یادوں کے جھروکوں سے – عابد حسین قریشی

یادوں کے جھروکوں سے

عابد حسین قریشی

(6)

اوکاڑہ سے جُڑی کچھ مزید یادیں

اچھے وقت تھے۔ لوگ جوڈیشل افسران کا آفیسرز کلب میں آنا جانا بُرا نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ کسی جوڈیشل آفیسر کا اُس زمانہ میں ٹینس کھیلنا اُسکے وقار میں اضافہ کا باعث سمجھا جاتا تھا خصوصاً اگر ضلع کا سیشن جج بھی کلب مائینڈڈ ہو۔ اوکاڑہ کلب میں دیگر یادگاری لمحات میں پروفیسر نواز کی دلچسپ جملہ بازی کہ اُنہیں اللہ تعالٰی نے ذہانت کے ساتھ دل پزیر قسم کی طنز و مزاح کی خوبی بھی ودیعت کر رکھی تھی۔ کلب میں شام کو ٹینس جس میں ملک مشتاق احمد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، افضال حسین کاظمی سول جج، شیخ سعید احمد اسسٹنٹ کمشنر، رائے ناصر، رائے سلیم مرحوم،پروفیسر نواز، طارق اور کچھ دیگر دوست نمایاں کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ اوکاڑہ کلب کی خوبصورت یادوں کا تذکرہ نئے آنے والے سیشن جج مرحوم شیخ مظفر حسین کا ذکر کیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا جو روزانہ شام کو گپ شپ کے لیے کلب تشریف لاتے۔ اُنکے ساتھ وضع داری میں بے مثال جوڈیشل مجسٹریٹ رائے محمّد امین بھی ہوتے۔ کیا خوبیوں والا انسان تھا کہ بیک وقت ڈپٹی کمشنر، سیشن جج اور ایس۔ایس۔پی کی آنکھوں کا تارا۔ ہر ایک کا ہمدرد و غمگسار۔ چند سال قبل ہمیں داغِ مفارقت دے گیا۔

اوکاڑہ کلب میں تاریخی مشاعرہ میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ جس میں اُس وقت کے تقریباً تمام بڑے شعرا نے شرکت کی۔ جن میں منیر نیازی، قتیل شفائی، ضمیر جعفری، کشور ناہید اور ظفر اقبال وغیرہ شامل تھے۔ مگر مشاعرہ پنجابی کے مشہور شاعر ظہور حسین ظہور جو تازہ تازہ شاہی قلعہ میں جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء کی سزا بھگت کر رہا ہوئے تھے نے لوٹ لیا۔ اُنکا یہ شعر جو اُنکے کلام کی جان تھا آج بھی قلب و روح میں سحر انگیزی کے ساتھ ایک انقلابی سی کیفیت طاری کر دیتا ہے۔

سوچاں دی میّت نوں لے کے ہُن میں کیڑے گھر جاواں گا

جے بولاں تے مار دیون گے نہ بولاں تے مر جاواں گا


اوکاڑہ کی پوسٹنگ میں ایک سیکھنے کا عمل جاری تھا اور اس عمل کی آبیاری میں کچھ ساہیوال کے سینئر وکلاء کا بھی بڑا دخل تھا۔ اوکاڑہ ضلع بننے سے پہلے ساہیوال کی تحصیل تھا۔ اور ساہیوال سے بہت سے مقدمات ضلع بننے کے ساتھ ٹرانسفر ہو کر اوکاڑہ آئے۔ اس طرح ساہیوال کے کئی سینئر وکلاء جن میں چوہدری امداد علی جو اپنی قابلیت، اہلیت اور پیشہ وارانہ صلاحیت پر نازاں اور احساس تفاخر سے بھر پور اور بلاشبہ ان کا شمار پنجاب میں سول لاء کے بہترین وکیلوں میں ہوتا تھا۔ریونیو لاز پر اتھارٹی اور ذہین و فطین چوہدری صدیق کمیانہ، ریونیو لاز کی کئی کتابوں کے مصنف اور عاجزی اور انکساری کا پیکر چوہدری نور الہی، نہایت مرنجا مرنج، شگفتہ مزاج اور اعلیٰ اخلاقی روایات کے امین چوہدری حسن علی اور شیخ احسن حفیظ وغیرہ شامل تھے۔ یہ سب ہفتہ میں ایک روز کے لیے اوکاڑہ آتے رہے۔ مجھے بھی یہ سعادت اور اعزاز ملا کہ ان سبھی نے میرے پاس بھی مختلف مقدمات کی پیروی کی۔ ایک دفعہ چوہدری امداد علی ایڈوکیٹ جو میری عدالت میں ایک مقدمہ میں بحث کر رہے تھے۔ میں حیران تھا کہ اُس خاص نکتہ پر جب سے ضابطہ دیوانی وجود میں آئی تمام انڈین عدالتوں کے ریفرنس پھر قیام پاکستان کے بعد تمام پاکستانی عدالتوں کے ریفرنس اور وہ بھی زبانی۔ بحث کا طریقہ اور اسٹائل پُر اعتماد اور کمال کا تھا۔

پھر ایک مرتبہ چوہدری حسن علی ایڈوکیٹ میرے پاس ایک نیا دعوٰی لے کر آئے۔ میں نے سرسری سا جائزہ لیا اور کہا کہ چوہدری صاحب آپکا کوئی کیس نہیں بنتا۔ ناراض ہونے کی بجائے بڑی ملائمت اور پیار سے ایک سینئر وکیل ایک سول جج کلاس سوئم سے یوں مخاطب ہوا:
“ Sir, I know i have no case but please
listen me for five minutes”

میں نے سُننا شروع کیا یقین جانیے اُسی دعویٰ میں عارضی حکم امتناعی جاری کرنا پڑا اُس روز یہ بات بھی عیاں ہوگئی کہ جج کے لیے وکیل کو سُننا کتنا ضروری ہے۔ اس بات کا بھی اندازہ ہو گیا کہ وکیل کا کلائینٹ اُسے بولنے کے پیسے فیس کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ جبکہ جج کو حکومت سُننے اور فیصلہ کرنے کی تنخواہ دیتی ہے۔ جب جج زیادہ سُنے اور کم بولے تو انصاف تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ عدالت میں جج کا ذیادہ بولنا کئی مرتبہ بدمزگی کا باعث بن جاتا ہے۔

