آ عندلیب مل کر کریں آہ و زاریاں —–سانحہ کراچی …..

آ عندلیب مل کر کریں آہ و
زاریاں
سانحہ کراچی …..
تحریر: سید رضی الدین احمد ترتیب : طارق اقبال ‘ کویت

مئی کا مہینہ لگ بھگ ہر ایک دو سال بعد کراچی میں موت کا مہینہ بن کر نمودار ہوتا ہے.

رمضان کی اس دوپہر میں بھی لاہور سے آنے والی پی آئی اے کی پرواز کے پائلٹ نے مسافروں کو وقت سے پہلے کراچی پہنچادیا تھا.

پہلی لینڈنگ کے وقت یعنی 0234 سے پہلے پائلٹ بہت جلدی میں تھا اور بہت اونچائی سے اپنی رفتار کو انتہائی تیزی سے کم کررہا تھا.

ٹاور نے اسے متعدد دفعہ تنبیہہ بھی کی کہ یا تو نیچے اترنے کی رفتار کم کرو یا گھوم کر دوبارہ آئو.

پائلٹ یا تو اوور کانفیڈنٹ تھا یا زیادہ جلدی میں, اسکا ہر بار دعوی تھا کہ میں سنبھال لوں گا. اسوقت پائلٹ 3000 فٹ فی منٹ سے بھی زیادہ تیزی سے اپنی بلندی کو کم کررہا تھا.

پالپا کے منہ چڑھے بہت سے پی آئی اے کے پائلٹ اسطرح کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور ٹاور کے کنٹرولر کی نہیں سنتے بالخصوص اگر وہ سویلین کنٹرولر ہو.

ایئر فورس کے کنٹرولروں سے البتہ انکی جان جاتی ہے وگرنہ تو بہت سارے یورپی یا افریقی ممالک کے کنٹرولر کے احکامات پر عمل کرنے کی بجائے وہ ٹرانسمیشن کو بند کردیتے ہیں. کیونکہ ایسے کمی کمین کنٹرولروں کی بات ماننا انکے لئے انتہائی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے.

رن وے سے عموما دو سے تین منٹ پہلے پائلٹ لینڈنگ گیئر کھول لیتے ہیں. تاکہ کسی ایمرجنسی کی حالت میں مشکل سے نبٹنے کیلئے اضافی وقت میسر ہو.

اس دوپہر جہاز کی رفتار چونکہ بہت زیادہ تھی اور پائلٹ چونکہ منع کرنے کے باوجود بہت جلدی میں نیچے آرہا تھا. اور مزید یہ کہ اسنے جہاز کہ پہیئے بھی دیر سے نیچے کئے (جو قطع نظر سیفٹی کے اصولوں کے. بہت سارے خلیفہ پائلٹوں کیلئے مردانگی کی علامت سمجھی جاتی ہے بالخصوص پی آئی اے والے) .

عام حالات میں تو یہ سب کنٹرول ہوجاتا ہے مگر کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پائلٹ کے پاس موقع نہیں ہوتا اور یوں یہ حرکتیں ایوی ایشن سیفٹی کے اصولوں کے خلاف ہوتی ہیں.

تو 0234 پر ہوا یوں کہ عین رن وے پر تیزی سے نیچے آتے جب پائلٹ نے لینڈنگ گیئر کھولا تو وہ کسی وجہ سے نہیں کھل پائے. اور ٹاور سے گفتگو کے دوران عین لینڈنگ کے وقت ڈنگ ڈنگ ڈنگ کی آواز صاف سنائی دی.

اگر پائلٹ یہ کام دو تین منٹ پہلے (یعنی صحیح وقت پر کرلیتا تو اس ایمرجنسی سے نبٹنا آسان تھا) لیکن شہید چونکہ ساری کشتیاں جلاچکے تھے, جہاز تیزی سے نیچے آرہا تھا اور گیئر کھلے نہیں تھے. تو وہی ہوا جس کا خطرہ تھا. 4500 فٹ یا آدھا رن وے گزرنے کے بعد بایاں انجن رن وے پر ٹکرایا اور رگڑتا چلاگیا.

جہاز کوئی موٹرسائیکل یا کار نہیں تھی جسے دائیں یا بائیں موڑنا ہو. یہاں تو انسان کو ایک ناممکنات کا سامنا کرنا ہوتا ہے یعنی فضاء میں سینکڑوں انسانوں کو لیکر پرندوں کی طرح اڑنا.

