اور میر ےسمیت تمام گھوڑے اس کے عشق میں بری طرح مبتلا تھے۔ ایک دن تنہائی میں میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا دنیا بہت آگے نکل گئی ہے لیکن ہم ابھی تک جنگلوں میں رہ رہے ہیں۔ ٹھیک ہے یہاں ہمیں ہر طرح کی آزادی ہے، اچھے موسموں میں کھانے پینے کو بھی وافر مقدار میں اشیائے خور و نوش مل جاتی ہیں، ہم اپنی مرضی سے سوتے جاگتے ہیں۔

جنگلوں اور کھلے میدانوں میں زقندیں لگاتے ہیں، کوئی ہمیں روکنے ٹوکنے والا نہیں لیکن یہاں کلچر نام کی کوئی چیز نہیں، نہ راگ رنگ کی محفلیں، نہ ٹی وی چینلز، نہ تھیٹر نہ سینما، یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ تم نے اگر میرے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو میرے ساتھ شہر چلو، وہاں زندگی بہت رنگین ہے۔

اس کی باتیں میرے دل کو لگیں، تاہم میں نے پوچھا:ہم شہر جائیں گے کیسے؟ بولی:شہر میں کچھ شکاری میرے واقف ہیں، وہ دو ایک دن میں یہاں آئیں گے اور تمہیں پکڑنے کی کوشش کریں گے۔

تم دوسروں کو دکھانے کیلئے تھوڑی بہت مزاحمت کرنا، وہ تمہیں اپنے ساتھ شہر لے جائیں گے، جہاں زندگی کی بہاریں اپنے جوبن پر ہیں۔ تم جب شہر میں سیٹ ہو جائو تو مجھے بلا لینا، میں چلی آئوں گی۔اس قتالہ نے اپنے عشق سے دوسرے گھوڑوں کو بھی یہی چکما دیا، وہ سب یہاں چلے آئے اب وہ میری طرح تانگے کے آگے جُتے نظر آتے ہیں یا جوئے کے اڈے یعنی ریس کورس میں جوکی کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔

ہم آزادی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور اس کے بدلے میں ہمیں ملا بھی کچھ نہیں۔ مجھے اس بھولے بھالے گھوڑے پر بہت ترس آیا۔ میں نے پوچھا:اور وہ حسینہ ان دنوں کہاں ہے؟ اس پر ایک بار پھر اس کی آنکھیں آنسوئوں سے بھیگ گئیں اور بولا:وہ وہیں جنگل میں ہے اور آزاد فضائوں میں عیش کی زندگی بسر کر رہی ہے۔

مجھے اس کہانی کے انجام نے اداس کر دیا۔ میں ابھی جانے کو ہی تھا کہ اس نے مجھے روکا اور کہا’’جن شکاریوں نے مجھے اور میرے دوسرے ہم جنسوں کو آزادی سے محروم کیا وہ تمہارے شہروں میں سرگرمِ عمل ہیں۔

سفید فاموں نے تمہارے جیسے پڑھے لکھے لوگوں میں کروڑوں اربوں روپے تقسیم کئے ہیں تاکہ تمہیں مہذب بنایا جا سکے۔وہ تمہیں باہر بھی بھجواتے ہیں،کتابیں بھی لکھواتے ہیں ،مگر یاد رکھو مہذب تہذیب و ثقافت کے بغیر شہر اور جنگل ایک سے ہیں لیکن اپنی آزادی فکر ضمیر کی پاسداری اور خودمختارسوچ سے غافل نہ ہونا اور یاد رکھنا کوئی لنچ مفت نہیں ہوتا‘‘۔
Atta-ul-Hq-Qasmi-Jang