یہ تاثر غلط ہےکہ سندھ کے اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے .

صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسینُ شاہ اور مشیر قانون مرتضی وھاب نے سندھ اسمبلی ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔پریس کانفرنس کے آغاز میں طیارہ حادثہ اور کورونا کی وبا سے دنیا سے جانے والوں کے لئے دعائے مغفرت اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ سید ناصر حسین شاہ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ 26 فروری سے ہی متحرک اور میدان عمل میں سرگرم ہے۔ ہماری کارکردگی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اپنی جماعت کے وزیر اعلی کو بچانے کے لئے


سید مراد علی شاہ کو بےجا تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن ہم کردار کشی پر یقین نہیں رکھتے۔ منظور نظر افراد کو سبسٹڈی سے نوازا گیا ہے۔حکومت سندھ کے تمام اقدامات عوام اور آبادکاروں کی بہبود کے لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کارکردگی سے ہر انسان نالاں نظر آتا ہے۔ یہ خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ہم تمام شہریوں اور صحافیوں کی جان و مال کو محفوظ بنانے پر یقین رکھتے ہیں ۔ طیارہ حادثہ پور قوم کو سوگوار کرگیا ہےجس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں ۔مساجد کبھی بند نہیں کی گئیں ۔ بازاروں اور رش والی جگہوں پر جانے سے اجتناب برتا جائے۔ ہمارے دشمن ہمیشہ نامراد رہے ہیں ۔ وزیر اعلی سندھ کی کارکردگی سب سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج کی باتیں دیوانے کا خواب ہیں ۔ہم عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں ۔ طیارہ حادثے کے حوالے سے ڈی این اے ٹیسٹ جاری ہیں ۔ اس موقع پر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چینی اسکینڈل میں بددیانتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جس وزیراعظم نے برآمدات کی اجازت دی اسکا رپورٹ میں نام نہیں ہے اور اومنی گروپ کا نام لیا جارہا ہےجسےصرف چالیس اعشاریہ پانچ فیصد سبسڈی دی گئی جبکہ جنکے میڈیا میں نام لئے جارہے ہیں انہیں اسی فیصد تک سبسڈی دی گئی۔ ان میں وفاقی وزیر اور انکے دیگر لوگ شامل ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ میں شوگر ملز مالکان کو سبسڈی کسانوں کی خاطر دی گئی کیونکہ انکے گنے کی فصل خراب ہورہی تھی ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آج ان فرشتوں کی حکومت میں چینی کیوں مہنگی ہے۔ اس موقع پر ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ فروری میں وزیراعظم نے چینی کی قیمتوں پر انکوائری کا حکم دیا اور انکوائری کمیٹی کی تشکیل دی اس انکوائری کا مقصد 2019 کی سبسڈی کی تحقیقات تھا۔ اس کے بعد کمیٹی نے انکوائری رپورٹ وزیراعظم کو ارسال کردی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے وزیراعظم کو لکھا کہ کمیٹی کی رپورٹ کو لیگل کور دینا چاہئیے جس پر وزیراعظم نے کمیشن قائم کردیا ۔ کمیشن کے ٹی او آرز وہی تھے یعنی 20-2019کی سبسڈی تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پھر ایک خط وزیراعلی سندھ کو آتا ہے جس پر وزیراعلی نے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کی اور انکوائری کمیشن کو جواب دیا کہ میں آپ کے دائرہ کار میں نہیں آتا ہوں کیونکہ سندھ حکومت نے دو ہزار انیس بیس میں کوئی سبسڈی نہیں دی۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جواب کے فوری بعد کمیشن کا سندھ حکومت کو اسی روز خط آتا ہے کہ وزیراعلی سندھ کو پیش ہونا ہوگا جس پر ہم نے دوبارہ انہیں لکھ دیا کہ ہم انکے دائرہ کار میں نہیں آتے کیونکہ چینی کی برآمد کا فیصلہ صوبائی حکومت نہیں بلکہ وفاقی حکومت کرتی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ چینی کی برآمد کی اجازت ای سی سی نے اکتوبر دو ہزار اٹھارہ میں دی تھی کہ ایک ملین ٹن چینی برآمد کی جائے۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ انکوائری کمیٹی میں وزیراعلی کو ایک بار بھی نہیں بلایاگیا۔ انہوں نے بتایا کہ انکوائری کمیٹی نے2019میں چینی کی قیمتوں میں اضافےکی تحقیقات کی اور انکوائری رپورٹ مارچ 2020میں جمع ہوئی اور 16مارچ کو وزیراعظم نے انکوائری کمیشن تشکیل دیا۔ انکوائری کمیشن کی طرف سے وزیراعلی سندھ مرادعلی شاہ کو خط 11مئی کو موصول ہوا۔ وزیراعلی سندھ نے انکوائری کمیشن کو جواب دیاکہ انہیں طلب کرنا کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ انکوائری کمیشن نے 13مئی کو دوبارہ وزیراعلی کو خط لکھا ۔ لیکن امپورٹ ایکسپورٹ کا اختیار وفاقی حکومت کا اختیار ہے ۔ انکوائری کمیشن نے رپورٹ میں لکھاکہ ایکسپورٹ کی وجہ سےچینی کی قلت ہوئی قیمت بڑھی۔ انہوں نے کہا کہ چینی ایکسپورٹ کی اجازت وفاقی حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے پاس چینی کی ایکسپورٹ کا اختیار نہیں تھا۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ وفاقی وزارت تجارت نے ایک ملین ٹن چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی اور فیصلہ ہوا کہ چینی ایکسپورٹ کےلیے کوئی سبسڈی نہیں دی جائےگی لیکن وزارت تجارت نے دوبارہ سمری بھیجی کہ دو ارب روپے کا فریٹ سپورٹ دیاجائے اور وزیراعظم عمران خان نے بطور انچارج وزیرتجارت فریٹ سپورٹ سمری کی منظوری دی اس طرح وزیراعظم کی اجازت سے گیارہ لاکھ ٹن چینی کی ایکسپورٹ ہوئی اور وزیراعظم کی اجازت سےدو ارب روپے کی فریٹ سبسڈی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جو دوسروں کی پگڑیاں اُچھالتے ہیں وہ یہ دیکھ لیں کہ اس دستاویز کے پیرا نمبر پانچ پر لکھا ہے کہ مشیر تجارت نے سمری منظور کردی ہے جبکہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے پیرا نمبر چھ میں لکھا ہے کہ انچارج منسٹر یعنی وزیراعظم نے بھی چینی کی برآمد کی اجازت دیدی ہے اور فوری طور پر دو ارب کی فریٹ سبسڈی کی بھی اجازت دے دی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ طیارہ حادثہ کی صاف شفاف تحقیقات ہونی چاہئے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ میں 31مئی تک لاک ڈاون پابندیوں کا اطلاق ہوگا اس لئے سب سےدرخواست ہےکہ احتیاط کریں ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہےکہ سندھ کے اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے .