کراچی میں مقیم سکھ برادری

کراچی میں مقیم سکھ برادری

تحریر و تحقیق شاہ ولی اللہ جنیدی


آج سکھ مذہب کا شمار دنیا کے بڑے مذاہب میں ہوتا ہے ۔ اس مذہب کے ماننے والوں کی کُل تعداد تقریبا 30 ملین سے زیادہ ہے اور یہ دُنیا کی آبادی کا تقریباً 0.21 فیصد ہے۔ سکھ مذہب خُدا کی وحدانیت کا قائل ہے ۔اور باباگُرو نانک صاحب کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے جو کہ کتاب کی صورت میں ان کے پاس موجود ہے ۔ بابا گرو نانک صاحب کاعہد ساڑھے پانچ سو سال قدیم ہے۔ گرو نانک دیو جی ۱۵ اپریل۱۴۶۹ء کو پنجاب کے شہر لاہورسے تقریباً پچاس میل جنوب مغرب میں واقع گاؤں رائے بھوئی کی تلونڈی میں پیدا ہوئے تھے ۔


اس علاقے کو اب ننکانہ صاحب کہا جاتا ہے۔ بابا گرونانک ایک روایتی ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اوران کے بچپن کے دوستوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔سکھ مذہب کے ماننے والوں کے مطابق گرو نانک صاحب نے پنجاب کے لوگوں کو ’’ست شری اکال‘‘ یعنی خدائے واحد ہی سچ ہے، کا نعرہ دے کرہندوستان کے دیگرحصوں تک بھی توحید کا پیغام پہنچایا تھا۔ بعض روایات کے مطابق بابا گرونانک صاحب نےفارسی اوراسلامیات کی تعلیم ایک بزرگ سید حسین سے حاصل کی تھی ۔ ساتھ ہی سنسکرت اورہندو مت کی مقدس کتابوں کا بھی مطالعہ کیا اورمتعدد مسلمان درویشوں اور فقیروں کی صحبت سے کسبِ فیض کیا ۔ ان بزرگوں میں حضرت بوعلی قلندر پانی پتیؒ ،حضرت شیخ اسماعیل بخاریؒ،حضرت پیر جلالِؒ، حضرت میاں مٹھاؒ ، حضرت شاہ شرف الدینؒ، حضرت پیر عبد الرحمٰنؒ،حضرت جلال الدین بخاریؒ، حضرت مخدوم جہانیاںؒ اورپاک پتن کے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر شامل ہیں ۔سکھوں کی مذہبی کتاب کو گُرو گرنتھ صاحب کہا جاتا ہے سکھ مت کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو جنہوں نے سکھوں کی سب سے مقدس کتاب ’’ گرنتھ صاحب‘‘ مرتب کی ( یہ کتاب اس سے پہلے سینہ بہ سینہ چلی آرہی تھی)

گرنتھ صاحب کے سارے کلام میں’مول منتر‘کو سب سے مقدس اور بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ سکھوں کے مطابق مول منتر کا مفہوم یہ ہے کہ: ’’خدا ایک ہے، اسی کا نام سچ ہے، وہی قادرِ مطلق ہے۔ سکھ مذہب کے پیروکار پا نچ علامتوں کو اختیار کرنا اپنے پرلازمی سمجھتے ہیں جنہیں وہ ’’ ککار کہتے ہیں (1) لمبے بال رکھنا (2) کنگھا کرنا (3) کڑا پہننا (4) کرپان ( تلوار ) ساتھ میں رکھنا (5) پگڑی اور کچھا باندھنا شامل ہیں ۔ سکھوں کے گروارجن دیو جی نے ہی امرتسر میں واقع ایک تالاب پر سکھوں کے سب سے بڑے گرودوارہ ‘‘گولڈن ٹیمپل’’ کی تعمیر کا ارادہ کیا تھا اورسنگ بنیاد کے لئے لاہور آکرصوفی بزرگ حضرت میاں میر( رح) سے درخواست کی تھی ۔میاں میر صاحب انکی درخواست پرامرتسر تشریف لے گئے تھے اور ۱۳ جنوری ۱۵۸۸ء کو سکھوں کے مشہور مقدس ترین گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد رکھا تھا ۔ الغرض قیام پاکستان سے قبل سکھ کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔انکی آمد کے حوالے سے محققین کی مختلف رائے ہے

