کرنل کی بیوی دیوی اور ہماری بیوی بلڈی سویلین

ادیب یوسفزے

ابھی کچھ ہی دنوں کی بات ہے۔ نومبر 2019 کو خیابان شہباز، ڈی ایچ اے کی سڑکوں پر ایک خاتون سفید چمچماتی ٹویوٹا کرولا میں محو سفر تھی۔ اپنی موج مستی میں دھت یہ خاتون کار چلا رہی تھی کہ ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آگے نکل گئی۔ ٹریفک اہلکار نے روکا تو خاتون ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کی تصویر بن گئیں۔ خاتون نے ٹریفک اہلکار کو گالیاں دیں ؛ اسے برا بھلا کہا۔ خاتون کو ٹریفک اہلکار نے کہا کہ انہوں نے سگنلز توڑے ہیں تو خاتون نے کہا: ”میں تمہارا چہرہ پھوڑ دوں گی۔“

ٹریفک پولیس اہلکار نے سادہ سی بات دوہرائی کہ انہوں نے ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی کی ہے اور اوپر سے گالی بھی دے رہی ہیں۔ تو خاتون آگ بگولہ ہوگئی اور کہا ”دفع ہو جاؤ یہاں سے“ ۔ بہرحال یہ خاتون اس اہلکار سے الجھ پڑی۔ خاتون کے پاس لائسنس بھی نہیں تھا اور ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی بھی کی تھی اور اوپر سے تیور بھی دکھا رہی تھی۔ ٹریفک پولیس اہلکار نے چالان دینے کی کوشش کی تو خاتون کار سٹارٹ کر کے بھاگ نکلی۔

خاتون کے لئے تو جیسے رات گئی بات گئی لیکن ٹریفک اہلکار کے دوسرے ساتھی نے ان کی بدتمیزی کی ویڈیو بنا ڈالی اور پھر انٹرنیٹ پر ڈال تھی اور یہ ویڈیو وائرل ہوگئی۔ کچھ ہی گھنٹوں میں واقعہ کا نوٹس لیا گیا۔ 26 نومبر 2019 بروز منگل، درخشاں پولیس سٹیشن میں نامعلوم خاتون کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ پولیس نے متعلقہ خاتون کے گھر پر چھاپہ بھی مارا لیکن خاتون گھر میں نہیں تھی۔ لوکیشن ٹریسر کی مدد سے خاتون کی لوکیشن معلوم کی گئی تو موصوفہ ملیر میں تھی۔ بعد میں ویڈیو سے گاڑی کا نمبر پلیٹ ٹریس کیا گیا اور خاتون کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر اس کے گھر حیدر آباد بھیج دی گئی۔ پھر باقاعدہ قانونی کارروائی شروع ہوگئی۔

اب کرنل صاحب کی بیوی تو ٹھہریں دیوی، ان کو اتنے سارے پولیس اہلکار نہ سنبھال پائے تو کرنل صاحب بچارے کیا کر سکتے ہیں۔

 

2019 میں جو واقعہ ہوا اور کرنل صاحب کی بیوی محترمہ نے جو کچھ کیا، اس میں واضح طور پر کوئی فرق نہیں۔ بلکہ کرنل صاحب کی بیوی نے حد ہی کراس کر دی اور زبردستی پر اتر آئی۔ ایسے واقعات کی چھان بین ہونی چاہیے اور ان کے خلاف خوب قانونی کارروائی بھی ہونی چاہیے لیکن اب کچھ صحافیوں کی طرف سے ٹویٹر پر خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور آن ڈیوٹی افسر المعروف کرنل صاحب کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سویلینز کے معاملے میں افواج کا کیا کام؟ کرنل کی بیوی محترمہ ایک سویلین ہیں۔ انہوں نے پولیس اہلکار کے ساتھ بدتمیزی کی ہے تو کارروائی بھی انہی کے خلاف ہونی چاہیے۔ ان کو بھی ٹریس کرنا چاہیے۔ ان کے گھر پر بھی چھاپہ مارنا چاہیے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے اور ان کے گھر پر ہی بھیج دی جائے۔ کرنل صاحب تو خود مظلوم زمانہ شوہر ہوں گے جنہوں نے نہ جانے کتنے سالوں سے یہ مصیبت برداشت کی ہوگی۔ ان کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے!

شاید کرنل صاحب کی بیوی کو بچانے کے لئے کرنل صاحب کو ایک آدھ جملے بول دیے جائیں ؛ وارننگ دی جائے ؛ ٹوکا جائے اور معاملہ رفو چکر کر دیا جائے کیونکہ اگر یہ کیس کرنل صاحب کی بیوی کے خلاف ہوتا ہے تو کافی مضبوط کیس ہوگا اور ان کی بیوی کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہو سکے گی لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک عام بلڈی سویلین کی بیوی کے خلاف ایف آئی آر گھر بھیج دی جاتی ہے لیکن گمان یہی ہے کہ کرنل کی بیوی کو کوئی پوچھتا بھی نہیں!
 Humsub pages