گوجرانوالہ گیا اور ایک قبرستان کے پاس سے گزرتے ہوئے وہاں گیٹ کے باہر پھول بیجنے والے سے جو پرانا جاننے والا تھا پوچھا

سوشل ڈسٹنسنگ کو انتہائی ملحوظ خاطر رکھتے ہوے کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی تو جہاں یہودی سازش سے لے کر چائنیز چالاکی اور 5G شعاعوں سمیت رنگ برنگی باتیں سننے کو ملیں وہیں بٹ صاحب نے ایک وکھرا رخ پیش کیا۔۔


بولے کہ میں گوجرانوالہ گیا اور ایک قبرستان کے پاس سے گزرتے ہوئے وہاں گیٹ کے باہر پھول بیجنے والے سے جو پرانا جاننے والا تھا پوچھا کہ ہاں بھئی کیسا چل رہا ہے۔؟۔

اس نے جواب دیا برا حال ہے۔۔
پہلے تو 18 /20 جنازے روزانہ آجاتے تھے اب تعداد 5/6 سے آگے نہیں جا رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کہا: ہیں؟ ؟ یہ کیسے ؟
اس نے جواب دیا اللہ تہاڈا پہلہ کرے پہلے تو 6/8 تو ٹریفک حادثے کی نذر ہوتے تھے۔۔
اور باقی کھانے پینے کی دوکانوں کے بند ہونے سے بڑا فرق پڑا ہے۔ اب لوگ مرغن کھانے سے دور کیا ہوئے قبرستان بے رونق ہو گئے ۔ Death rate پہلے سے صرف 30 % رہ گیا۔۔
اب میں سن کے حیران بھی ہوا اور پریشان بھی۔۔ مگر بات کو ادھر ادھر نہ بتایا نہ چلایا ۔

آج شام میں اپنے گھر سے واک کرنے نکلا تو مال روڈ سے نئے ایرپورٹ کی طرف چلتا چلتا Golf and country club تک جا پہنچا۔ وہیں آگے بائیں ہاتھ کو بہارشاہ قبرستان ہے اور میری والدہ ہم سے جدا ہو کر وہیں ابدی نیند سو رہی ہیں ۔
ان کی باتوں کو یاد کرتے کرتے اچانک میں نے قبرستان کے نگران جو کسی کے بھی آنے پر ذرا متحرک ہوجاتے ہیں وہی سوال کیا۔۔۔۔۔۔ ھاں بھئ بتاو کیسے حالات ہیں
اس نے بتایا کہ پہلے ہر مہینے 25 سے 30 جنازے آتے تھے اب 8/10 رہ گئے ہیں ۔ میں نے پوچھا وہ کیوں؟ اس نے بھی وہی حیران کن جواب دیا۔ سر جی 40% تو حادثوں کی نظر ہوتے تھے اور باقی۔ ۔۔۔
میں نے کہا ہاں بول باقی؟ کہنے لگا سر باقی بلڈ پریشر اور دل کے دورے شوگر وغیرہ۔
میں نے پوچھا کیا کرونا سے یہ بیماریاں ٹھیک ہوگئ ہیں؟ کہنے نہیں صاحب جی لگتا ہے لوگ کھانے کم کھا رہے ہیں ۔۔۔۔۔

میں چپ کرکے واپس آگیا اب سوچ رہا ہوں کہ آپ سب کو یہ کس طرح convey کروں،
یہ مغز، یہ پائے، یہ نلی، نہاریاں، مکھن اور کالی مرچ میں بنی کڑاہی اور بالٹی گوشت۔
انڈے ملے سوجی کے تر بتر حلوے سامنے آئیں تو ان کے لئے بھی چھوٹا موٹا ماسک پہن لیجئے 🙏🙏🙏

بشارت علی طاہر
(ڈنگہ، ضلع گجرات)