ہما بیگ کے جواں سال بیٹے مرزا وحید بیگ کی طیارہ حادثےمیں شہادت پر خصوصی نظم

ہما بیگ کے جواں سال بیٹے مرزا وحید بیگ کی طیارہ حادثےمیں شہادت پر خصوصی نظم

اس موت کو بھی دینا پڑے گی کوئی سزا

ہم سے ہمارے گوہرِ نایاب لے گئی
اِک قیامت گزرگئی تجھ پر
تو نے غم کا پہاڑ جھیلا ہے

تیری دل جوئی کیسے ممکن ہے
کیسے ڈھارس بندھائیں ہم تیری
کس طرح ہم تجھے دلاسہ دیں
دکھ کا اندازہ کس کو ہو تیرے
کیسے صدمے کی ہوگی پیمائش
سہہ گئے ہیں جو تیرے قلب و جگر
کون جانے گا درد کی شدّت
وہ جو اترا ہے تیری روح تلک
تیری تکلیف کیسے سمجھے کوئی
تیرے نالے سنے ہیں کس نے بھلا
وہ جو سینے میں ہیں دبے تیرے
اِک سمندر ہے جو کہ اشکوں کا
تیری آنکھوں سے بہہ نہیں پایا
کون گہرائی اُس کے ناپے گا


یہ جو میں نے بیاں کیا اِن میں
کچھ بھی ممکن نہیں کسی کے لیے
پھر بھی دل سے قریب، پیاری ہُما
تجھ سے بس ایک بات کہنی ہے
دیکھ کر تیرا صبر میری دوست
صبر کو خود پہ ناز ہونے لگا
صبر تو وصف اولیاء کا ہے
میرے اللہ۔۔کا یہ وعدہ ہے
ہر مسلمان کا عقیدہ ہے
کہ ہے اللہ۔۔۔ صابرین کے ساتھ
میرا اللہ ہے صابرین کے ساتھ۔۔۔
ثبین سیف