عید کا دن فرنٹ لائن ورکرز ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف، پولیس اور رینجرز سمیت دیگر کام کرنیوالوں کے نام کرتا ہوں : سید مراد علی شاہ

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آج سندھ اسمبلی بلڈنگ کے آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں عید کا دن فرنٹ لائن ورکرز ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف، پولیس اور رینجرز سمیت دیگر کام کرنے والوں کے نام کرتا ہوں۔ انھوں کہانے کورونا کے خلاف لڑتے ہوئے ہمارے صحت کے شعبے کے364 افراد متاثر ہوئے جن میں سے 27 صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 7 ڈاکٹرز، ڈاکٹر عبدالقادر سومرو، ڈاکٹر عبدالحق، ڈاکٹر زبیدہ سراج، ڈاکٹر فرقان الحق، ڈاکٹر انصار ابراہیم، ڈاکٹر ایم بشیر قاسم اور ڈاکٹر نواز گاہوٹی شہید ہوئے ہیں اور پولیس کے274 جوان کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور ان میں سے 59 صحتیاب ہوچکے ہیں اور 5 پولیس اہلکار، حنیف احمد، اے ایس آئی انیس احمد، اے ایس آئی محمد انور، اے ایس آئی شیر گل خان اور ہیڈ کانسٹیبل عبدالعزیزبھی شہید ہوئے ہیں جبکہ رینجرز کے 20 جوان کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ 26 فروری کے بعد میڈیا نے لوگوں تک تمام معلومات اور آگاہی پہنچائی جس کیلئے میں ان کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عید خوشی کا موقع ہے مگر اس موجود صورتحال کے پیش نظر میں عوام سے عید سادگی کے ساتھ منانے کی اپیل کرتا ہوں وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا کی وبا اور غریبوں سے ہکجہتی کیلئے عید سادگی سے منانے کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے وزیراعظم سے بھی گذارش کی کہ وہ قومی طور پر عید سادگی سے منانے کا اعلان کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا کی وبا اور غریبوں سے ہکجہتی کیلئے عید سادگی سے منانے کا اعلان کر دیا ۔

ہم نے صحت کے شعبے میں ایک قدم آگے رکھنا ہے، بچوں اور بزگوں کو محفوظ کھیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھ پر الزام ہے کہ میں سیاست کرتا ہوں، ہاں میں لوگوں کو بچانے کیلئے سیاست کرتا ہوں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم پرائیوٹ سیکٹر کے ڈاکٹر زکو بھی وہی پیکج دیں گے جو سرکاری ڈاکٹرز کیلئے اعلان کیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے لاک ڈاؤن میں حکومت کا ساتھ دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایک تو ہم پر الزام ہے کہ ہم نے لاک ڈاؤن کیا اور پھر دوسرا بیان آتا ہے ہم نے وقت پر بھرپور اقدامات کئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے بلاول بھٹو کی ہدایت پر کافی درست فیصلے کئے ہیں، پاکستان میں مسائل ہیں، مگر وہ پہلے سے ہیں، وزیراعظم کو این ایف سی سے متعلق ایک خظ لکھاہے کہ سی سی آئی اجلاس آئین کے تحت ہر 90دن بعد ہونا چاہئے مگر جب سے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں صرف ایک اجلاس ہوا ہے۔ این سی سی کے سال میں دو اجلاس ہوئے ہیں۔
سوال و جوابات کا سلسلہ:
وزیراعلیٰ سندھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لگتا نہیں ہے کہ وزیراعظم کوئی غیرقانونی کام کرینگے، ارسا کے قانون میں کسی ممبر کو نہیں ہٹا سکتے ہیں، ممبر کو ہٹانے سے پہلے ہم سے مشاورت کرنی ہے، ٹرین وفاقی سبجیکٹ ہے، لیکن وہ اگر ٹرین چلاتے ہیں تو میں اس میں کچھ نہیں کرسکتا۔انھوں نے کہا کہ 200 ارب روپے ہم کو کم ملےہیں، ہیلتھ سیکٹر میں ہم خاص توجہ دیں گے باقی شعبوں کو پیچھے رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ میرا ایک وزیر اسپتال میں داخل ہے اور اس کی طبیعت خراب ہے اللہ پاک اس کو صحت عطا کرے، ہماری ایک ایم پی اے بھی کورونا میں مبتلا ہے، میں کہتا ہوں آپ سماجی فاصلہ رکھیں یہ آپ کیلئے بہتر ہے، حکومت سندھ کی ترجیح کورونا وائرس سے عوام کو تحفظ دینا ہے، ہیلتھ سیکٹر میں ہم نوکریاں رکھیں گے، وفاقی حکومت نے مدد کی ہے مگر ایک بھی وینٹی لیٹرز نہیں ملا ہے،تشویش ناک بات یہ ہے کہ جیلوں میں کورونا وائرس پھیل رہا ہے، ہم ایسے قیدیوں کو چھوڑنا چاہ رہے تھے مگر عدالت نے منع کیا،

یہ بہت تشویشناک بات ہے اور ڈاکٹروں سے مشاورت سے اس پر کام کر رہے ہیں، صحافی عزیز میمن کے قتل میں جو بھی ملوث ہوگا اس کو بہت جلد گرفتار کیا جائے گا۔ ٹائیگر فورس سے متعلق ایک سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ لوگوں کو روکنا حکومت کا کام ہے جب آپ کہہ رہے ہیں باہر نکلو شاپنگ کرو، یہ کیسے روکیں گے؟ میں نے لوگوں کو بچانے کیلئے بازاروں کا وقت مقرر کر رکھا ہے، ہم لوگوں کی صحیح رہنمائی نہیں کرپائے، احتیاط اس لئے نہیں ہوئی کیوں کہ لوگوں نے عمل نہیں کیا، مسائل پورے پاکستان میں ہیں، کراچی میں بھی ہیں یہ مسائل پہلے سے ہیں، اس وقت بڑا مسئلا یہ ہے اپنی جان بچائی جائے، میری ترجیح ہے کہ لوگوں کی زندگیاں بچانی ہیں، حقیقت کو جائیں، اس وقت کورونا پر توجہ کریں۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے کام پر سندھ حکومت پر الزام لگانا اچھی بات نہیں۔ ایک سوال کہ تمام مارکیٹیں اور کاروبار وغیرہ کھلنے کے بعد صورتحال کیا ہوگی تو اسکے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس حوالے سے ماہرین کے مطابق 14 دن بعد صورتحال واضح ہوگی ۔ میں اس لئے کہتا ہوں قومی طور پر ایک فیصلہ ہونا چاہئے، جس قسم کی بھی احتیاطی تدابیر ہوں، ایک جیسی ہوں، نیشنل کوآرڈی نیشن کا اجلاس ہوتا ہے اس میں بھی کہا گیاہے کہ قومی فیصلہ ہونا چاہئے، الزام ایک بڑے فورم پر لگایا جاتا ہے کہ سندھ زیادتی کر رہاہے کہ ہم ٹرینیں نہیں چلائیں گے اور نہ جہاز چلائیں گے مگر وفاق یہ سب چلا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے فیصلوں سے لوگوں کی زندگیوں پر اثر پڑے گا، ماہرین صحت میری بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں، ایس او پیز پر عمل کرنا ہے، مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہو رہا ہے۔

کورونا صورتحال:
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کے آغاز میں کورونا کی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے 6003 ٹیسٹ کئے ہیں، گذشتہ 24 گھنٹوں میں 960 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، کل 1017 کیسز آئے تھے، کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے دکھ سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ مزید 20 مریض انتقال کرگئے، ابتک کورونا کے باعث انتقال کرنے والوں کی تعداد 336 ہوگئی ہے، 143 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے، 33 مریض اب بھی وینٹی لیٹرز پر ہیں اللہ پاک ان کو صحتیاب کرے، اس وقت 13263 مریض زیرعلاج ہیں، 11735 مریض گھروں میں، 608 آئیسولیشن مراکز میں ہیں اور اس وقت 722 مریض صوبے کے مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ آج 680 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے، صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 6325 ہوگئی ہے، کراچی میں 779 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں ضلع شرقی کراچی میں 233، جنوبی میں 169 اور وسطی میں137 ،غربی میں 97، کورنگی میں 86 اور ملیر میں 57 نئے کورونا مریض رپورٹ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ شکارپور میں 22، حیدرآباد میں 17اور لاڑکانہ 14 ،سکھر اور قمبر شہدادکوٹ میں 9-9 جبکہ گھوٹکی میں 7 مزید کیسز ظاہر ہوئے، سانگھڑ اور شہیدبینظیر آباد میں3-3 جبکہ میرپورخاص اور جیکب آباد میں 2-2 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، دادو، جامشورو، نوشہروفیروز اور سجاول میں ایک ایک کیس سامنے آیا ہے۔