حد سے زیادہ خود اعتماد ڈرائیور کو جب تک سمجھ آتی, بے قابو جہاز نے 500 سے 600 میٹر بعد دوسری طرف جھک کر دائیں انجن کو بھی زمین سے رگڑنا شروع کردیا. اب بند پہیوں کے ساتھ زبردستی کی بیلی لینڈنگ آدھی سے زیادہ ہوچکی تھی اور رن وے بھی آدھے سے زیادہ گزرچکا تھا. یعنی دس گیارہ میں سے سات ہزار فٹ.

شائد پالپا کے پالے اور حد سے زیادہ خود اعتماد پائلٹ نے اپنی ساکھ (یا جہاز) بچانے کیلئے ٹاور کی بات اب ماننے کی کوشش کی اور جہاز کو اوپر اٹھانے لگا. ہرجاء کے بہت دیر ہوچکی تھی.

کتاب کہتی تھی کہ جب کوئی انجن رن وے سے رگڑکھاجائے تو سمجھیں اسمیں آگ لگ چکی ہے یعنی وہ فارغ ہوچکا ہے.

اور چونکہ گیئر خود دیر سے کھولے تھے اور رن وے سے ٹکرانے پر دونوں انجن بظاہر فارغ ہوچکے تھے ایسے میں لگ بھگ سو انسانوں کو جہاز سمیت اوپر اٹھانا محض حماقت یا جہالت ہی ہوسکتی تھی. ممکن ہے کوئی اسے بھی مردانگی سمجھتا ہو.

اسی دوران ٹاور اتحاد ایئرلائن کی تہران کی فلائٹ سے بھی رابطے میں رہا.

پھر وہی ہوا, پائلٹ کی حد سے زیادہ خود اعتمادی کے غبارے سے تمام ہوا نکل گئی اور اس نے عام پائلٹوں کی طرح جہاز کو اوپر اٹھاکر ٹاور سے مدد مانگی.

ٹاور نے اسے الٹے ہاتھ مڑنے کو کہا اور ساتھ تین ہزار فٹ پر آنے کا کہا تاکہ آرام سے دوبارہ لینڈنگ ہوسکے.

پائلٹ نے جہاز کو الٹے ہاتھ کی طرف تو موڑ لیا مگر مزید اوپر اٹھانے کی کوشش کی تو انجن جواب دے چکے تھے. نتیجتا اسنے ٹاور سے معذرت کیساتھ 2000 فٹ پر رہنے کی اجازت مانگی. جو اسے مل گئی.

اس دوران یہ احساس ہونے پر کہ دونوں انجن فارغ ہوگئے ہیں پائلٹ نے ٹاور کیلئے ایمرجنسی ڈکلیئر کردی. اور جہاز کو گلائیڈ کرتے اتارنے کی کوشش کی. ٹاور نے اسے دونوں رن وے دے دیئے کہ جہاں چاہو اترو.

ٹاور نے مزید پوچھا کہ بیلی لینڈنگ تو نہیں کرنی جس پر پائلٹ کچھ نہ بولا.

یادرہے بیلی لینڈنگ کی صورت میں لینڈنگ سے پہلے جہاز کا تقریبا سارا اضافی تیل ضائع کیا جاتا ہے کیونکہ ایسی لینڈنگ کے فورا بعد جہاز میں آگ لگنے کے پورے امکان ہوتے ہیں. اس سے پہلے اگر وقت ہو تو رن وے پر فوم بھی بچھادیا جاتا ہے اور فائربریگیڈ بھی موجود ہوتا ہے.

ایمرجنسی کے کچھ ہی دیر بعد پائلٹ نے ٹاور کو مزید بتایا کہ میرے انجن جواب دے گئے ہیں.

جبکہ انجنوں میں تو پہلے ہی رن وے سے رگڑ کھاکر آگ لگ چکی تھی.

اب جناتی جہاز محض اپنی پچھلی رفتار اور اضافی پنکھے RAT کو استعمال کرکے گلائیڈ کرتے نیچے آنے لگا.

ایک ایک لمحہ قیمتی تھا.

جب ٹاور نے بیلی لینڈنگ کا پوچھا تو پسینے چھوڑتے پائلٹ کو اب پھر لینڈنگ گیئر کی یاد آئی. جو پچھلی دفعہ اسنے بہت دیر سے کھولے تھے اور بعض اوقات ایسے حالات میں کھلتے بھی نہیں.

یاد رہے لینڈنگ گیئر کھلنے سے جہاز کی اسپیڈ اور کم ہوجاتی ہے.

اب دوسری مرتبہ رن وے سے بمشکل دو تین ناٹیکل میل پہلے ہی پائلٹ نے لینڈنگ گیئر کھولنے کی کوشش کی جو بدقسمتی سے اس بار کھل گئے.

