لیکن ٹوٹی کمر کے ساتھ پی آئی اے نے اپنے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑا۔

حقائق . کل سے پی آئی اے اور پائلٹوں کی نااہلی کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی بپا ہوا ہے جو موقع کی مناسبت سے نہایت ہی غلط بات ہے۔
میں نہ پی آئی اے کو غلطی سے پاک سمجھتا ہوں اور نہ ہی ان کی نااہلی کا انکاری ہوں۔ لیکن میں ایک الگ نقطہ نظر ضرور رکھتا ہوں۔

جب سے کرونا کی وبا شروع ہوئی دنیا بھر کی ائیر لائن گراٶنڈ ہوئیں لیکن ٹوٹی کمر کے ساتھ پی آئی اے نے اپنے لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ جدھر جدھر پھنسے لوگ تھے انہیں نکالا۔ اس کا صلہ کیا ملا جو خصوصی فلائٹ کے لئے چند ہزار روپیہ ٹکٹ کےلئے زیادہ لیا گیا اس کو بڑھا چڑھا کر سوشل میڈیا پر ویڈیو بنا کر بجائے ” شکریہ پی آئی اے“ کہنے کی گالیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔
پیسے ہاتھ میں لئے جب ٹکٹ نہیں مل رہا تھا کوئی ائیر لائن لے جانے کے لئے تیار نہیں تھا پی آئی اے نے آپ کو گلے لگایا لیکن نمک حرام انسان کی طرح تجھے چند ہزار روپے زیادہ لینے سے ہی تکلیف ہوئی۔

ہم پردیس میں رہنے والوں کی جب موت ہوتی ہےتو دوسری ائیر لائن لاکھوں کا ٹکٹ لیتی ہے اور پی آئی اے ہمیں مفت میں لے جاتی ہے۔
پی آئی اے کی نااہلی خود پی آئی اے کی وجہ سے نہیں ان حکمرانوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے ذاتی فائدے اور ذاتی ائیر لائنز کی ترقی کے لئے جان بوجھ کر پی آئی اے کا بیڑہ غرق کیا۔
پی آئی اے کی بربادی میرے اور آپ جیسوں کی وجہ سے ہوئی جنہوں نے رشوت دے کر اور سفارش دے کر قابلیت نہ ہونے کے باوجود اپنی بھرتی کروائی۔
پی آئی اے کی بربادی سیاسی لوگوں کی پی آئی اے میں بھرتی اور پھر ان کی یونین بازی کی وجہ سے ہوئی جس میں ، میں اور آپ بھی شامل ہیں۔
اس بربادی میں میرا اور آپ کا ہاتھ ہے۔ پی آئی اے تو ہمارے ظلم کا شکار ہوئی اس کو برا بلا کہنے کی کیا ضرورت۔

موجودہ چٰیئرمین ارشد ملک نے دو سالوں میں پی آئی اے کو خسارے سے نکالا اور منافع میں لے آیا۔ وہ ہر چیز اتنی جلدی ٹھیک نہیں کر سکتا۔ ابھی تک ماضی کی حکومتوں کی سیاسی بھرتیوں سے پی آئی اے بھرا پڑا ہے۔ اور ان حرامخور ملازمین کی یونین اب بھی بلیک میلنگ کرتی رہتی ہے۔ یہ ٹھیک ہو گا لیکن وقت لے گا۔
ہمیں پی آئی اے کی حوصلہ افزائی کرنی ہے ہمیں ان کی ہمت بڑھانی چاہئے۔ کیا کل پائلت کی باتیں نہیں سنی کریش سے پہلے۔؟
کتنا حوصلہ مند انسان تھا؟
موت کو سامنے دیکھ کر نہ خوف اور نہ گھبراہٹ۔
آخر تک آبادی بچانے اور جہاز بچانے کی کوشش کی
اور آخر میں اپنی ہی سیٹ میں اس کی جلی ہوئی لاش ملی۔
کیا اس کو یہ موت پسند تھی ؟
بالکل نہیں۔
ہمیں ان کی قربانیاں یاد رکھنی چاہئے نہ کہ ان کی قربانیوں کو نظر انداز کرکے کسی سیاسی نااہلی،کسی سفارشی ،رشوت خور نالائق کی نااہلی کا ملبہ پی آئی اے کے اچھے اور بہترین ملازمین پر ڈالنا چاہئے اور ان پر چڑھائی کرنی چاہئے۔

میری معلومات کے مطابق یہ طیارہ خراب تھا پہلے سے، اس کی مرمت بھی کی جا چکی تھی۔ کچھ سپیر پارٹس کی طلب بھی کی گئی تھی بار بار جو فراہم نہیں کئے گئے۔
میری رائے کے مطابق جس ذمہ دار شخص نے اس جہاز کے سپیر پارٹس لانے میں رکاوٹ ڈالی یا اس کو وقت پر نہیں لایا، اسکے ساتھ اس شخص کو جس نے خرابی کے باوجود جہاز کو لاہور ائیر پورٹ سے کلیرنس دی ان دونوں کو فورا معطل کرکے ان پر سزائے موت کا کیس کرنا چاہئے۔ اس میں نہ کسی کمیشن اور نہ ہی تخقیقات کی ضرورت ہے۔ ایک دو کو فورا سزا مل جائے تو پی آئی اے کا سارا نظام ٹھیک ہو جائے گا۔
جب تک سیاسی بھرتیوں والے نالائق ملازمین کو نہیں نکا لا جائے گا یہ مشکلات سامنے آئیں گی۔ معصوم زندگیاں ختم ہوتی جائیں گی اور پی آئی اے بہتری کی طرف نہیں جا پائے گی۔