کورونا وائرس : بنگلہ دیشی ڈاکٹروں نے دوا کا نیا فارمولا بتادیا

نئی دہلی : بنگلہ دیشی ڈاکٹروں نے دعوی کیا ہے کہ وہ ملیریا کی دوا ڈوکسی سائیکلین اور آئیور میکٹن کے اشتراک سے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرسکتے ہیں۔

دنیا بھر کے ڈاکٹر اور سائنس دان کورونا وائرس کی دوا تلاش کرنے کے لئے دن رات بھر پور کوشش کر رہے ہیں، اس وقت بھی سو سے زیادہ ریسرچ گروپس اس جان لیوا وائرس کے خلاف تحقیق میں مصروف ہیں۔

اس دوران کچھ ویکسین بنانے والی کمپنیوں نے ابتدائی طور پر برتری بھی حاصل کرلی ہے تاہم حتمی کامیابی حاصل کرنے میں انہیں کم از کم دو سال لگیں گے یہاں تک کہ اگر سائنسدان اگلے چند مہینوں میں کورونا وائرس کے لئے کوئی ویکسین بنا بھی لیں تو دنیا کے 750 کروڑ افراد تک پہنچانے میں اچھا خاصا وقت درکار ہوگا۔

اسی صورتحال پیش نظر دنیا بھر کے ڈاکٹر کوویڈ 19 مریضوں پر پہلے سے ہی دستیاب ادویات آزما رہے ہیں اور ان میں سے کچھ دوائیوں نے بہتر نتائج دیئے ہیں۔

اس حوالے سے بنگلہ دیش میں میڈیکل ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو مبینہ طور پر دو عام طور پر استعمال ہونے والی دوائیوں، ڈوکسائی سائکلین اور آئیورمیکٹین کے ساتھ کوویڈ 19میں مبتلا مریضوں کے علاج میں “حیران کن” کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

بنگلہ دیش میڈیکل کالج اسپتال سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ترین عالم اور ٹیم کے سینئر ممبروں میں سے ایک نے مبینہ طور پر بتایا ہے کہ دونوں دوائیوں کو ملا کر ایک خوراک60مریضوں کو دی گئیں جس کے نتیجے میں یہ تمام مریض چار دن میں مکمل صحت یاب ہوکر اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

ڈاکٹر عالم نے بتایا کہ اینٹی پروٹوزول دوائیوں آئیور میکٹن اور ڈوکسائی سائکلین کو ایک اینٹی بائیوٹک کے ساتھ کوویڈ19کے مریضوں کو دی گئی جس نے معجزاتی طور پر انہیں صحت مند کردیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ٹیم دوائیں صرف کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے لکھ رہی تھی، ابتدائی طور پر ان میں سے زیادہ تر مریضوں کو سانس کی دشواریوں سے متعلق شکایات تھی بعد ازاں ان مریضوں کا کورنا ٹیسٹ مثبت آیا