کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے پی آئی اے کے جہاز کے پائلٹ سجاد گل کے نام ایک جونیئر پائلٹ کا خط۔۔

۔۔

سلیوٹ کیپٹن سجاد گل سر!!

میں نے جب سے آپکی کنٹرول ٹاور کے ساتھ گفتگو کی آخری آڈیو سنی ہے، حیران اور پریشان ہوں۔ پہلے پہل لگا یہ فیک آڈیو ہے. بھلا کسی کا خون جگر اتنا بھی برفاب ہوسکتا ہے؟ برقی کھڑکھڑاہٹ.. ایوی ایشن ٹاور کا جواب کہ دونوں رن وے خالی کرا لیے گئے ہیں اور مزید کھڑکھڑاہٹ.. آپ کی جانب سے لینڈنگ کی کوشش، مگر لینڈنگ گئیر نہ کھل سکنے کے بعد آپکا پھر سے طیارہ فضا میں بلند کرنا….
پھر “مے ڈے – مے ڈے” کی آواز!ایوی ایشن کی دنیا میں یہ دو لفظ سب سے خطرناک الفاظ ہیں. یعنی کہ ڈیتھ وارنٹ پر سگنیچرز…اور آگے اللہ مالک ہے.

اپ نے اپنے 24 سالہ فلائنگ کیرئیر میں 17 ہزار گھنٹے جہاز اڑائے تھے. صرف ائیر بس A320 ہی 4700 گھنٹوں سے زیادہ اڑائی تھی. اس کے باوجود آپ ایک تباہ شدہ جہاز کے پائلٹ کیوں قرار پائے جس میں 97 لوگ لقمہ اجل بن گئے. میں آپکی آخری آڈیو گفتگو سنتا ہوں تو میری رگوں میں کوئی لکڑیاں جلاتا ہے. نیند میری آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے. اس لیے نہیں کہ وہ ایک مرتے ہوئے آدمی کی گفتگو ہے. اس لیے کہ اس کی زبان سے یہ الفاظ سنتا ہوں “مے ڈے – مے ڈے” اور “ہمارے انجن ناکارہ ہوچکے ہیں”.
یہ الفاظ بہت واضح ہیں. ان میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں، سانس نہیں پھولا ہوا اور نہ ہی رقت کا کوئی اندیشہ ہے. نہ ہی کوئی جذباتی تھرتھراہٹ ہے.
یہ ایک کیپٹن کی باوقار آواز ہے، جو جہاز لینڈ کرنے کی بہترین کوشش کر چکا ہے اور پھر آخری مہلت کی تلاش میں ہے. وہ موت کو اپنی طرف چھلانگیں مارتے ہوئے بڑھتا ہوا دیکھ رہا ہے، مگر وہ پورے حواس میں اپنی آخری کوشش کرتے ہوئے اس سے پنجہ لڑا رہا ہے. ہار ماننے کو تیار نہیں ہے.
مجھے یہ آواز سن کر ٹائی ٹینک کا وہ بوڑھا کپتان یاد آیا جو اپنے غرق ہونے والے جہاز پر پورے وقار کے ساتھ قد آور کھڑا رہا، حتیٰ کہ وحشی پانیوں نے اسے تاراج کر لیا.


جس دھج سےکوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے!!

ہم سب کی طرف سے آپکو سلیوٹ کیپٹن سجاد گل!!!
اللہ آپ سے راضی ہو، آپکے جہاز کے انجن ناکارہ ہو چکے تھے لیکن آپ نے اپنی آخری سانس تک موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حواس کو قابو میں رکھا لیکن یہ نالائق پی آئی اے انتظامیہ اور اس کو چلانے والے نالائق ائیرفورس آفیسرز ہمیشہ کی طرح اپنی ناکامیوں کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

سر سجاد گل۔ پی آئی اے کے فوجی افسران جہاز کی ٹیکنیکل خرابی کو بھی آپ کے کھاتے میں ڈال کر خود کو اسکی ذمہ داری سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔
کمرشل جہازوں کے پائلٹ ہیرو نہیں ہوتے. اگر وہ جہاز تباہ و برباد ہوجائیں تو پھر تو وہ بالکل ہیرو نہیں ہوتے. مگر آپ ہمارے ہیرو ہیں کیوں کہ
جہاز کے دونوں انجن فیل ہو جانے کے باوجود آپ جس وقار سے اس قابو کرنے کی کوشش کرتے رہے، ایک حواس باختہ پائلٹ اس طرح نہیں کرتا.

یو ٹرائیڈ یور بیسٹ سر!!!
ریسٹ ان پیس۔۔۔۔