ڈاکٹرز کے لئے چائے پینا حرام ہے

ہیلتھ کیر سسٹم کے ہیروز اور کورونا سے جنگ میں قومی فرنٹ لائین فائیٹرز کو چاہیے کہ اب اپنی قصائی والی اوقات میں واپس آجائیں تاکہ قوم اپنے صحت کے معاملات کورٹوں میں بیٹھے اصل ماہرین طب ایل ایل بی جج صاحبان سے حل کروانے کے لئے رجوع کرسکے ۔

ڈاکٹرز کو چاہیے کہ PMA اور YDA کی ایک مشترکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دیں جو ان نقصانات پر وائیٹ پیپر شائع کرے جو ہاسپیٹل او پی ڈی میں 100 مریضوں کی موجودگی میں ڈاکٹر کے چائے پینے سے اور کورٹ کچہری میں قاتلوں ۔ دہشگردوں اور جرائم پیشہ لوگوں سے رشوت لیکر زمانتیں دینے سے ہورہا ہے ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چیف جسٹس حکومت کو پابند کرتے کہ ملک کے 8 سے 10 ماہرین طب کا بورڈ تشکیل دے اور انکی رہنمائی اور ہدایات پر لوگوں سے عمل کروایا جائے ۔ مگر میڈیکل کالیج میں ایڈمیشن نہ ملنے کی حسرتوں نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر غلبہ پا لیا اور ڈور ٹوٹی ڈاکٹر کے چائے پینے پر۔ چھوٹے ذہن کا آدمی حادثاتی طور پر یا سفارشی ہونے سے بڑی مسند پر بیٹھ بھی جائے تو وہ دل و گردہ اور عقل و شعور کہاں سے لائے گا جس سے اپنی کہی بات کو دلیل سے ثابت کر کے پیش کر سکے ۔

ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ ہاسپیٹلز کی حدود میں چائے پینا چھوڑ دیں اور عدلیہ سے دریافت کریں کہ وہ دو دو گھنٹے چیمبرز میں بیٹھ کر کیا ایسے ٹھنڈے مشروبات پیتے ہیں جن پر باہر دھوپ میں بیٹھے جیل سے آئے سائیلین اور روتی رلتی بیواوں کے مقدمات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا ۔ ڈاکٹرز عدلیہ سے یہ بھی پوچھنے کورٹ میں جائیں کہ LLB کی کس کتاب سے یہ پڑھایا جاتا ہے کہ ڈاکٹرز کی ماہرانہ رائے کو رد کرکے اپنی انا کی تسکین کیلئے غلط فیصلے دیے جاسکتے ہیں ۔ عقل بڑی کہ بھینس والی کہاوت کو اب عقل بڑی کہ عدالت سے بدلنا عین ایمان بن گیا ہے مگر بدلے کون کہ بھینس کے سینگ سے سب ڈرتے ہیں ۔

موجودہ فیصلوں کی روشنی میں اب ڈاکٹرز کا شرعی حق بنتا ہے کہ عدالتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گرمیوں کی چھٹیوں کیلئے ہاسپیٹلز کو دو ماہ کیلئے بند کرکے مری اور نتھیا گلی میں سیاستدانوں اور رسہ گیروں کے ساتھ گلچھڑے اڑائیں اور گلچھڑیاں بلائیں ۔ علاج کیلئے آنے والے ضرورت مندوں کو ججوں کی طرح جولائی کے آخری ہفتے کی تاریخیں دے دی جائیں ۔ اللہ ہی جانے کون بشر ہے ۔

#برگیڈئیر بشیر آرائیں#