کراچی میں گر کر تباہ ہونے والے طیارہ کا چیف فلائیٹ آفیسر میرا ہمسایہ اور میرے دوست کا بھانجا تھا

کراچی میں گر کر تباہ ہونے والے طیارہ کا چیف فلائیٹ آفیسر میرا ہمسایہ اور میرے دوست کا بھانجا تھا
کنٹرول ٹاور سے گفتگو وہی کررہا تھا ..آپ نے سنی ہوگی بلا کا پراعتماد اور فلائنگ میں گروپ ٹاپر تھا…

عرض صرف اتنی ہے کہ میرے ملک کو مارشل لاؤں اور ایئر مارشل لاؤں سے بچا لیں…
کتنی حیرت کی بات ہے کہ جسے ٹریننگ ہی طیارے گرانے کی دی گئی ہو پھر اسے طیاروں کی حفاظت کی ذمہ داری دے دی جائے… مذاق ملک کے ساتھ ہورہا ہے. . آپ کو اس ماں کے دکھ کا اندازہ ہوگا.. جو بیٹے کے سر پر سہرا سجانے کے خواب دیکھ رہی تھی اور ہم لوگ عید کے دوسرے دن اس کے رشتہ کی باضابطہ رسم میں شامل ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے… مگر یہ حادثہ ہم سے بہت کچھ چھین کر لے گیا…

——

ایدھی،
چھیپا،
،scouts
سیلانی،
عالمگیر
الخدمت آپ نے کراچی والے ہونے کا حق ادا کردیا
کرونا ہو یا طیارے کا حادثہ ۔ فیصل ایدھی کا وہی روپ پہلی بار سامنے آیا جو ایدھی صاحب کا تھا ۔ کچھ خبیث دعوی کررہے ہیں کہ لوٹ مار بھی ہو ئے 800 سینٹی گریڈ کی آگ میں جلتے مکانوں سے کون کرسکتا ہے ۔ ایدھی سمیت سب نے اس کی تردید کی ہے بس فیصل نے کہا ہے کہ ” سیلفی والے بہت تنگ کررہے تھے ”

—-
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا کہ پائلٹ کی آخری گفتگو سنی جس میں انہوں نے کہا کہ تکنیکی خرابی ہوگئی ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں ایئر مارشل ارشد ملک نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سی ای او ارشد ملک کا کہنا تھا کہ پائلٹ کو کہا گیا کہ لینڈنگ کے لیے دونوں رن وے تیار ہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائلٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ گو راؤنڈ کرنا چاہتے ہیں

چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک کے مطابق پائلٹ نے بتایا کہ وہ ہر لحاظ سے لینڈنگ کے لیے تیار ہے، دوسری دفعہ لینڈنگ کیلئے آتے وقت جہاز کے ساتھ کچھ ہوا، جہاز ٹیک آف کرنے سے پہلے انجینئرز سے کلیئر کرایا جاتا ہے، جہاز ٹیکنیکل طور پر پوری طرح محفوظ تھا، انکوائری میں فیکٹس اینڈ فیگرز سامنے آئیں گے، شفاف انکوائری میں پی آئی اے اور سی اے اے کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق قومی ایئر لائن (پی آئی ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ایئر مارشل ارشد ملک نے کہا ہے کہ شہید پائلٹ کے اہل خانہ کا حوصلہ دیکھ کر مجھے بھی حوصلہ ہوا ہے۔ حادثے کے بعد جمعہ کی شب کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللّٰہ طیارہ حادثے میں شہید ہونے والوں کے درجات بلند کرے، لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔

ارشد ملک نے کہا کہ حادثے میں ہمارے دو پائلٹ ہم سے جدا ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ جہاز ٹیک آف کرنے سے پہلے انجینئرز سے کلیئر کرایا جاتا ہے، جہاز ٹیکنیکل طور پر پوری طرح محفوظ تھا۔سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ طیارہ حادثے کی انکوائری وزارت ہوا بازی مکمل کرے گی۔ارشد ملک نے کہا کہ اس سانحے میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں، انکوائری میں فیکٹس اینڈ فیگرز سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ شفاف انکوائری میں پی آئی اے اور سی اے اے کا کوئی کردار نہیں ہوگا، انکوائری میں فیکٹس اینڈ فیگرز سامنے آئیں گے۔
سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ جہاز میں 99 لوگ تھے جس میں کیبن کریو بھی شامل تھا۔ارشد ملک نے کہا کہ حادثے کا شکار جہاز آبادی میں ایک گلی میں لینڈ ہوا، کچھ لوگ میڈیا پر شر پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پائلٹ نے بتایا کہ وہ ہر لحاظ سے لینڈنگ کے لیے تیار ہے، دوسری دفعہ لینڈنگ کیلئے آتے وقت جہاز کے ساتھ کچھ ہوا۔