زندگی کتنی بے وفا ہے فضائی حادثے نے پوری قوم کو اداس کر دیا

زندگی کتنی بے وفا ہے
فضائی حادثے نے پوری قوم کو اداس کر دیا۔
سہیل دانش
وہ ایک غم ناک صبح تھی۔ آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے کے ساتھ دل بھی دھڑکنے لگا۔پھر دوسری طرف اپنے بہت ہی پیارے دوست عباس کی اہلیہ کی آوازسن کر جیسے جسم سے جان نکل گئی۔غمگین اور لرزتی کانپتی آواز میں اس نے مجھے اسلام آباد میں ائیر بلو طیارے کے کریش کی خبر سنائی۔ طیارہ مرگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا گیا تھا۔ عباس بھی اسی طیارے کا مسافر تھا۔ وہ وہاں جا چکا تھا، جہاں سے کوئی واپس نہیں آ تا۔عباس کے ساتھ ساتھ 152مسافروں نے بھی ہمیشہ کے لئے آنکھیں موند لیں تھیں۔نہ جانے کتنے کفیل رخصت ہوئے، کتنے بچے یتیم ہوئے اور کتنی ماؤں کے لخت جگر انہیں ہمیشہ کے لئے روتا چھوڑ گئے۔
زندگی کتنی بے اعتبار ہے۔ مجھے اس شام احساس ہوا جب ٹیلی ویژن کی چنگھارٹی خبر نے صف ماتم بچھا دی۔ ہر آنکھ چھلک پڑی تھی۔پی آئی اے کا ATRطیارہ اسلام آباد کے قریب پہاڑی سلسلے سے ٹکرا کرکریش ہو چکا تھا۔بد قسمت طیارے کے مسافروں میں جنید جمشید جیسا نامور فرزند بھی تھا۔وہ آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی تھی۔ جس کے سحر میں ایک زمانہ گرفتار رہا۔ گانے ہوں، قومی نغمے ہوں یا حمد اور ثناء رسول ﷺ اس کی جادو بھری آواز ایسی دلا آویز کہ چلتے قدم رک جائیں۔ ایسا انسان جس کی زندگی نے پلٹا کھایا تو وہ صوفی بن گیا۔جنید سے محبت کا رشتہ کئی حوالوں سے بہت دیرینہ تھا۔ سچ مچ وہ پرفارمنس کا بادشاہ تھا۔ میں نے کئی تقریبات میں اس کی آواز پر نوجوانوں کو دیوانہ وار رقص کرتے دیکھا پھر اس کی زندگی میں انقلاب آیا۔ تو وہ عاشق رسول بن گیا۔ ایک سچا کھرا اور پابند مسلمان بن گیا۔ درود شریف پڑھے بغیر وہ رسول اللہ ﷺ کا نام نہیں لیتا تھا۔اس کی آواز میں ایسی تاثیر تھی کہ اس کا نعتیہ کلام سن کر آنکھیں چھلک پڑتی تھی۔ جب اس کی وفات کی خبر سنی تو سچ پوچھیں میرے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ ہاتھ کانپنے لگے اور دل بجھ گیا۔ اس طیارے حادثے کے بعد بھی نہ جانے کتنی بہنوں نے اپنے بھائیوں کی جدائی پر بازو پر دانت جما کر چیخ ماری ہو گی اور کتنی ماؤں نے اپنی چھاتیوں پر ہاتھ ما را ہو گا۔ چلا چلا کر آہ زاری کی ہو گی۔ میرا لعل چلا گیا۔ یکلخت کتنے سہاگ اجڑے ہونگے۔
اور یہ تو کل ہی کی بات ہے کہ پی کے 8303کے کیپٹن سجاد گل گھر سے روانہ ہوئے ہونگے تو انکی اہلیہ کی آنکھوں میں محبتوں کے موتی جھلملائے ہونگے۔ شوہر کو رخصت کرتے ہوئے ان کے لبوں پر دعائیں ہونگی۔جہاز کے پائلٹ، بر سرز اور ائیر ہوسٹس بھی گھر والوں کی نیک تمناؤں اور دعاؤں کے ساتھ کراچی کے لئے روانہ ہوئے ہونگے۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ کراچی میں موت کا فرشتہ ان کا انتظار کر رہا ہے اور یہ سفر ان کا آخری سفر ثابت ہو گا۔یہ تو شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ کبھی کبھی منزل کے اتنے قریب پہنچ کر بھی منزل چھوٹ جاتی ہے۔ زندگی کتنی بے وفا ہے۔