کچھ کا کہنا ہے ۱۹۱۲ ء میں برطانوی راج کےدوران انکی آمد ہوئی ہے جبکہ بعض کراچی میں سکھوں کی آمد کا سال ۱۹۲۰ ء لکھتے ہیں ۔ممتاز محقق سید عارف شاہ گیلانی مرحوم اپنی تصنیف عروس البلاد کراچی میں انکی آمد کا سال ۱۹۱۲ ء قرار دیتے ہیں ۔ کراچی تاریخ کے آئینہ کے مصنف عثمان دموہی صاحب لکھتے ہیں کہ کراچی میں سکھ بہت بعد میں یعنی ۱۹۲۰ ء کے بعد آنا شروع ہوئے تھے انھیں ملازمت اور کاروبار کے لئے کراچی اتنا راس آیا کہ یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ ۔یہ زیادہ تر لوگ ترکھان اور راج تھےیا الیکٹرک کے کام میں مہارت رکھتے تھے ۔ مکانات کی تعمیر میں لکڑی کا تمام کام مزدوری یا ٹھیکے پر کرتے تھے اور لکڑی کا فرنیچر بنانے اور فروخت کرنے کےکاروبارپرچھائے ہوئے تھے ۔ عثمان دموہی اپنی کتاب میں ایک جگہ مزید لکھتے ہیں کہ۱۹۱۵ ء میں کراچی میں سکھوں کی ایک تنظیم خالصہ اسکول بورڈ سوسائٹی نے خالصہ اینگلو ورنا کولر اسکول قائم کیا تھا ابتدا میں اس اسکول میں تقریبا ۲۷ بچے زیر تعلیم تھے جنھیں پہلی سے پانچوین تک تعلیم دی جاتی تھی۔ اسکول ۱۰ سال تک کرائے کی عمارت میں رہنے کے بعد سٹی کورٹ کے عقبی حصے میں جہان کراچی کا پرانا سینٹرل جیل واقع تھا اس کے نزدیک اپنی نوتعمیر عمارت میں منتقل ہوگیا تھا ۔خالصہ اینگلو اسکول کو کراچی میونسپلٹی کی طرف سے امداد ملتی تھی ۔ اسکول میں ۱۹۳۳ ءمیں زیر تعلیم طلباٗ کی تعداد ۲۵۰ تھی۔ ممتاز خاتون مصنفہ محمودہ رضویہ اپنی کتاب ملکہ مشرق میں رقم طراز ہیں کہ پنجابی سکھوں نے ۱۹۳۰ میں کراچی آنا شروع کیا تھا تاہم اس بحث سے قطع نظر برطانوی راج کے دوران کراچی میں سکھ برادری کے افراد کی تعداد تقریبا ۸ہزار سے تجاوز کرچکی تھی اور زیادہ تر لی مارکیٹ اور کیماڑی کے علاقوں میں رہائش پزیر تھے ۔ تاہم آہستہ آہستہ رام باغ، جوبلی ،رتن تلاو، رنچھوڑ لائن ،کیماڑی اور عیدگاہ کے علاقوں میں پھیل گئے وہ باہمی رواداری کے ساتھ بلا کسی روک ٹوک اور تفریق کے اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے تھے۔ان کا روایتی لباس وہی تھا جو سکھ پہنتے ہیں یعنی کرتا ،پاجامہ، پگڑی،ہاتھ میں کڑا اور چھوٹی سی کرپان ساتھ ہوتی تھی ۔ان کی مادری زبان پنجابی تھی لیکن اردو اور سندھی بھی بولتے تھے ۔


ملک کے نامور ادیب سعید جاوید صاحب اپنی کتاب ایسا تھا میرا کراچی میں لکھتے ہیں کہ کراچی میں سکھوں کا ایک بہت مشہور گردوارہ پہلی پٹ شاہی تھا جو کلفٹن کے علاقے میں واقع تھا ۔۔ برطانوی راج کے دوران شہر میں سکھوں کے چھ گردوارے موجود تھے جہان وہ اپنی عبادت کیا کرتے تھے ۔ کراچی کے علاقے نانک واڑہ کا نام سکھوں نے ہی رکھا تھا ۔ قیام پاکستان سے قبل کراچی میں نصف درجن کے قریب گردوارے موجود تھے، لیکن سکھوں کی اکثریت کی بھارت منتقلی کے بعد یہ ویران ہوگئے یا ان پر قبضہ کر لیا گیا۔سابق مشیر اقلیتی امور اور گردوارہ آرام باغ کے چئیرمین وماہر قانون سردار ہیرا سنگھ جو ان دنوں امریکہ کے شہر نیویارک میں مقیم ہیں ان کا کہنا تھا کہ شہر کے اولین’گردواروں میں رام باغ اور سنگ صبا’رتن تلاؤ کا شمار ہوتا ہے۔ ان گوردواروں کی تعمیر کا آغاز۱۹۲۴ سے ۱۹۳۴کے دوران ہوا تھا۔ گرودارہ رام باغ کوہندو برادری اور سکھوں کے درمیان سنگین تنازعہ کے بعد کراچی کی انتظامیہ نے۱۹۹۳ ء میں سیل کردیا تھا جس پردونوں فریقین عدالت چلے گئے تھے۔ ہندو برادری کے افراد کا کہنا ہے ۱۹۳۷ سے یہ ہندؤوں کا مندر ہے۔ چونکہ ہندوؤں کوگرونانک سے بھی لگاؤ ہے، اس لیے مندر میں سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب بھی رکھی جاتی ہے۔ سردار ہیرا سنگھ کہتے ہیں کہ یہ جائدادگرو نانک شیوا منڈلی کے زیر انتظام ہے اور سکھ کمیونٹی کی ملکیت ہے۔ ۱۹۳۷ میں سٹی کمشنر سادھو سنگھ مینجنگ ٹرسٹی نے گردوارہ آرام باغ تعمیر کرایا تھا۔ تقسیم کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ یہاں پر آ کر آباد ہوئے۔سکھون اور ہندوں کے درمیان مقدمے بازی کے نتیجے میں گردوارہ رام باغ ۱۹۹۳ء سے ۲۰۱۶ء تک عبادت کے لیے بند رہا ۔ بل آخر ۲۵سال کی قانونی جنگ کے بعد ۲۰۱۶ ء میں عدالت عالیہ نے گردوراہ کی حیثیت کوبحال کر دیااور ان دنوں عبادت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ٹیمپل روڈ پر واقع دوسرا قدیم گردوارہ سنگ صبا’رتن تلاؤ‘ تاحال بحال نہیں کیا جاسکا ہے


اس گردوارہ کے احاطے میں گورنمنٹ نبی باغ ہائرسکینڈری اسکول قائم ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ۳ قدیم اور ایک نوتعمیر شدہ گردوارے موجود ہیں ۔ جن میں’گردوارہ گرو گرنتھ صاحب سندھ سبھا رنچور لائن نارائن پورہ، گردوارہ منوڑا‘،’گردوارہ گلشن معمارشامل ہیں جبکہ سوامی نارائن مندر کے احاطے میں ایک حصہ کو دربار بابا گرونانک کے نام سے مختص کیا گیا ہے ۔ گذشتہ ہفتے گردوارہ آرام باغ کو اندر سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ گردوارہ کے نائب نگران سردار ہریش سنگھ سے ملاقات ہوئی انھوں نے بابا گرو نانک صاحب کی تعلیمات کے حوالے سے آگاہی دی الغرض قیام پاکستان کے بعد کراچی میں مقیم سکھ اور ہندووں کی ایک بڑی تعداد ہجرت کرکے بھارت چلی گئی تھی ۔سعید احمد جاوید صاحب مزید لکھتے ہیں کہ جب سکھوں کے انخلا کا عمل مکمل ہوا تو اس وقت یہاں سکھوں کا شائد ایک ہی خاندان صدر کے علاقے میں رہتا تھا۔دو بھائی رور سنگھ اور پال سنگھ تھے جن کی مینسفیلڈ اسٹریٹ صدر میں فرنیچر کی ایک بڑی دکان ہوا کرتی تھی ۔ہمارے گھر کے قریب ہی ان کا گھر تھا ان کے بچے ہمارے ساتھ کھیلتے تھے انہوں نے محلے میں اپنی خوب عزت بنائی ہوئی تھی ہر ایک کے ساتھ ملنساری اور محبت سے ملتے تھے سخت خوف وہراس کے ماحول میں بھی انہوں نےکراچی نہیں چھوڑا تھا تاہم پھر ایک روز پتہ چلا دونوں بھائی کاروبار ختم کرکے ہندوستان منتقل ہورہے ہیں ۔صاف نظر آرہا تھا کہ وہ بری طرح تنہائی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ مگر انہوں نے سب کو یہی بتایا تھا کہ سکھ برادری کے لوگ کراچی میں نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بچوں کے رشتوں کے سلسلے میں کچھ مشکلات پیش آرہی ہیں اس لئے ان کو جانا ہی تھا بچھڑتے وقت ان کی خواتین اور بچے خوب روئے کیونکہ سب کو احساس تھا کہ اب شائد وہ دوبارہ اس دھرتی کو نہ دیکھ سکیں ۔ان کی رخصتی کے بعد کم ازکم اگلے بیس برس تک وہاں کوئی مقامی سکھ نظر نہ آیا بعدازاں ان کے گردوارے حکومت پاکستان کے محکمہ اوقاف نے اپنی تحویل میں لے لئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ملک میں رہ جانے والی سکھ برادری نے ایک بار پھر منظم ہونا شروع کیا اور گردوارہ پربندھک کمیٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تاکہ پاکستان میں سکھوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کوممکن بنایا جا سکے۔