مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے ملک میں کورونا سے متاثرین اور اموات کی شرح میں اضافے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ اور کھولنے سے پہلے حکمت عملی مرتب کی گئی ہوتی تو متاثرین کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ نہ ہوتا، پھر کہتا ہوں کہ مزید وقت ضائع نہ کریں اور ہمہ جہت جامع قومی حکمت عملی بنائیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کا فوری اجلاس بلاکرحالات کا جائزہ لیا جائے اور تازہ ترین حالات کو دیکھتے ہوئے ازسرنو حکمت عملی کا تعین کیا جائے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پچھتانے، ہاتھ ملنے اور تقدیر کا لکھا کہنا کوئی پالیسی نہیں ہے ، قوم کو بتایا جائے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ٹیسٹنگ کے ڈیٹا کے بارے میں قوم کو بتایاجائے ،حکومت کی اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی حکمت عملی کیا ہے؟ تفصیل بتائی جائے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہترین تدابیر سے نقصانات کم کئے جاسکتے ہیں، وقت تیزی سے گزر رہا ہے، حالات کے مطابق متعلقہ پہلوؤں پر توجہ دی جائے تاکہ نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے،عوام سے اپیل ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرے ورنہ خدانخواستہ حالات ہاتھ سے نکلے جارہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے 1 ہزار365 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد مریضوں کی تعداد 57 ہزار 705تک ہوگئی ہے جبکہ 24 گھنٹوں میں مزید 30 اموات کے بعد مجموعی تعداد1 ہزار 197 تک جاپہنچی ہے

Courtesy gnn urdu