بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کی کینسر سے لڑائی

اپنی ذہانت قابلیت محنت ہمت اور دولت کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض حسین جنہیں ایک دنیا پاکستان میں پراپرٹی ٹائیکون کے حوالے سے پہچانتی ہے ان دنوں بستر علالت پر ہیں وہ اپنی دلیری اور بہادری کے لیے بھی مانے جاتے ہیں اور کچھ عرصے سے بڑی بہادری اور حوصلے سے کینسر جیسے مرض سے لڑائی لڑ رہے ہیں اللہ تعالی ان کو مکمل صحت اور تندرستی عطا فرمائے آمین ۔

بے شک ملک ریاض حسین کوئی فرشتہ نہیں ایک انسان ہے اس لئے غلطیاں کوتاہیاں بھی کی ہو گی لیکن بے شمار دکھی لوگوں کی دامے درمے سخنے جو مدد ہوسکیں انہوں نے کی اور یہ سلسلہ نجانے کب سے اب تک جاری ہے اللہ اسے جاری و ساری رکھیں ۔۔۔۔ان گنت دکھی غریب نادار ضرورت مند افراد اور مریضوں کی دعائیں بھی ملک ریاض حسین کے ساتھ ہیں ۔۔۔

اب جبکہ ملک ریاض حسین خود مریض بن چکے ہیں اور ڈاکٹروں نے پروسٹیٹ کینسر کو قابل علاج مگر سرجری کو لازمی قرار دے رکھا ہے تو ملک ریاض حسین نے اپنے وکیل کو کچھ ضروری ہدایات دی ہیں جن کا کچھ کچھ اظہار سپریم کورٹ میں فروری کے پہلے ہفتے کے دوران توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پر ہوا جہاں وکیل نے عدالت سے پہلے تو ملک ریاض حسین کی غیر حاضری پر استثنا مانگ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملک ریاض حسین کو آنا پڑے گا یہی ایک صورت باقی رہ گئی ہے کہ ملک ریاض حسین انتقال کر جائیں یا پھر سماعت کرنے والے جج صاحب کا انتقال ہو جائے بعدازاں وکیل نے بتایا کہ توہین عدالت کیس میں ان کے موکل اس لیے پیش نہیں ہو سکے کہ وہ شدید بیمار ہیں ان کو کینسر ڈائیگنوز ہوا ہے پروسٹیٹ کینسر کا علاج ہورہا ہے وہ برطانیہ میں ہی ڈاکٹروں نے سرجری کا کہا ہے ۔۔وکیل نے مزید کہا کہ میرے موکل یہ الزام لے کر نہیں مرنا چاہتے کہ وہ عدلیہ کی عزت نہیں کرتے تھے لہذا وہ غیر مشروط معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں تحریری طور پر غیر مشروط معافی نامہ عدالت میں پیش کر دیا جائے گا ۔عدالت میں سماعت پروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی ۔

یاد رہے کہ سال 2012 میں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری پر سنگین الزامات ملک ریاض حسین نے لگائے تھے اور ان کے بیٹے اسلام چوہدری کا نام بھی رات کو سیگریٹ میٹنگز کے حوالے سے لیا تھا۔۔جس پر بعدازاں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے ان کے دعوے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا ۔۔

یہ معاملہ اب تک زیر سماعت ہے اور اب سپریم کورٹ میں ملک ریاض حسین کے وکیل نے اس معاملے کو ختم کرنے کے لئے پیشکش کردی ہے کہ ان کے موکل کی جانب سے غیر مشروط معافی نامہ جمع کرادیا جائے گا ۔
دوسری طرف خود سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے صاحبزادے ارسلان چوہدری بھی اس معاملے پر خاموشی اختیار کرچکے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں