گورنر سندھ کا طیارہ حادثہ کے مقام کا دورہ ، علاقہ مکینوں سے ملاقات

گورنر سندھ کا طیارہ حادثہ کے مقام کا دورہ ، علاقہ مکینوں سے ملاقات
جاں بحق افراد کے لواحقین کو ابتدائی طور پر فی کس 10 لاکھ روپے دئےے جائیں گے، حادثہ پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے ، گورنر سندھ
جاں بحق افراد کے ڈی این اے لے لئے گئے ہیں، لواحقین اور متاثرہ افراد کو قصر ناز، ایئر پورٹ ہوٹل میں ٹہرایا جارہا ہے۔میڈیا سے بات چیت
وفاقی حکومت تباہ ہونے والے مکانات تعمیر کرے گی، تباہ شدہ گاڑیوں کا تخمینہ لگایا جائے گا، تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائیںگے، غلام سرور خان


کراچی ( مئی 23 )
گورنرسندھ عمران اسماعیل نے ماڈل کالونی میں گِر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارہ کے مقام کا دورہ کیا۔ گورنر سندھ نے علاقہ مکینوں سے اس حادثے کی تفصیلات معلوم کیں۔ گورنر سندھ نے کہا کہ یہ نہایت افسوس ناک واقعہ ہے جس میں قیمتی انسانی جانیں اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان، سی ای او پی آئی اے ارشد ملک بھی گورنر سندھ کے ہمراہ تھے۔ گورنر سندھ کو پی آئی اے کے سی ای او نے بتایا کہ پی آئی اے اسکاﺅٹس نے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔


انہوں نے بتایا کہ ملبہ سے تمام لاشیں نکالی جاچکی ہےں جبکہ دو افراد اس سانحہ میں محفوظ رہے ہیں۔ گورنر سندھ نے جہاز گرنے کی جگہ کے معائنہ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امدادی کاموں میں پاکستان آرمی اور رینجرز کے جوانوں، ایدھی ، چھیپا، پاکستان بوائز اسکاﺅٹس اور ھلال احمر کی رضاکاروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی جانفشانی اور لگن سے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاشوں کی شناخت کے لئے تمام جاں بحق افراد کے ڈی این اے سیمپل لے لئے گئے ہیں جبکہ ان کے رشتہ داروں کے ڈی این اے سے موازنہ کرکے جاں بحق افراد کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر جاں بحق افراد کے ورثا کو ابتدائی طور پر فی کس 10 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے۔ جبکہ انشورنس کی رقم اس کے علاوہ ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر لواحقین اور حادثہ سے متاثر ہونے والے گھروں کے مکینوں کو قصر ناز اور ایئر پورٹ ہوٹل میں ٹہرایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کو رونا کے باعث پہلے ہی پریشانی کا شکار تھی اور اب اس حادثہ کے بعد پورے ملک میں سوگ کی فضاءطاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور اس کی رپورٹ آنے پر حادثہ کی وجوہات اور اس کے عوامل کا پتہ لگایا جاسکے گا۔ گورنر سندھ نے میڈیا کے ذریعہ اپیل کی کہ حادثہ کی صرف مصدقہ خبریں چلائیں کیونکہ افواہوں اور قیاس آرائیوں سے لواحقین کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ وہ پہلے ہی صدمہ اور سوگ کی کیفیت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ کے نتیجہ میں زمین پر موجود افرا کا زندہ بچ جانا اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے جبکہ جہاز کے دو افراد کی جان بچ جا نا بھی اللہ کی قدرت کا مظہر ہے۔ بعد ازاں گورنر سندھ نے پی آئی اے ھیڈ کوارٹر میں قائم کئے گئے ایمرجنسی ریسپانسس سینٹر اور کال سینٹر کا دورہ کیا۔ گورنر سندھ کو سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے بتایا کہ ایمرجنسی رسپانس سینٹر نے حادثہ کے آدھے گھنٹے کے اندر کام شروع کردیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 18 جاں بحق افراد کی لاشیں لواحقین کے حوالے کی جاچکی ہےں جبکہ تمام لاشوں کو ملبہ سے نکالنے کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ گورنر سندھ کو مزید بتایا گیا کہ لواحقین کے ڈی این اے لینے کے بعد باقی لاشوں کو ان کے حوالے کردیا جائے گا۔ وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا کہ حادثہ میں تباہ ہونے والے مکانات کو وفاقی حکومت تعمیر کرے گی جبکہ اس واقعہ میں تباہ ہونے والی گاڑیوں کا تخمینہ لگانے کے بعد ان کے لئے معاوضہ کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ کے حقائق پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے لائیں گے۔