عروس البلاد کراچی کے مصنف عارف شاہ گیلانی مرحوم لکھتے ہیں کہ ایم اے جناح روڈ پرعیدگاہ میدان کے سامنے حبیب بنک کی شاخ کی بجائے کرتارسنگھ کا فرنیچر کا بہت بڑا کارخانہ تھا اورپرتاب سنگھ سیٹھی ان کا لیڈر تھا اورسندھ مدرسہ کے نامی گرامی استاد بھگت سنگھ کا شمار شہر کی معززین میں ہوتا تھا۔ جنوری ۱۹۳۷ میں کراچی کے علاقے رتن تلاو ٹیمپل روڈ پر گوردوارہ سنگ صبا رتن تلاوپر سکھووں کے ساتھ ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔ واقعہ کے بارے میں ممتاز محقق عقیل عباس جعفری صاحب پاکستان کرونیکل میں لکھتے ہیں کہ قیام پاکستان کے بعد صوبے سرحد سے بھارت جانے والے سکھوں کا قافلہ کراچی پہنچاتھا جو بحری راستے سے بھارت جانا چاہتا تھا ۔ صوبے سرحد سے جو ہندو اور سکھ ہندوستان منتقل ہونا چاہتے ہیں ان کے متعلق یہ انتظام تھا کہ وہ اپنے اپنے مقامات سے کراچی اس وقت آئین جب بمبئی جانے والا جہاز میسر ہو، جب ایسا موقع ہوتاتو افسران ضلع کو اطلاع کردی جاتی اور وہ ان لوگوں کو کراچی بھجوادیتے انہیں ہدائت کی گئی تھی کہ ان لوگوں کو ایسی گاڑی سے بھیجیں جو راتوں رات سفر کرکے الصبح کراچی پہنچے اورا یسے مسافروں کو شہر کے اسٹیشن سے سیدھابندرگاہ پہنچادیا جاتا تھا اس مرتبہ بھی جب سکھوں کا یہ قافلہ سرحد سے کراچی روانہ ہوا تو متعلقہ حکام نے بھارتی ہائی کمیشن کو انکی آمد کاٹیلگرام روانہ کردیا ۔بدقسمتی سے اس وقت بھارتی ہائی کمشنر مسٹر سری پرکاش بھارت گئے ہوئے تھے اور ان کا سیکریٹری اس تار کی اہمیت سے ناواقف تھا ۔چنانچہ جب سکھ کراچی پہنچے تو ان کے استقبال کے لئے بھارتی ہائی کمیشن کا کوئی فرد موجود نہیں تھا اور نہ ہی بندرگاہ تک پہنچانے کا کوئی انتظام کیا گیا تھا ۔ قضا کے مارے ان سکھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی بندرگاہ پہنچ جائینگے اورشہر کے چند گردوارون کی زیارت بھی کرلینگے ۔ ان سکھوں نے کچھ تانگے کرائے پر لئے اور ان پر بیٹھ کر گردواروں کی زیارت کے لئے روانہ ہوگئے ۔ ان کے ہاتھوں میں کرپانیں تھیں جن کو لہراتے ہوئے اپنے مذہبی نعرے لگارہے تھے ۔ انہی دنون کراچی میں مہاجرین لٹی پٹی حالت میں کراچی پہنچے تھے ان میں سے اکثر سکھوں کے ہی زخم خوردہ تھے ۔ان پر جو ہجرت کے دوران بیتی تھی اس کی یاد سے ان کے دل غیظ و غضب سے بھرے ہوئے تھے۔انہوں نے جب سکھوں کو کرپانیں لہراتے اور نعرے لگاتے دیکھا تو وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے سکھوں پر حملہ کردیا ۔اس حملے کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۶۴ اور غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ۳۰۰ سے زائد سکھ اور ہندو مارے گئے ۔حکومت کو حالات پر قابو پانے کے لئے شہر میں کرفیو لگانا پڑا۔ سرظفر اللہ خان اپنی خود نوشت سوانح تحدیث نعمت میں لکھتے ہیں کہ کراچی میں ہونے والے اس فساد کی اطلاع جب قائداعظم محمد علی جناح کو ملی تو انہیں سخت رنج ہوا۔انہوں نے فوری وزارت دفاع کے سیکریٹری اسکندر مرزا کو طلب کیا اور ارشاد فرمایا کہ فلاں وقت تک مجھے رپورٹ آنی چاہئے کہ شہر میں بلکل امن ہوچکا ہے اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے اور کسی کو سیکریٹری دفاع مقرر کرنا پڑے گا ۔ سرظفر اللہ لکھتےہیں کہ اسکندر مرزا نے مجھے بتایا کہ یہ حکم سنتے ہی انہوں نے واپس آکر کراچی کے کمانڈرانچیف جنرل اکبر خان کو بلاکر وہی الفاظ ان سے کہے جو قائداعظم نے ان سے کہے تھے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ ایک انہوں نے رپورٹ دینے کا اس وقت سے ایک گھنٹے قبل مقرر کیا جو قائداعظم نے ان کی رپورٹ کے لئے مقرر کیا تھا دوسرے یہ ہدائت کی کہ اگر گولی چلانا پڑے تو ہر گولی کے مقابلے میں بلوائیوں کی ایک لاش انھیں دکھائی جائے اور جنرل اکبرخان نے اس حکم کی فورا تعمیل کی اس نے موقع پر پہنچ کر فسادیوں پر گولی چلائی جس سے ۱۱ فسادی مارے گئے اور ایک زخمی ہوا اور اس طرح قائداعظم کے مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹے پہلے شہر میں امن وامان بحال ہوگیا ۔ کراچی میں مقیم سکھوں کے بارے میں مزید جاننے کے لئے پاکستان سکھ کونسل کے سربراہ سردار رمیش سنگھ خالصہ سے رابطہ کیا ۔ رمیش سنگھ سے میرے مراسم ۲۰۰۳میں انگریزی اخبار ایوننگ نیوز میں کام کے دوران ہوئے تھے وہ ایک سندھی اخبار کے شعبہ مارکیٹنگ سے وابستہ تھے ۔انھوں نے فون پر بتایا کہ وہ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں گوردوارے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے گئے تھے جہان ان دنوں لاک ڈاون کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں انھوں نے بتایا کہ 1993 کی ووٹر لسٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں تقریباً 10 ہزار اور کراچی میں ساڑھے تین ہزار سکھ آباد تھے۔ اب ان کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے اور چار ہزار سے زائد سکھ کراچی میں موجود ہیں ۔ اس وقت زیادہ تر سکھ کراچی کے علاقوں رنچھوڑ لائن، لائٹ ہاؤس، (سابقہ لائٹ ہاؤس سنیما اور موجودہ لنڈا بازار) کینٹ ریلوے اسٹیشن سے ملحقہ آبادی، نارائن پورہ کمپاؤنڈ اور گلشن معمار، منگھوپیر میں آباد ہیں۔ ممتاز صحافی محقق خواجہ رضی حیدر بھائی کے مطابق انکے والد مولانا حکیم قاری احمد پیلی بھیتی مرحوم نے ہجرت کے بعد کھاردار کے علاقے ینگ ہسبینڈ روڈ پررہائش اختیار کی تھی اس علاقے میں سکھوں کے کچھ خاندان آباد تھے جنھیں وہ اکثر گھومتے پھرتے دیکھا کرتے تھے جبکہ کھارادر کا مشہور پنجابی کلب سکھوں کی ملکیت تھا۔ گردوارہ آرام باغ کے نگران سردار ہیرا سنگھ کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں شاہ جی ایکسل والے کی دکان جس عمارت میں واقع ہے وہ سکھوں کی ملکیت ہے ۔ کراچی میں چند سالوں کے دوران سکھومذہب کی تعلیمات سےمتاثر ہوکر نچلی ذات کے ہندوبھی سکھ مذہب اختیار کررہے ہیں شہرکے مضافاتی علاقوں میں سندھی ہندو برادری کی اکثریت گرونانک کی پیروکارہے اور انھیں نانک پنتھی کہا جاتا ہے، اکثر مندروں میں سکھوں کی مذہبی کتاب گروگرنتھ صاحب بھی موجود ہوتی ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں، ملیر، گڈاپ میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے افراد آباد ہیں جنھوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر سکھ مذہب اختیار کیا ہے ۔۔شہر کے ممتاز سکھ افراد میں سردار ہیرا سنگھ ، سردار ستیش سنگھ،ڈاکٹر منوج سنگھ،سردار ایشور سنگھ،سردار پریش سنگھ ، سردار من موہن سنگھ ، سردار کرشن سنگھ وسردار دھنی سنگھ شامل ہیں۔
Shah-Waliullah-Karachi