ہاں میں مہاجر ہوں

ہاں میں مہاجر ہوں

میں ان لوگوں کی اولاد ہوں جو بانیان پاکستان ہیں اور جنہوں نےمحبوب انسانیت صللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرتے ہو ے اسلام کے نام پر حجرت کی
مجھے اپنے مہاجر ہونے پر فخر ہے میں خود کو رہتی دنیا تک مہاجر کہلا نا چاہتا ہوں جیسے کے 1400 سال گزرنے باوجود مکہ سے حجرت کرنے والے مسلمانوں کومہاجرین اور مدینہ کے مکین مسلمانوں کو انصار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
میں نے جب سے ہوش سنبھالا یہی محسوس کیا گویا محاجر ہونا یا کہلانا بہت بڑا جرم یا شرم انگییز معاملہ ہے۔
میں پاکستان میں بسنے والے اپنے تمام مسلمان بھائیوں اور پاکستان کے حاکموں اور طاقتور حلقوں کو یہ باور کرانا چاہتاہوں کے جس طرح پنجاب خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے کراچی منتقل ہونے والے خاندانوں کی دوسری نسلیں آج بہی خود کو پنجابی پختون اور بلوچ کہلواتے ہیں جسکا انھیں پورا حق ہے اسی طرح ہمیں بھی بحیثیت مہاجر اپنی شناخت قائم رکھنے کا بھرپور حق ہے
میں یہاں یہ یاد دھانی بہی کرانا چاھتا کے جس طرح ملک میں رہنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کی سیاسی وابستگیاں مختلف سیاسی جماعتوں سے ہو سکتی ہیں اسی طرح مہاجروں کو کسی ایک مخسوس سیاسی جماعت سے منصوب کرنے والے نہایت ذیادتی کا ارتکاب کرتے ہیں اور شاید اس بات سے ناواقف ہیں کہ آج پاکستان میں جتنی بھی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہیں انکے بانی ممبران کی فہرست محاجر دانشمندوں کے بغیر نامکمل ہیں

عبد الرحمن
وائس چیرمین اباد