میڈیا سیٹھ کے احتجاجیوں کو ڈرانے دھمکانے میں کس کا ہاتھ ہے؟

—–علیم عثمان


باور کیا جاتا ہے کہ ”جیو“ اور ”جنگ“ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کے خلاف جاری احتجاج سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے پیچھے ایک حریف میڈیا ہاؤس کے مالک کا بھی ہاتھ ہے جس کے بزنس کو چند سال قبل میر شکیل الرحمن نے مبینہ طور پر سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے تعاون سے برباد کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ حریف ٹی وی چینل کے مالک نے نیب حکام کو اس بات کو یقینی بنانے کے عوض خاصا ”مال“ لگایا کہ ”ملزم“ کی عید نیب لاک اپ میں گزرے اور میر شکیل الرحمن عید سے پہلے باہر نہ آنے پائے تاہم عدالت نے میر شکیل الرحمن کو نیب کی تحویل میں مزید رکھنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں ”جوڈیشل کرتے“ ہوئے یعنی نیب حوالات کی بجائے جیل بھجوانے اور عملاً اسپتال منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اپنے دشمن کو مزید نیب تحویل میں رکھوانے میں ناکام ہوجانے کے بعد اس میڈیا ہاؤس کے مالک جو خود طویل عرصہ جیل بھگت چکا اور اس کا ذمہ دار صرف اور صرف میر شکیل الرحمن کو سمجھتا ہے، اس نے اب اپنے کاروباری دشمن کی حراست کے خلاف احتجاج پر بیٹھے لوگوں کو ہراساں کروانا شروع کر دیا ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ میر شکیل الرحمن کی رہائی کے لئے لاہور پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال کیے بیٹھے سینئر صحافی اظہر منیر کو مختلف طریقوں سے بھوک ہڑتال ختم کر دینے پر آمادہ اور ہراساں کرنے کی کوششوں کے پیچھے اس حریف ٹی وی چینل کے مالک کا بھی ہاتھ ہے، اس لئے کہ خود اس کی گرفتاری کے خلاف لاہور پریس کلب میں احتجاجی کیمپ لگوانے میں کامیابی نہیں مل سکی تھی لہذا اب اس کی کوشش ہے کہ کم از کم جس حد تک ممکن ہو میر شکیل الرحمن کے حق میں بھی احتجاج ختم کروا دیا جائے۔

بھوک ہڑتالی صحافی اظہر منیر کا تو یہاں تک ماننا ہے کہ بدھ کی شام ایک کار میں سوار جن 4 افراد نے انہیں زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے جانے کی ناکام کوشش کی، انہیں بھی اسی حریف ٹی وی چینل کے مالک نے بھجوایا تھا، اظہر منیر کے مطابق کچھ عرصہ قبل بھی فیس ماسک چڑھائے اور ہیلمٹ پہنے ایک موٹر سائیکل سوار ان کے پاس آیا تھا اور اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لئے ان پر دباؤ ڈال رہا تھا ”میرے صاف انکار پر اس نے مجھے دھمکیاں دینی شروع کر دیں اور کہا ہمیں پتہ ہے تم پیدل آتے جاتے ہو، کوئی ٹرک پیچھے سے آکر تمہیں کچل دے گا“ بھوک ہڑتالی صحافی کا کہنا ہے ”میری بھوک ہڑتال کے شروع ہی میں“بول” ٹی وی کا اینکر اسد کھرل میرے پاس آیا تھا جو میر شکیل الرحمن کے خلاف نیب میں دائر مقدمے کا مدعی ہے، اس نے مجھ سے بھوک ہڑتال نہ کرنے کی درخواست کی تھی“

پچھلے 55 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ انہیں شروع ہی سے بھوک ہڑتال جاری رکھنے سے باز رہنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، پہلے فون میسیجز اور کالوں کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات دیے جاتے رہے اور پھر نامعلوم بندے بھیج کر ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 3 حریف میڈیا ہاؤسز کے ٹی وی نیوز چینلز میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کے روز سے ہی اپنی پوری توانائیاں اپنے ”دشمن“ کی بدنامی کے لئے وقف کیے دکھائی دیتے ہیں، جن کے مالکان کسی نہ کسی انداز میں ”جنگ / جیو“ کے مالک میڈیا سیٹھ کے ”ڈسے“ ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک میڈیا ہاؤس کے مالک جس کے ٹی وی چینل کا نام بھی اسی کے نام کے مخفف پر ہے، ماضی میں دوبئی میں ”اے آر وائی ریزیڈنشیا“ کے نام سے جو ہاؤسنگ سکیم شروع کی تھی، اس کی ناکامی کو ”جیو“ چینل پر خاصا اچھالا گیا تھا، ایک دوسرے میڈیا ہاؤس کے مالک کی طرف سے نیب کے ساتھ پلی بارگین کے حوالے سے بقیہ رقم کی ادائیگی میں مبینہ ”ہینکی پینکی“ کو بھی روزنامہ جنگ میں اچھالا گیا تھا جبکہ تیسرے میڈیا ہاؤس کے مبینہ جعلی ڈگریوں کے کاروبار کو ”جنگ“ اور ”جیو“ پر اچھالنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اور اتفاق سے یہ تینوں میڈیا ہاؤسز، خاص کر ان کے ٹی وی چینلز بارے یہ تاثر عام ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے پوری طرح ہمنوا ہیں۔