آزاد صحافت کی پہچان ڈاکٹر مجید نظامی کی چھٹی برسی کے موقع پر جدہ میں پاکستان جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام ایک تعزیتی ریفرنس

جدہ (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان کے نامور صحافی، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے بانی، آزاد صحافت کی پہچان ڈاکٹر مجید نظامی کی چھٹی برسی کے موقع پر جدہ میں پاکستان جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام ایک تعزیتی ریفرنس

آن لائن منعقد کی گیا جس میں سعودی عرب میں پاکستان کے نامور صحافیوں نے شرکت کی اور ڈاکٹر مجید نظامی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور جنت الفردوس میں انکے لئے اعلی مقام کی دعا کی ، اظہار خیال کرنے والے صحافیوں، پاک میڈیا فورم ریاض کے چئیرمین الیاس رحیم، صدر ذکاء اللہ محسن، وقار وامق، جدہ سے جرنلسٹس فورم کے صدر شاہد نعیم، جنرل سیکریٹری جمیل راٹھور،مسرت خلیل اور دیگر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مجید نظامی زندگی بھر نظریہ پاکستان کے تحفظ، ملک میں جمہوریت کی بالادستی، صحافت کی آزادی، کشمیر کی آزادی اور ملک کی نظریاتی اساس کی حفاظت کے لیے جدو جہد کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ مجید نظامی نے ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے کوششیں کیں۔ ان کی ملک کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ وہ عالمی صحافت کے لیے بھی ایک مثال ہیں ان کی نظریہ پاکستان سے محبت بے مثال تھی۔ پاکستان کے خلاف کسی بھی سازش کے سامنے وہ سینہ سپر ہو جاتے تھے۔ سینئر صحافی مسرت خلیل نے کہا کہ ڈاکٹر مجید نظامی نے نہ صرف صحافت میں اپنی بھر پور زندگی گزاری بلکہ انہوں نے انسانیت کی خدمت میں بھی کروڑوں لوگوں کی دعائین لیں، مسرت خلیل نے کہا کہ مجیدنظامی مشرقی پاکستان کے کیمپوں میں محصور پاکستانیوں کی بحالی انہیں پاکستان لاکر آباد کرنے کیلئے آواز بلند کی بلکہ ان کیمپوں میں محصور کسمپرسی میں دھنسے افراد کیلئے خصوصی فنڈز کا قیام کیا جو آج تک جاری ہے ۔نوائے وقت کے نمائیندہ خصوصی جدہ ، پاکستان جرنلسٹس فورم کے چئیرمین امیر محمد خان نے ڈاکٹر مجید نظامی کے ساتھ گزارے ہوئے لحمات اور صحافیوں کیلئے انکی ہدایات و تعلیم، اور انسانیت کیلئے خدمات کا ذکر کیا، انہیں خوشی ہوتی تھی کہ کوئی آزاد صحافت کو علم اٹھائے، اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہے امیر محمد خان نے کہا ڈاکٹر نظامی کے بے شمار قصے ایسے ہیں کہ انہوں نے کسطرح کسی بھی آمر کے سامنے بیٹھ کر بہادری سے اسے اسکی غلطیوں سے اسے آگاہ کیا مجید نظامی ہر دور میں جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہتے رہے اور ڈٹ کر نظریہ پاکستان کی حفاظت کی۔ جناب مجید نظامی ایک عہد کا نام ہیں۔ انہوں نے ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنے کا حوصلہ دیا۔ آج بھی ان کے افکار اور خیالات طلبہ و طالبات کے لئے مشعل راہ ہیں۔ دو قومی نظریہ کے فروغ میں بھی ان کا کردار مثالی رہا ہے مجید نظامی نے قیام پاکستان کے بعد بانیء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے بے لوث سپاہی کی حیثیت سے تحریک پاکستان کے اصولوں کی پاسبانی کیلئے اپنی زندگی کو وقف کیا تھا جس کی روشنی پاکستان کی نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ہے سینئر صحافی عامل عثمانی نے مکہ المکرمہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم مجید نظامی نے پاکستان کے خلاف بھارتی آبی جاحیت کو اُجاگر کرنے میں دنیا بھر میں بے مثال کردار ادا کیا جس سے قائداعظم کے ارشاد کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے جرنلسٹس فورم کے اراکین دیگر اراکین محمد عدیل، خالد چیمہ، معروف حسین، مصطفی خان، ذکیر بھٹی، مریم شاہد، فوزیہ خان، نے کہا کہ
مجید نظامی نے نظریہ پاکستان کی ترویج کیلئے سود و زیاں سے بے پرواہ ہوکر اپنے یقینِ کامل کی دلیرانہ وضاحت کر دی تھی کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے اُنہیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی امیر محمد خان نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے اس عظیم شخص کو بہت قریب سے دیکھا اور رابطہ میں رہا انہوں نے بتایا کہ جناب مجید نظامی احکامات الہی کی بخوبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف اذلی دشمن بھارت ناپاک عزائم کا مقابلہ کرنے کیلئے حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے گھوڑوں کو تیار رکھے کیونکہ موجودہ دور میں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہی اُس کے گھوڑے ہیں جنہیں پاکستان کی سلامتی اور بھارتی آبی جارحیت کا قلع قمع کرنے کیلئے ضرورت کے مطابق استعمال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے جناب مجید نظامی 27 رمضان المبارک کو اِس دنیا سے کوچ کرگئے تھے لیکن اُن کے ارشادات آج بھی پاکستانی نوجوانوں کے دلوں کو گرماتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ جناب مجید نظامی کی مغفرت کرے اور اُنہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
report-ameer-mohammad-khan-jedda