کرونا کار انڈسٹری کو کھا گیا ۔اپریل میں کوئی نئی گاڑی تیار اور فروخت نہیں ہوئی ۔

ویسے تو پوری دنیا میں کرونا وائرس نے تقریبا تمام کاروبار اور صنعتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے لیکن آٹو انڈسٹری بریے طریقے سے اس وبا سے پیدا شدہ صورتحال کی لپیٹ میں آ چکی ہے پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو اتنا مشکل وقت کبھی نہیں دیکھنا پڑا آٹو انڈسٹری کے لوگوں کے لیے اس وقت ایک بھیانک خواب چل رہا ہے جس میں انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ آگے کیا ہوگا ۔


پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ۔پاما۔ نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں وہ انتہائی چونکا دینے والے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ اپریل کے مہینے


میں آٹو انڈسٹری میں نہ تو کوئی نئی کار تیار کی گئی نہ ہی کوئی کار فروخت ہوئی ۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ آٹو انڈسٹری میں زیرو پروڈکشن ہوئی ہے اور سیلز بھی زیرو پر آگئی ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا حالانکہ یہاں پر سیلاب زلزلہ اور کئی قسم کے مشکلات آئیں ہیں لیکن ہر قسم کے حالات میں آٹو انڈسٹری اپنا کام کرتی رہی تھی اور اس کی پروڈکشن اور سیلز میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا تھا ۔
کرونا وائرس تو اب آیا ہے جس کے آنے سے پروڈکشن اور سیلز بالکل ٹھپ ہو گئی ہے لیکن پچھلے دس مہینے کے اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو 52 فیصد سیلز کم ہو چکی ہے کسی مالی سال کے دس مہینے میں اتنی گراوٹ پہلے کبھی نہیں آئی ۔سیلز 86 ہزار 330 یونٹس تک رہی ہے ۔
اگر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے حوالے سے بات کی جائے تو ہونڈا کمپنی کو سب سے زیادہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ ہونڈا موٹر کی سیل 64 فیصد نیچے آگئی ہے ۔
ویسے تو انڈس موٹرز کا بھی کوئی زیادہ اچھا حال نہیں ہے اور اسے بھی مشکلات کا سامنا ہے ٹویوٹا گاڑیاں تیار کرنے والی انڈس موٹرز کی سیلز میں 54 فیصد کمی آئی ہے ۔


جبکہ پاکستان میں سب سے سستی سمجھی جانے والی سوزوکی گاڑیاں بنانے والی کمپنی پاک سوزوکی کی سیلز میں بھی 47 فیصد کمی آ چکی ہے ۔
اگر پچھلے سال کے حوالے سے موازنہ کیا جائے تو اپریل 2019 میں پاک سوزوکی نے سب سے زیادہ دس ہزار 789 گاڑیاں فروخت کی تھی اور اپریل 2020 میں اس کی پروڈکشن اور سیلز زیرو ہے ۔
اسی طرح ٹیوٹا گاڑیوں کی بات کی جائے تو سال 2019 کے اپریل کے مہینے میں 5738 کی پروڈکشن سیلز تھی اور اپریل 2020 میں زیرو ہے ۔


جبکہ ہونڈا موٹرز کی اپریل 2019 میں سیلز 2836 اور اپریل 2020 میں زیرو ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے صرف گاڑیاں بنانے کی انڈسٹری میں صرف کاریں ہی کم نہیں ہوئی بلکہ موٹرسائیکلیں اور ٹریکٹرز کی مینوفیکچرنگ پر بھی بری طرح اثر پڑا ہے ماہرین کا کہناہے کہ سیلز میں گراوٹ کی بنیادی وجہ ڈیمانڈ میں کمی ہے جب مارکیٹ میں ڈیمانڈ نہیں ہوتی تو پروڈکشن کا کیا فائدہ ۔ہونڈا اٹلس دو ہزار سے زیادہ موٹرسائیکل تیار کرتی ہے



ملکی معاشی صورتحال کی وجہ سے گاڑیوں کی ڈیمانڈ میں پچھلے سالوں میں کمی واقع ہوئی ہے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی آنے سے گاڑیاں مہنگی ہوئی ہیں ٹیکسوں کی شرح اور معاشی مشکلات کی وجہ سے لوگوں کو نئی گاڑیاں خریدنے میں مشکلات آ رہی ہیں ۔اس حوالے سے گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے حکومت کو ٹھوس تجاویز پیش کی گئی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے بجٹ میں اس حوالے سے اہم اعلانات ہو ں گے۔

salik- majeed-