فضاؤں میں پرواز تھی۔اونچی اڑان۔ آنکھوں میں سپنے۔ دوستوں سے ملاقات تھی۔ گھر والوں سے بھی ملنا تھا۔ انتظار تھا۔ ایک آس تھی۔ ایک پل یقین کا آ بسا تھا۔ فضا میں ایک آواز گونجی، سپنے ٹوٹے، تباہی کا شور برپا تھا۔ اداسی کی رت چھا گئی۔ بہت سوں کی قضائے الٰہی آ پہنچی۔
ان میں زین پولائی بھی تھے۔ہمیشہ دمکتے چہرے کے ساتھ خوش رہنے والے انہیں دیکھ کر احساس ہو تا تھا کہ زندہ لوگ کیسے ہوتے ہیں۔ میرا تین دہائیوں سے ان کی فیملی اور بزرگوں سے محبت اور ارادت کا رشتہ تھا۔ شاید اس وقت سے جب میں جنگ میں رپورٹر ہو ا کرتا تھا۔زین کو دیکھ کر رشک آتا کہ خدا نے انہیں شریک حیات دی تھی، نفاست اور سلیقہ جن کی زندگی میں جھلکتا تھا۔ اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں لندن میں مقیم تھی۔ زین اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ گذشتہ دنوں اپنے تینوں بچوں کے ہمراہ لندن سے لاہور آئیں۔ تین دن پہلے زین اپنی فیملی کو لینے کراچی سے لاہور گئے تھے اور پورا خاندان PK8303میں سوار تھا جو کہ موت کی سواری ثابت ہوا۔اسی کا نام زندگی ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کب روٹھ جائے گی۔قیامت کیسی ہو تی ہے کوئی ان کی فیملی سے پوچھے نماز عید سے پہلے جنازے جن کے گھر میں ہوں۔
میرے دوست سید انصار نقوی بھی اس حادثے میں اس دنیا سے کوچ کر گئے۔اپنے ادارے 24کا وہ قیمتی اثاثہ تھے۔جتنا میں انہیں جانتا ہوں، انکے عمل اور گفتار میں کوئی تضاد نہیں تھا۔وہ ایک جینٹل مین تھے، منکسر المزاجی اور دلا آویز شخصیت کے مالک۔ وہ صحافی برادری میں بڑے ہر دلعزیز تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جاذب طرز تکلم کا مالک بنا یا تھا۔سچی بات تو یہ ہے کہ وہ ہم سب کو اداس کر گئے۔وہ ایسے انسان تھے جو بار بار اور دیر تک یاد آتے رہینگے۔واٹس ایپ پر انکے پیغامات اور تصاویر انکی یادوں کو تازہ کرتے رہینگے۔
سیکنڈ لیفٹیننٹ حمزہ یوسف پاسنگ آؤٹ کے بعد پہلی بار گھر آ رہے تھے۔ابھی تو انکے والدین نے ان کے کندھے پر وہ اسٹارز دیکھنے تھے جو انکے خواب تھے، انکی تمنا تھی مگر اس حادثے میں وہ بھی شہید ہو گئے۔ ایک منٹ میں کیا سے کیا ہو گیا۔ ساری امیدیں، سارے خواب بکھر گئے۔زندگی بھی کس بے یقینی کا نام ہے۔ جس کے ایک پل کابھی کسی کو علم نہیں۔ رضوان مغل بھی اس جہاز کے مسافر تھے۔پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک تھے۔ اپنے حلقہ احباب میں بڑے مقبول شخصیت تھے۔ مستقبل کے لئے ہر وقت کچھ ناکچھ منصوبہ دبنی کرتے رہنا انکا معمول تھا لیکن اس زندگی کا کیا کیجئے جو ایسی بے وفا ہے کہ مہلت ہی نہیں دیتی۔ لیکن نہ جانے کبھی کبھی موت سے پہلے انسان کا دل دھڑکنے لتا ہے۔ اندیشے اور احساس اس کے دل پر دستک دینے لگتے ہیں۔ کیپٹن سجاد گل گھر سے روانہ ہوئے تو اپنے والد کو عیدی کے لئے چند ہزار روپے دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سے ایک ایک ہزار روپے بچوں کے لئے اور دس ہزار روپے اپنی بہو یعنی انکی اہلیہ کو اپنے ہاتھوں سے دے دیجئے۔ انکے والد کے استفسار پر کہ یہ عیدی تم خود دے دینا لیکن انہوں نے ضد کی کہ یہ آپ اپنے ہاتھوں سے دیجئے گا۔ انہوں نے اپنے لائق فرزند کے متعلق بتایا کہ وہ اپنے ضرورت مند ساتھیوں کی خاموشی سے بڑی مدد کرتے۔ انہیں آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ملتی لیکن اس کا ایک بڑا حصہ انہوں نے ضرورت مندوں کے لئے مختص کیا ہوا تھا۔ کیپٹن سجاد نے سینکڑوں بار عمرے اور متعدد بار حج کی سعادت بھی حاصل کی ہوئی تھی۔وہ بڑے رحمدل اور شفیق انسان تھے۔ اس حادثے کے بعد کتنے گھروں کے چراغ گل ہو گئے۔ کتنے گھروں میں ماتم کی فضاء ہو گی۔ کتنی مائیں سینہ کوبی کر رہی ہونگی اور کتنے بچے اپنے والد کی شفقت سے محروم ہو گئے۔جب یہ خبر ٹی وی پر نشر ہوئی تو ہر آنکھ نم ہو گئی۔ٹی وی اسکرین پر قیامت صغریٰ کا منظر تھا۔ ہر طرف آگ اور دھواں۔انسان سوچتا کیا ہے اور ہوتا کیا ہے۔کسی کو نہیں معلوم کے اسکے مقدر میں کیا لکھا ہے۔پھر قدرت معجزات بھی دکھاتی ہے۔ اسی طیارے میں سفر کرنے والے ظفر مسعود اور زبیر معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔انہی موت چھو کر گزر گئی کیونکہ موت کے فرشتے کو حکم نہ تھا۔یقیناً قدرت کو ابھی ان کی زندگی مقصود تھی۔ ظفر مسوعد اور زبیر پر کیا گزری۔ جہاز میں کیا ماحول تھا۔ مسافروں نے کب خطرہ محسوس کیا۔ اس پر آئیندہ تفصیل سے لکھونگا۔
یہ حقیقت ہے کہ فضائی حادثے میں کسی کا بچ جانا ایک معجزہ ہی ہوتا ہے۔ اس حادثے نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض سوال اپنے جوابات سے ذیادہ جامع ذیادہ مکمل اور بلیغ ہوتے ہیں۔کیپٹن جہاز رن وے تک لائے پھر جہاز فضاء میں بلند ہو گیا۔ انہوں نے مے ڈے کا سنگل دیا۔ جس سے ظاہر تھا کہ جہاز کے انٹرنل اسٹرکچر میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ جہاز بہت کم بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ کیا پرندوں کا کوئی غول اس سے ٹکرایا؟ کپتان نے کنٹرول ٹاور کو یہ بھی بتایا کہ اس کے جہاز کے انجن فیل ہو گئے ہیں۔ وہ مدد کے لئے پکار رہے تھے لیکن ان کی آواز میں عزم تھا۔ وہ مسافروں کو صرف یہی بتا رہتے تھے کہ ہم لینڈنگ کر رہے ہیں۔ آخر میں اس کا کوئی حصہ ایک چار منزلہ گھر کے بالا ئی حصہ سے ٹکرایا۔ جہاز کی آخری لمحات کی ویڈیو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسکا کنٹرول کپتان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔پھر سب ختم ہو گیا۔ جیسے ہی یہ خبر ائیر پورٹ پر پہنچی۔ وہاں ان کو ریسیو کرنے والے منتظر پیاروں کے چہروں پر غم و کرب کے سائے لہرائے ہونگے۔ انہوں نے اپنے سینوں پر ہاتھ مارا ہو گا، انکی چیخیں نکل گئی ہونگی۔
آج رخصت ہونے والے ان لوگوں کے گھروں میں اہیں اور سسکیاں ہیں۔ باقی ہر چیز اپنی جگہ پر ہے لیکن وہ نہیں ہیں نہ جانے کتنیاداس نظریں اپنے پیاروں کو تلاش کر رہی ہیں۔ اچانک ہی وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔اب وہ کبھی نہیں آئینگے۔بس انکی باتیں ہیں اور یادیں۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ دنیا سے چلے جانے والے ان پیارے انسانوں کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ آمین