ممتاز تاجر ، صنعتکار اور تحریک پاکستان کے بطل جلیل حاجی کریم ڈھیڈی مرحوم کی17 ویں برسی پر خصوصی تحریر

بقلم عرفان فاروقی
کسی صاحب اقتدار اہل ثروت سے لوگ اس وقت تک محبت کرتے ہیں جب تک دولت یا اختیار اس کے پاس رہتا ہے اور جب وہ اس وقت دنیا سے رخصت ہوتا ہے ۔ تو پھر اسے کوئی یاد نہیں رکھتا مگر جسے بعد از مرگ بھی لوگ یاد رکھیں اس سے محبت کریں، اسے اپنا کہیں اور تذکرہ کریں وہ یقینا اہل دل و محبت ہوتا ہے حاجی کریم ڈھیڈی( مرحوم) کا شمار بھی بلاشبہ ایسی شخصیات میں ہوتا ہے

کہ اپنوں کے تذکروں سے خالی کتب اور نصاب کے بغیر بھی غیروں کی کتب خانے حاجی کریم ڈھیڈی کے تذکروں سے خالی نہں بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے رفیق کار اور تحریک آزادی کے ہراول دستے کے خاموش پرجوش مجاہد کے بارے میں معروف اسکالر ڈاکٹر ایم اے شکری نے اپنی کتاب Muslim of Srilanka میں تحریک آزادی کے لئے ان کی خدمات کا واضح اعتراف کرتے ہوئے خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔
22مئی2003ءکو کراچی میں داعی اجل کو لبیک کہنے والے اسلام اور پاکستان کے اس بطل جلیل کے راقم الحروف سے عمر کی بغاوت کے باوجود گہرے مراسم تھے اپنی بے پناہ کاروباری اور سماجی مصروفیات کے باوجود مرحوم وقت نکال لیا کرتے تھے بلکہ گہری شفقت اور والہانہ سلوک سے بھی نوازتے تھے ان کی عمر عزیز میں کبھی راقم کو کسی قسم کی فکر دامن گیر نہ ہوئی دامے، درسے ، قدمے، سخنے وہ شفیق بزرگ کی طرح راقم کے ساتھ رہے۔ حاجی کریم ڈھیڈی نے غیر ہندوستان کے مردم خیز خطہ ¿ جونا گڑھ کتیانہ میمن میں2دسمبر1926ءکو حاجی عبدالرحمن ڈھیڈی کے گھرانے میں آنکھ کھولی تو اپنے ارد گرد کے ماحول کو انتہائی مذہبی اور دیندار پایا، شاید اسی ماحول کا اثر تھا کہ کریم ڈھیڈی نے دوسروں کے برعکس اپنی عملی زندگی کا آغاز17سال کی عمر میں فریضہ حج کی ادائیگی سے کیا1943ءمیں جب وہ کولمبو تشریف لے گئے تو اپنے تجارتی منافع سے وہاں ایک وسیع وعریض میمن حنفی مسجد کی بنیاد رکھی یہ مسجد آج بھی موجود ہے بلکہ تین منزلہ ہوچکی ہے اسکے پہلے پیش امام وخطیب علامہ شاہ احمد نورانی قدس سرہ کے والد ماجد مولانا عبدالحکیم صدیقی نور اللہ مرقدہ ، تھے۔
برصغیر میں تحریک پاکستان نے زور پکڑا تو حاجی کریم ڈھیڈی نوجوان اور انتہائی پر جوش کارکن کے طور پر ابھر کر سامنے آئے اور بہت جلد اپنے پیشروﺅں کو پیچھے چھوڑ کر قائد اعظم محمد علی جناح کے بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہونے لگے 25جنوری1940ءکو جب قرار داد پاکستان صرف زبانی تجویز کی شکل میں تھی حاجی کریم ڈھیڈی کتیانہ ممیمن سے مسلمانوں کا ایک بڑا قافلہ لے کر مسلم لیگ کے جلسے منعقدہ الہٰ آباد میں شرکت کے لئے پہنچے جس کا اعتراف بڑے مسلم لیگی زعماء نے خاص طور پر کیا۔ قرار داد پاکستان کی منظوری کے بعد حصول آزادی کے لئے مسلم لیگ کا ایک عظیم الشان جلسہ انہوں نے ذاتی مصارف سے جونا گڑھ میں بھی منعقد کیا اور اس ریاست کے مجوزہ پاکستان سے الحاق کا قاعدہ اعلان از خود کیا۔ چنانچہ اس کی تائید و توثیق نواب صاحب جونا گڑھ نے بھی کردی۔۔
