کرنل کی بیوی زندہ باد

عطا الرحمٰن جنجوعہ

ے شک آرمی پاکستان کا ایک انتہائی قابل احترام اور سب سے منظم ادارہ ہے۔ پاکستان آرمی نے صرف ملک کے دفاع ہی نہیں بلکہ ملک کی ترقی کے لئے بہترین کردار ادا کیا ہے۔ سیلاب، طوفان، زلزلے، سونامی ہو یا کوئی بھی آفت پاکستان کی آرمی کو ہی یاد کیا جاتا ہے اور ایسے ہر کام میں پاکستانی عوام بھی اپنی آرمی کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے اور یہ یکجہتی قائد اعظم کے ایمان، اتحاد، تنظیم کے نعرے کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ ایک ادارے کا عکس عوام کے سامنے اس کے ملازمین ہی رکھتے ہیں اور جب ملازمین عوام کے ساتھ بے دلی سے پیش آتے ہیں تو حتمی طور پر ادارے کی تصویر پر داغ نمایاں ہوتا ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ 20 مئی کی شام تھی۔ پونے پانچ بجے کا وقت تھا۔ سورج اپنی منزل کو چھو رہا تھا اور یہ منظر ہزارہ موٹروے کی خوبصورت نئی تعمیر کی گئی روڈ سے منفرد نظر آ رہا تھا۔ ہزارہ موٹر وے پر ٹوٹل پانچ ٹنلز آتی ہیں جو کہ کبھی کبھی کچھ تکنیکی وجوہات کی وجہ سے بند بھی رہتی ہیں۔ انہی میں ایک ٹنل جو مانسہرہ سے شنکیاری جاتے ہوئے آتی ہے آج کے روز بند تھی جس پر تمام مسافروں کو روکا گیا تھا۔
ان مسافروں میں ایک آرمی افسر کی بیوی اپنی بچوں کے ساتھ بلیک ہونڈا سیوک نمبر ACC۔ 35 میں سفر کر رہی تھی جن کو کانسٹیبل شمس نے روکا لیکن انہوں نے بد ترین زبان استعمال کی اور نا صرف وہاں موجود پولیس اہلکار بلکہ چوکی کے اے ایس آئی چن زیب سے بھی بد تمیزی کی اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتی رہی، ان کی زبان پر صرف ایک ہی لفظ تھا کہ تم جانتے نہیں میں کون ہوں۔ وہاں پر موجود اے ایس آئی چن زیب پہلے آرمی میں بھی رہ چکے ہیں اور ان سے بہتر اپنی ڈیوٹی کون سر انجام دے سکتا ہے جس کو آرمی اور پولیس دونوں کا تجربہ ہو۔ وہاں پر موجود اے ایس آئی اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے یا پھر اپنے سینئر افسر کی بیوی کی بات مانتے؟
یہاں پر دو پہلو نکلتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کیا اس طرح کے واقعات اور یہ لوگ ہماری آرمی کا نام خراب نہیں کر رہے؟ اور سب جانتے ہیں کہ یہ کوئی پہلا واقع نہیں ہے۔ اس سے پہلے کتنے ہی واقعات ہو چکے ہیں میڈیا پر بات بھی ہوتی ہے لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا یا اگر لیا جاتا ہے تو گناہ گار کو سزا بھی ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر سزا ہوتی بھی ہے تو عوام الناس کو آگاہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان آرمی نے ہمارے ملک کے لئے بے تحاشا قربانیاں دیں ہیں اور ہمیں اپنی آرمی پر فخر بھی ہے لیکن ضرورت اس عمل کی ہے کہ ایسے واقعات کو ختم کیا جائے جو کہ صرف اور صرف ایک ہی طریقے سے ممکن ہے۔

ایک انکوائری ہونی چاہیے کہ اصل حقیقت کیا ہے اور جو قصوروار ہیں ان کو سزا ملنی چاہیے ورنہ کیا معلوم یہی واقعات ایک دن عوام کو متنفر کر دیں کیونکہ ایسے حادثات عوام کے دلوں میں رہتے ہیں اور کچھ نیا ہو تو پچھلے تمام واقعات سامنے کھول کر دکھ دیے جاتے ہیں اور یہ بھی نہ بھولا جائے کہ یہ تو صرف وہ واقعات ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے عوام کے سامنے آ جاتے ہیں بہت سے ایسے واقعات بھی ہیں جن میں نہ کوئی گواہ ہوتا ہے اور نہ کوئی ثبوت سامنے آتے ہیں لیکن لوگوں کی عزتیں اچھال کر رکھ دی جاتی ہیں۔ یہی وقت ہے کہ ان کو یہاں پر روکا جائے اور اپنی درست سمت کی نشاندہی کی جائے تاکہ پاکستانی عوام نا صرف اپنی فوج بلکہ اپنے ہر ادارے کے ساتھ برابر کھڑے ہوں۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ پولیس اہلکار جو کہ رمضان کے مہینے میں اپنوں سے دور ڈیوٹی دے رہے ہوتے ہیں یہ اس سلوک کے قابل نہیں۔ یہ ویڈیوز اور تصاویر جب ان کے گھر والے یا خاندان والے دیکھتے ہیں ان پر کیا گزرتی ہوگی کہ میرا باپ دن رات محنت کر کے اس ملک کی خدمت میں لگا ہوا ہے اور آخر میں صلح کیا ملا؟ یہ بچے اور مائیں کیا سوچتی ہوں گئی۔ ہمیں اس رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے اور ہر ادارے کا احترام ضروری ہے۔ عوام کی غلطی ہو یا کسی ادارے کے فرد کی اس کو سزا ملنی چاہیے اور انصاف ضروری ہے کیونکہ یہی ایک منصفانہ معاشرے کی نشانی ہے۔