ابتدائی دنوں میں ایک دلچسپ قانونی معاملہ درپیش ہوا جو قانون سے زیادہ ہمارے قلب و نظر کی عکاسی کر رہا تھا۔ اور آئندہ آنے والے وقتوں میں راہنمائی کے اُصول بھی وضع کر رہا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ سروس کہ پہلے ہی مہینے ایک دعویٰ حکم امتناعی کسی غریب نان بائی/کرایہ دار نے دائر کیا کہ اُسے لینڈ لارڈ زبردستی بے دخل کرنے جا رہا ہے۔ حکم امتناعی کے دو تین روز بعد مدعالیہ معہ کونسل حاضر آگیا اور بیان قلم بند کروایا کہ وہ مدعی کو کسی بھی غیر قانونی طریقہ سے بے دخل نہ کرے گا۔ لہٰذا دعویٰ نپٹا دیا گیا۔ مگر اُسی سے اگلے روز ہی وہ نان بائی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا اور درخواست توہین عدالت و واپسی قبضہ گزاری کہ مدعالیہ نے گزشتہ روز عدالت میں متذکرہ بالا بیان قلمبند کروانے کے بعد اُسے زبردستی دکان متنازعہ سے بے دخل کر دیا ہے۔ خیر مدعالیہ کو نوٹس جاری کیے۔ اگلے روز مدعالیہ حاضر آیا اور بیان کیا کہ مدعی نے چند ہزار روپے لے کر قبضہ خود چھوڑا ہے۔ جبکہ مدعی مسلسل روے جا رہا تھا کہ وہ غریب آدمی ہے اور اُسے زبردستی بے دخل کیا گیا۔ بظاہر معاملہ شہادت طلب تھا کہ پہلے تنقیحات وضع کی جائیں۔ مگر نجانے کیوں دل یہ کہہ رہا تھا کہ مدعی سچی بات کر رہا ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی دن میں وہ رضاکارانہ طور پر قبضہ بھی دے دے اور اُسی روز عدالت میں آکر فریاد رسی بھی کرے۔ جبکہ ملکیت کا کوئی جھگڑا ہی نہ ہے۔ بہرحال بحث سماعت کرنے کے بعد ہم نے حکم جاری کیا کہ درخواست توہین عدالت کا فیصلہ تو شہادت قلمبند کر کے کیا جائے گا۔ البتہ مدعی کا قبضہ دکان متنازعہ پر بحال کیا جاتا ہے۔ بیلف نے ایک دن دیدہ دانستہ کاروائی دخل سے گریز کیا تاکہ فریق ثانی عدالت اپیل میں داد رسی لے سکے۔ اگلے ہی روز عدالتی وقت ختم ہونے کے قریب ملک مشتاق احمد صاحب جو اُس وقت اوکاڑہ میں واحد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج تھے نے یاد فرمایا۔ میں ڈرا سہما ہوا اُنکے چیمبر میں داخل ہوا۔ پہلا سوال تھا کہ یہ حکم کس قانون کے تحت جاری ہوا۔ میں نے بے ساختی سے جواب دیا کہ قانون کا تو پتہ نہیں سر مگر میرا دل کہتا تھا کے مدعی کہ ساتھ زیادتی ہوئی ہے لہذا اسکا قبضہ تو فوری بحال کرایا جائے۔ ملک صاحب نے بھر پور قہقہہ لگایا اور کہا میرا دل بھی یہی کہتا ہے۔ اور میں نے اُنکی نگرانی ابتدائی بحث میں ہی خارج کر دی ہے۔ اسطرح کے واقعات تقریباً سبھی جوڈیشل افسران کو پیش آتے ہیں مگر یہ یقیناً مستقبل میں راہنمائی کر دیتے ہیں۔ اور میرے لیے اس میں رہنمائی کا پہلو یہ تھا کہ سارے اچھے اور دلیرانہ فیصلے دماغ سے نہیں کبھی کبھی دل سے بھی ہوتے ہیں۔

یہ بھلے وقتوں کی باتیں ہیں جب شکایت بازی کا رحجان بہت کم تھا۔ وکلاء وضع دار تھے۔ قوت برداشت زیادہ تھی۔ اوکاڑہ میں میری پوسٹنگ تقریباً تین سال رہی۔ اُس وقت اوکاڑہ کے سارے سینئر وکلاء جن سے میں نے بہت سیکھا بار کی شان اور آن تھے جن میں خصوصاً چوہدری عبدالشکور سلیمی، لالہ انور، کنور سعید، نزیر چاندا، ملک فخر حسین، سیّد مقبول شاہ، رانا احد اور چوہدری ریاض الحق بھی سول سائیڈ پر اچھے وکلاء شمار ہوتے تھے۔آخرالذکر دو وکلاء ابھی جوان تھے مگر وکالت میں کامیابی کا کرنٹ موجود تھا۔ متذکرہ بالا بزرگ وکلاء کے علاوہ اوکاڑہ بار عمومی طور پر ایک پر امن، وضع دار اور اچھی روایات کی پاسدار بار تھی۔ کنور سعید مرحوم تو اپنی وضع داری میں بے مثال تھے اور صُلح جو آدمی تھے۔ ہر تنازع کا حل اُنکے پاس موجود ہوتا تھا۔ اور یار لوگ اُن کی مذاکراتی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں اوکاڑہ کا “ ہنری کسنجر” بھی کہتے تھے۔ وہ اپنے ہونہار بیٹے طیب سعید جو ایک فرض شناس پولیس افسر تھے کی عروج شباب میں شہادت کا غم دل پر لے گئے۔ معروف و منفرد غزل گو شاعر ظفر اقبال جو ممتاز اینکر آفتاب اقبال کے والد ہیں وکالت کرتے تھےاور اسی زمانے میں صدر بار بھی رہے۔ اُنکے مزیدار چٹکلے آج بھی یاد ہیں۔ یہ وہی ظفر اقبال ہیں جن کا مشہور زمانہ شعر ہے:

