جواب دوست” غریب، بھوکے، مسکین اور یتیم کو کھانا کھلانے کی ترغیب

عابد حسین قریشی

برادرِ عزیز ذولفقار لون کی ایمان افروز تحریر “آواز دوست” جو روح سیراب کر گئی کو آگئے بڑھاتے ہوئے جواب دوست کی صورت میں کچھ عرض کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، انفاق سبیل اللہ کی ضرورت اور اہمیت برادرم لون صاحب نے قرآنی آیات اور احادیث نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی صورت میں بڑی خوبصورتی سے بیان کی ہیں۔ سورہ بقرہ کے آخری دس رکوع میں صدقہ، خیرات، انفاق سبیل اللہ کی تکرار نظر آتی ہے۔ اللہ تعالٰی بار بار اور کُھل کر بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کتنا خرچ کرنا ہے، کیسے کرنا ہے اور کن کن پر کرنا ہے۔ پھر قرآن پاک میں بے شمار جگہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ وہاں اس کے ثمرات اور درجات کا بھی بیان کیا گیا ہے۔ قرآن پاک کا اپنا اُسلوب ہے۔ اور کیا خوبصورت اُسلوب ہے کہ بڑے مختصر مگر جامع انداز میں اتنی دور رس اور معنی خیز بات کہہ دی جاتی ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ اٹھایسویں پارہ کی سورہ الحشر کی آیت نمبر 9 اور سورہ التغابن کی آیت نمبر 16 میں تقریباً ایک جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے ارشاد باری تعالٰی ہے کہ “ جن کو بچا لیا گیا اپنے نفس کے بُخل سے(یا اپنے دل کی تنگی سے) بس وہی فلاح پانے والے ہیں” یہاں یہ نہیں فرمایا گیا کہ جو لوگ اپنے نفس کے بُخل سے بچ گئے۔ بلکہ یہ فرمایا گیا جنہیں نفس کے بُخل سے بچا لیا گیا۔ تو یہ حقیقت بلکل عیاں ہو گئی کہ صرف اللہ تعالٰی کے کرم اور مہربانی سے ہی انسان اپنے نفس کے بُخل سے یا دل کی تنگی سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ پھر اسی جگہ یہ فرمایا کہ تم اللہ کو قرض حسنہ دو وہ تمھیں کئی گنا بڑھا کر دے گا۔ گویا اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا اللہ کو قرض حسنہ دینے کے مترادف ہے۔ حالانکہ اللہ کو کسی کے قرض کی ضرورت نہ ہے۔ اور پھر مزیدار بات یہ ہے کہ یہ مال انسان کا اپنا نہ ہے بلکہ سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے اور اُسکے دیے ہوئے میں سے خرچ کرنا جسکا صلہ بے حساب۔ پھر بُخل کیسا اور دل کی تنگی چے معنی دارد۔

یہاں میں ایک نہایت اہم نکتہ کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ قرآن پاک کے آخری دو پاروں 29 اور 30 میں اللہ تعالٰی نے تکرار کے ساتھ غریبوں، مسکینوں، بھوکوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے کی تلقین کی ہے۔ سورہ مدّثر کی آیات 41 تا 47 میں اللہ تعالٰی نے اہل جنّت اور دوزخ کے درمیان ایک مکالمہ بیان کیا ہے۔ جنت والے دوزخ والوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہیں کونسی چیز دوزخ میں لے گئی۔ تو اہل دوزخ بیان کریں گے کہ “ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے۔” سورہ المعارج میں انسان کے تین بنیادی عیب بتاتے ہوئے فرمایا کہ انسان حریص ہے۔ مصیبت میں جلد گھبرا جاتا ہے اور بُخل سے بھی کام لیتا ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جن کے مالوں میں سائل اور محروم کے لیے ایک مقررہ حق ہے۔ سورہ الحاقہ کی آیت نمبر 34 میں جن لوگوں کو ستّر گز لمبے زنجیر سے دوزخ کی طرف کھینچا جا رہا ہوگا انکے بارے میں فرمایا کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھے۔ پھر سورہ الدھر کی آیت نمبر 8 میں اُن اہل جنّت کی فضیلت کا ذکر کیا گیا کہ جو اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ سورہ الفجر کی آیات نمبر 16 تا 18 میں یوں فرمایا کہ جب اللہ کسی کی روزی تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ “میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو” پھر سورہ الماعون کی آیات نمبر 1 تا 3 میں فرمایا کہ “ آپ نے دیکھا ہے اسکو جو جھٹلاتا ہے روز جزا کو بس یہی بد بخت ہے جو یتیم کو دھکے دیکر نکالتا ہے اور غریب کو کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا”

متذکرہ بالا قرآنی احکامات کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ اللہ تعالٰی کے نزدیک مال اُسکی راہ میں خرچ کرنا کتنا افضل ہے۔ اور پھر اُسکی فضیلت دو چند ہو جاتی ہے جب یہ مال غریب، بھوکے، مسکین اور یتیم کو کھانا کھلا کر خرچ کیا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی بے شمار احادیث اسی تناظر میں موجود ہیں۔ آج کل کرونا وائرس کی وبا نے ساری سوسائٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور دہاڑی دار مزدور اور چھابڑی والے اور دیگر اسی طرح کے لوگ سخت معاشی مسائل کا شکار ہیں لہٰذا یہ مناسب وقت ہے کہ ایسے غرض مند لوگوں تک کم از کم کھانا ہی پہنچا دیا جائے۔ اللہ تعالٰی سے دُعا گو ہوں کہ غریب، مسکین اور یتیم اور نادار کی مالی مدد کی ترغیب دوسروں کو دیتے ہوئے خود بھی اس پر عمل کروں۔

تحریر : عابد حسین قریشی