اور یوں بمشکل گلائیڈ کرتے طیارے کے گیئر کچھ لمحے پہلے کھول لینے کی وجہ سے جہاز کو ایک غیرمرئی فضائی بریک لگے اور اسکی بمشکل گلائیڈنگ کرتی رفتار تقریبا Stall یا ساکت ہوگئی اور یوں پتھر کی طرح طیارہ تیزی سے زمین پر آرہا اور اس بار پائلٹ کو کلمہ شہادت کی بجائے صرف مے ڈے مے ڈے کہنا یاد رہا. اگر اس دفعہ بھی پہئے نا کھلتے یا دیر سے کھلتے تو شائد میں یہ تحریر نہ لکھ رہا ہوتا.

جہاز شائد رن وے پر پہنچ ہی جاتا مگر اب ہوا یوں کہ جب تیل سے نصف بھرا یہ جہاز, جس میں موجود مسافروں کے لئے ایک ایک میٹر اہم تھا. جونہی کاظم آباد کی آخری گلی کے گھروں کے اوپر سے گزرکر جناح گارڈن کی پہلی گلی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ ایک دو تین منزلہ عمارت کے اوپر بنی پانی کے اضافی ٹینک سے اسکی دم یا پر جا ٹکرایا.

جہاز کا اگلا حصہ یا کیپسول گلی کی سڑک میں جب داخل ہوا تو ایک ایک ونگ گلی کے ایک ایک طرف بنے مکانات کی چھتوں سے ٹکراتا انجن سمیت علیحدہ ہوگیا. کاک پٹ اور اگلے داخلی دروازے کے حصے الگ ہوگئے.

یوں پہلی ہی نشست کے کونے پر بیٹھے پنجاب بنک کے سربراہ کی نشت کے سارے لاک ٹوٹے اور وہ نیچے سڑک پر آگرے.

زیادہ تر مسافر شدید جھٹکے سے بے ہوش ہوگئے. مسافروں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی زندہ تھی. مگر ہوش میں آنے اور سیٹ بیلٹ کھول کر کہاں جانا ہے کا فیصلہ کرنے میں 8 نمبر نشست پر بیٹھے انجینیئر زبیر کے سوائے کسی کو بھی مہلت نہ ملی. زبیر نے بھی گھپ اندھیرے میں بھڑکتی آگ سے نکل کر موت کی اندھیری سرنگ کے دوسری طرف نظر آتی موہوم سی روشنی کی طرف دوڑ لگائی. شائد ماں کی دعا میں ابھی بھی اثر تھا. اور یوں کچھ دیر بعد زبیر پندرہ فٹ نیچے زمین پر موجود تھا.

باقی مسافروں کی زندگی کے کھلونوں کی چابی یقینا پوری ہوچکی تھی.

جی ٹی روڈ اور کراچی کی سپرہائی وے ہو یا کوئٹہ کراچی کی سڑک. یقین کریں متعدد مرتبہ کوسٹر یا بس کے لاپرواہ ڈرائیوروں کے عین پیچھے یا سامنے والی سیٹ پر بیٹھ کر سفر کیا ہے. اور ان جاہلوں کی حد سے زیادہ خوداعتمادی پر محض افسوس کیا, یہ اور بات کہ میں خوش قسمت تھا کہ آج بھی انکی خود اعتمادی کو کوسنے کیلئے زندہ ہوں یعنی یہ تحریر لکھ رہاہوں. ورنہ یقین کریں تیس چالیس ہزار روپے تنخواہ لینے والے یہ نشئی ڈرائیور ہوں جنہیں ہر پانچ سو کلومیٹر بعد ایک پڑیا اور ایک “وہ” چاہیئے ہوتا ہے. یہاں “بالخصوص پی آئی اے کا” فضائی ڈرائیور بھی اکثر میٹرک یا انٹر پاس ہوتا ہے. انکی اکثریت بھی نشئی ہوتی ہے اور انمیں بھی متعدد کو ہر اسٹیشن پر ایک زندہ اور ایک مردہ دونوں کی طلب ہوتی ہے. تنخواہ یہ بھی اتنی ہی لیتے ہیں مگر ڈالروں میں.

مگر مجال ہے کوئی ان کو چیک تو کرلے.

پہلے پالپا اور پھر سیاسی پارٹیاں انکے پیچھے کھڑی ہونگی. کوئی کسر رہ جائے تو وہ عدالت کے اسٹے سے پوری ہوجاتی ہے.

ابھی بھی وقت ہے سول ایوی ایشن پائلٹوں کا وقتا فوقتا بلڈ ٹیسٹ کرتا رہے. جاسوسی کا نظام بہتر کرے اور بالخصوص پی آئی اے اور سول ایشن: مقامی پائلٹوں کی سال چھ مہینے بعد ہونے والی ٹیسٹنگ, مقامی پائلٹوں کی بجائے غیرملکی پائلٹوں سے کروائیں. اسی طرح پی آئی اے میں صرف پالپا کے سابقہ پائلٹوں کے بچوں یا رشتہ داروں کو بھرتی کرنے کا غیر تحریری سلسلہ بھی بند ہونا چاہیئے.