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اُس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے

اوکاڑہ میں اُس زمانے میں فوجداری کے بھی بڑے نامور وکیل موجود تھے جن میں چوہدری فیض، چوہدری رشید گجر، چوہدری محمّد حسین چھچھر اور چوہدری شفیق بھنڈارہ تھے۔ چوہدری شفیق بھنڈارہ ابھی بھی بڑے متحرک وکیل ہیں اور پاکستان بار کونسل کے ممبر ہیں۔

اوکاڑہ میں میرے پورے عرصہ تعیناتی میں میرے پاس کبھی تین سو سے زائد مقدمات نہ رہے۔ کاز لسٹ بیس پچیس تک محدود، بارہ ساڑھے بارہ بجے مکمل فراغت۔ ایک نہیں بلکہ بےشمار ایسے سول اور فیملی مقدمات جو دائری تاریخ سے فریقین کی شہادت قلمبند کرنے کے بعد چار سے پانچ ماہ میں فیصلہ کر دیے گئے۔اس میں میرا کمال کم، مقدمات کی مجموعی تعداد کی کمی اور بار کا بھرپور تعاون بنیادی وجوہات تھیں۔ آج بھی اگر ہمارے جوڈیشل افسران کی کاز لسٹ اسّی اور سو سے سمٹ کر بیس پچیس پر آجائے تو یقیناً نتیجہ اسی طرح کا برآمد ہو گا جو میں 36-37 سال قبل کرتا رہا۔ اوکاڑہ کے کچھ سینئر وکلاء نے میری کورٹ کا نام سپیڈی ٹرائل کورٹ رکھا ہوا تھا۔ اس میں کوئی راکٹ سائینس کا عمل دخل نہیں۔ سادہ سا فارمولا ہے کہ اگر ایک ماہ کے اندر کسی فریق کو شہادت کے لیے پانچ سے چھ مواقع دیے جائیں تو شہادت آ بھی جاتی ہے اور قلمبند بھی ہو جاتی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کے ججز کے پاس مقدمات کا انبار اور عوام کا جمّ غفیر نہ ہو۔ صلاحیتوں میں صرف انیس بیس کا ہی فرق ہوتا ہے۔

سول ججز کے مابین بھائی چارے اور خلوص کا رشتہ اتنا مضبوط تھا کہ حقیقی بھائیوں کا سا گمان ہوتا۔ میں ایک واقع سنانا چاہتا ہوں جو تفننِ طبع کے لیے ہی نہیں بلکہ نئی نسل کے جوڈیشل افسران کو یہ بتانے کے لیے کہ یہ تعلقات کس طرح کے ہوتے تھے۔ اوکاڑہ میں تعیناتی کے دوران میری شادی سیالکوٹ میں ہوئی۔ اُن دنوں یہ تصوّر محال تھا کہ آپکے سیشن جج شادی میں شرکت کریں گے۔ وہ کارڈ وصول کرتے وقت مبارکباد دے دیتے جو کافی سمجھی جاتی۔ بہرحال شادی کے بعد مجھے ایک سرکاری گھر الاٹ ہو گیا اور جس شام میں نے اپنی فیملی کے ہمراہ اوکاڑہ پہنچنا تھا (تھوڑی تاخیر سے رات کو پہنچا) تو یہ دیکھ کر عجب خوشی ہوئی اور سحر میں کھو گیا کہ میرے ساتھی ججوں نے میرے گھر کے باہر آرائشی محرابوں کے اوپر خوبصورت جھنڈیاں اور سڑک پر چونا وغیرہ لگا کر کیا دلکش استقبالی ماحول بنایا ہوا تھا۔ اور رات کے کھانے کا بھی بڑا پُر تکلف انتظام تھا۔ اس طرح کے خوبصورت وقت کی یہ عمدہ ترین اور اعلیٰ و حسین یادیں ہی اصل سرمایہ حیات ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اپنی پہلی پوسٹنگ میں اپنے سینئرز کی طرف سے بہت سارا پیار، شفقت اور رہنمائی میسّر رہی جو دیگر سٹیشنز تک بھی اسی آب و تاب کے ساتھ رواں دواں رہی۔