1945ءمیں انجمن اسلام اور میمن خدمات کمیٹی قائم ہوئی تو حاجی کریم ڈھیڈی اسکے بانیوں و عہدیداروں میں بھی نمایاں و ممتاز تھے جس کے باعث ان کے لئے متعصب ہندؤں کی جانب سے خطرات بڑھنے لگے1946ءمیں یوسف ہارون نے صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے انہیں جونا گڑھ چھوڑ کر مسلم اکثریتی علاقے میں منتقل ہونے کی ہدایت کی 1947ءمیں جب تقسیم ہند کا خونی ہنگامہ برپا ہوا تو نواب دیوان نے حاجی کریم ڈھیڈی کو ذاتی طور پر بلوا کر انہیں فوری طور پر جونا گڑھ چھوڑنے کی ہدایت کی اور کہا کہ تحریک آزادی میں نمایاں ہونے کے باعث ہندو بلوائی آپکی جان کے دشمن ہوچکے ہیں لہٰذا پہلی فرصت میں ہجرت کرجائیں یہ اندیشے بلاوجہ نہ تھے۔14اگست1947ءکو قیام پاکستان کی پہلی صبح کے ساتھ ہندو بلوائیوں نے سب سے پہلا حملہ آپ کی ریاست پر کیا جس کے نتیجے میں وہ انکی اہلیہ اور دیگر اہلخانہ زخمی ہوئے جس کے بعد حاجی کریم ڈھیڈی اپنے گھر بار کولے کر پاکستان آگئے۔ کراچی میں بھی ان کی توجہ مساجد کے قیام پر رہی چنانچہ1949ءمیں مشہور میمن مسجد کی تعمیر کرانے والوں میں آپ کا نام سرفہرست تھا اس موقعہ پر ایک اور واقعہ بھی پیش آیا جس نے انہیں علاقے میں محترم بنادیا مجوزہ مسجد کے بالمقابل حکومت نے ایک عمارت کی تعمیر کی اجازت پہلے سے دے رکھی تھی جب مسجد کی تعمیر کا وقت آیا تو منتظمین نے حکومت سے اس کا اجازت نامہ منسوخ کرنے کی درخواست کی تو دفتری لیت ولعل سے کام لیا جانے لگا جسے یہ پرجوش مسلمان برداشت نہ کرسکا عدالت میں پٹیشن داخل کرکے حاجی کریم ڈھیڈی نے اس عمارت کی اجازت منسوخ کرادی۔


پاکستان میں مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث تعمیراتی شعبہ ایک خلاءمحسوس کررہا تھا چنانچہ کریم ڈھیڈی نے مہاجرین کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے کم لاگت کے تعمیراتی منصوبے شروع کردیئے اور کپڑے کی صنعت و تجارت بھی جاری رکھی انہوں نے سابق مشرقی پاکستان میں ایسٹرن ٹیکسٹائل بنائی اور کولمبو میں اے آر کریم اینڈ کمپنی کے نام سے بھی کاروبار شروع کیا 1971ءکے المیہ مشرقی پاکستان کے بعد وہ مستقل طور پر مغربی اور باقیماندہ پاکستان آگئے اس طرح قروت اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح انہیں دو مرتبہ ہجرت کی آزمائش سے گزر نا پڑا۔ سری لنکا قیام کے دوران جب وزیر اعظم لیاقت علی خان نے وہاں دورہ کیا تو حاجی کریم نے ان کی خصوصی اپیل پر خصوصی فنڈ میں15سو روپے کا انفرادی عطیہ دیا جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی جس پر وزیر اعظم نے انہیں شکریہ کا خط بھی لکھا وہ پاکستان میں گرے کلاتھ کے بڑے درآمد کنندہ تھے اور ان کا شمار کپڑے کے 10بڑے تاجروں میں ہوتا تھا کراچی میں تجارت کے ابتدائی دنوں سے ہی وہ کراچی اسٹاک سے وابستہ تھے1974ءمیں انہوں نے اپنا رکنیت کارڈ اپنے ہونہار فرزند عقیل کریم ڈھیڈی کے نام کردیا جو اپنے شفیق والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تجارت میں معروف مقام رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک تاجر اور صنعت کار سے زیادہ عقیل کریم ڈھیڈی کا شمار پاکستان کی مخیر شخصیت میں ہوتا ہے وہ اپنی تجارت کا منافع غریبوں ، بیواﺅں، یتیموں، مستحقوں اور سماجی کاموں پر صرف کرتے ہیں اپنے انہی کاموں کے باعث سرکاری اور عوامی حلقوں میں عقیل کریم ڈھیڈی کو بھی بڑی کامیابی ملی ہے اور آج عقیل کریم ڈھیڈھی کا شمار پاکستان کے معروف تاجر میں ہوتا ہے
مرحوم حاجی کریم ڈھیڈی کا سب سے بڑا کارنامہ چھوٹے تاجروں کے لئے کاغذی بازار میں کریم سپر مارکیٹ کی تعمیر ہےجس کا افتتاح روایات اور مفادات سے ہٹ کر وزیروں اور حکمرانوں کی بجائے انتہائی ممتاز روحانی شخصیت و بزرگ کامل عبدالقادر جیلانی سفیرعراق نے کیاافتتاح سے قبل پوری رات ذکر کی محفل جاری رہی صبح کے روح پرور ماحول میں مارکیٹ کا افتتاح ہوا1972ءمیں کسی تعمیراتی منصوبے کی تکمیل کا یہ پہلا موقع تھا جسے آج بھی کاغذی بازار کے قدیم تاجر یاد کرتے ہیں اور حاجی کریم کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔1974ءمیں انہوں نے صدر میں کریم سینٹر تعمیر کیا تو اسکا افتتاح بھی سعودی سفیر نے فرمایا ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب محض ایک تجارتی تقریب کے لئے عبداللہ ہارون روڈ جیسی مرکزی و معروف شاہراہ تمام دن مکمل طور پر ٹریفک کے لئے بند رہی۔

ان کی دیگر تعمیراتی منصوبوں میں اسلامیہ کالج کے قریب کریم اپارٹمنٹس، فاطمہ اور بمبئی کلاتھ مارکیٹ خاص طور پر قابل ذکر ہیں طارق روڈ پر مشہور جھیل پارک اور ٹاور پر واقع جیلانی سینٹر بھی مرحوم کی ہی ملکیت تھا۔ آج 22مئی 2020 کو اس درویش صفت انسان کی17ویں برسی ہے راقم الحروف کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حاجی کریم ڈھیڈھی کے پسماندگان کو جن میں عقیل کریم ڈھیڈھی سمیت دیگر صاحبزادے اور صاحبزادیاں بھی شامل ہیں اُن سب کو الله سبحانہ و تعالی صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ رب رحیم اُس کریم پر کرم فرما- آمیـــــــــــــن
اُسے ڈھونڈ چراغ رخ زیبالیئے
قائد اعظم کے با اعتماد ساتھی، تحریک آزادی کے پر جوش مجاہد حاجی کریم ڈھیڈی مرحوم کی 17ویں برسی بتاریخ 22 مئی 2020 پر خصوصی تحریر