مہنگا روئے ایک بار…..اور سستے کی صورت میں پورا ملک روئے سو بار.

اور ہاں ہمارے سندھ کے بمشکل انٹر پاس گورنر کو بھی کوئی یہ بتلادے کہ اب آپ سندھ میں وفاق کے سب سے بڑے نمائندہ ہیں. جو کرنا ہے کر گزریں. سپریم کورٹ یا ادھر ادھر کو آوازیں مت لگائیں. ماڈل کالونی سے متصل جناح گارڈن اور کاظم آباد وغیرہ کا یہ علاقہ…..رن وے کے فنل ایریا میں آتا ہے. جس میں بلند تو درکنار کسی بھی طرح کی تعمیرات منع تھیں اور ہیں. آپ نے مراد علی شاہ کی سائیں سرکار کو ذلیل کرنے کیلئے اس معاملے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول کو گھسیٹ لیا (جسکے کنٹرول میں اب یہ علاقہ ہے)

مگر آپ لوگ آسمان کی طرف منہ کرکے تھوکنے کے عادی ہیں, آپ کو علم نہیں کہ لگ بھگ 20 سال پہلے جب یہ علاقہ ملیر کنٹونمنٹ کی حدود میں ہوتا تھا کنٹونمنٹ کے کسی چیتے نے پیسے کھرے کرکے یہاں چائنا کٹنگ کردی تھی. اس معاملے کی اس زمانے میں بھی نیب اور ایف آئی اے تحقیق کرتے رہے ہیں.

اور ہاں سول ایوی ایشن جو وفاق کا ادارہ ہے. اسنے یہاں فنل funnel ایریا اور دوسرے ملحقہ تمام گھروں کو “حصہ بقدر جثہ” ملنے کے بعد “این او سی” دیا ہوا ہے. اور شائد گورنر سندھ کو یہ بھی علم نہ ہو کہ سول ایوی ایشن اکیلے ان تعمیرات کیلئے این او سی نہیں دیتی بلکہ پاک فضائیہ سے بھی no objection certificate لیکر دیتی ہے کیونکہ انڈیا سے جنگ کی جب جب ہنگامی صورت حال پیش آئی. جناح انٹرنیشنل کے رن وے سے لوگوں نے ہمیشہ فائٹر طیاروں کی اڑان بھی دیکھی.

سائیں مراد کو کہیں اور گھیریں ایسا نہ ہو کہ

بقول شاعر

الجھا ہے پائوں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

بہتر یہ ہوگا کہ جزوی یا مکمل تباہ ہونے والے تمام مکانات کے مالکان کو کوئی نیا noc نہ دیا جائے بلکہ ان متاثرہ مقامات کو منہدم کرکے جگہ کو پارک میں تبدیل کرکے شہداء کی یادگار بنادی جائے. تاکہ کم از کم اپروچ پر جہازوں کو مزید علاقہ خالی مل سکے.

پچھلا noc اگر رشوت کے بل بوتے پر دیا گیا ہے تو حاضر سروس یا ریٹائرڈ لوگوں کی جائیداد سے کچھ حصہ نکالا جائے اور باقی پیسے ملیر کنٹونمنٹ / سول ایوی ایشن اپنے پلے سے ڈال کر متاثرہ لوگوں کو کہیں اور گھر بناکر دے.

اگر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اس فنل ایریا میں تعمیرات غلط ہوئیں. یا گھروں پر پانی کی اضافی ٹنکی کی اجازت نقشے میں نہیں لی گئی تھی. تو حکومت اور پی آئی اے کو چاہیئے کہ ان لوگوں کو سزا کے طور پر کوئی معاوضہ نہ دیا جائے.

ہم ہر سال ندی کنارے جھونپڑی بناکر طغیانی میں بہنے والوں کو لالچی کہتے اور کوستے ہیں تو یہاں ان پڑھے لکھے لوگوں, ملیر کنٹونمنٹ اور سول ایوی ایشن کو کیوں نہیں.

کیا ٹیکس پیئرز کا پیسہ انہی کاموں کیلئے رہ گیا ہے. ان علاقوں میں گھر بنانے والے یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہندوستانی جہاز جب کراچی ایئر پورٹ پر بمباری کرینگے یا وہاں سے میزائیل داغے گئے تو یقین کریں آدھے سے زیادہ جناح گارڈن اور کاظم آباد پر گریں گے. بالاکوٹ کو یاد رکھیں. پھر آپ سب اہل علاقہ کہیں گے: