چینی اسکینڈل پر کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانا حکومت کا جرات مندانہ فیصلہ ہے لیکن کیا اسے عدالت میں ثابت کیا جاسکتا ہے یہ ابھی سوالیہ نشان ہے ۔اشفاق تولہ

چینی اسکینڈل پر کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانا حکومت کا جرات مندانہ فیصلہ ہے لیکن کیا اسے عدالت میں ثابت کیا جاسکتا ہے یہاں بھی سوالیہ نشان ہے ۔اشفاق تولہ جنہیں پاکستان میں فنانشل معاملات اور ٹیکس کے امور کا ماہر قرار دیا جاتا ہے

اشفاق تولہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو بجٹ تجاویز پیش کر رہے ہیں

انہوں نے چینی بحران کے حوالے سے قائم کیے گئے حکومتی کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے پر حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک جرات مندانہ اور تاریخی اقدام ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی لیکن جو رپورٹ آئی ہے اس نے فرانزک کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کو کریمنل کورٹ میں ثابت کرسکیں ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اس رپورٹ کے نتیجے میں کوئی ایسی بات سامنے آئی ہے جسے عدالت میں ثابت کیا جاسکے ۔انہوں نے اس بات پر

حیرت کا اظہار کیا کہ ماضی کی حکومتوں پر سبسڈی دینے پر اعتراض کرنے والی موجودہ حکومت نے پنجاب میں سبسڈی دینے کے حوالے سے خاموشی سادھ رکھی ہے کیونکہ خسروبختیار کے بھائی ہاشم بخت وہاں پر صوبائی وزیر ہیں ان کے خلاف کوئی کاروائی نظر نہیں آتی یہ حیران کن بات ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے تفریح کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی کمیشن بنے اور ان کی رپورٹس کو اس طرح منظر عام پر نہیں لایا جاتا تھا جس طرح موجودہ حکومت لائی ہے اس اعتبار سے موجودہ حکومت کا یہ اقدام قابل ستائش ہے اور اس کی تعریف کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ عوام تو یہ چاہیں گے کہ جنہوں نے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے ان کے خلاف حتمی کارروائی کی جائے کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے خوش آئند ہے کہ اس میں ایک ایک کھاتے کی خوب تشریح کی گئی ہے اور تفصیل بتائی گئی ہے ۔