طیارے میں سوار ہونے سے قبل مسافر کی آخری پوسٹ

طیارے میں سوار ہونے سے قبل مسافر کی آخری پوسٹ

عمار راشد نے دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد فلائٹ ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا-ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے فلائٹ آپریشن معطل تھا جس کی وجہ سے کئی لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر نہ جا سکے۔تاہم کچھ روز پہلے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد فلائٹ آپریشن بھی بحال کر دیا گیا۔ کئی لوگ عید الفطر کی خوشیاں منانے اپنے پیاروں کو ملنے کے لیے بیتاب ہو گئے۔آج پی آئی اے کا ایک طیارہ 90 سے زائد مسافروں کو لے کر کراچی گیا لیکن کسے معلوم تھا کہ یہ طیارہ کراچی پہنچتے ہیں حادثے کا شکار ہو جائے گا۔
جہاز میں موجود متعدد مسافروں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں تاہم فی الحال سرکاری ذرائع کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ کچھ لوگوں کے معجزاتی طور پر محفوظ رہنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک مسافر کی پوسٹ بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ دو ماہ بعد لاک ڈاؤن کھلنے پر شکر ادا کر رہے ہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عمار راشد طیارہ حادثے میں محفوظ رہے ہیں اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

عمار راشد کی طیارے میں سوار ہونے سے قبل یہ آخری پوسٹ تھی۔
۔دوسری جانب پی آئی اے کے کراچی میں گرنے والے طیارے میں سوار مسافروں کی لسٹ جاری کر دی گئی ۔ طیارے میں 91 مسافر سوار تھے اس کے علاوہ 7 عملے کے ارکان بھی سوار تھے۔ طیارے میں سوارافراد میں ریان شہریار، خالد شیر دل، ثریا کریم ، سیدہ عائشہ ، سید محمد، محمد شہیر، کرن شاہد ، اقرا شاہد، سید دانش شاہ ، السیہ شہریا، عمار رشید شامل تھے۔
ھ فریال رسول ، ردا رفعت ، سارہ عبدالراہی ، محمد شبیر، فرحان قادر، وحیدہ رحمان ، فضل رحمان ، آصف راجہ بھی فلائلیٹ کا حصہ تھے۔ اس کے علاوہ کریم نوید ، فیروزے ،شہناز پرویزن م قادر مسیح، اسامہ محمود ، علوئنہ مصطفیٰ ، انصار نقوی، ابراہیم محمد، زبیر محمد، سلیم محمد ، زوہیب محمد مبشر حمد، شعیب محمد، عثمان محمد،صادق محمد بھی شامل تھے۔

urdupoint-report