عمران نے وزارت سے متعلق کوئی ہدایت نہیں دی، شبلی فراز

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ بطور وزیر اطلاعات میرا بنیادی کام حکومت کی پالیسی عوام تک پہنچانا ہے، اپوزیشن کے حملوں کا جواب دینا میرے فرائض میں شامل ہے، کوئی چینل حکومت کو نہیں کہہ سکتا کہ آپ اس طرح حکومت چلائیں، جنہوں نے اس ملک کی بنیادیں ہلادیں ہم کیسے ان کے ساتھ نارمل تعلقات قائم کرسکتے ہیں،عمران خان نے ابھی تک مجھے وزارت سے متعلق کوئی ہدایت نہیں دی ہے۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں صدر سی پی این ای عارف نظامی اور سیکرٹری جنرل ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان حارث خلیق بھی شریک تھے۔عارف نظامی نے کہا کہ شبلی فراز کو آزادیٴ صحافت کا نمائندہ بن کر ہماری لڑائی لڑنی چاہئے، عارف نظامی کا کہنا تھا کہ میرشکیل الرحمٰن کی سو غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن انہیں جیل میں دو مہینے سے زیادہ ہوگئے ہیں، شبلی فراز کی کوشش ہونی چاہئے کہ کوئی صحافی پابند سلاسل نہ ہو، میر شکیل الرحمٰن پر الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے اگر الزام ثابت ہو تو قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہئے، میڈیا ہاؤسز کے حکومت کے ذمہ واجب الادابقایا جات کی ادائیگی شروع ہوگئی ہے، ان بقایا جات کی ادائیگی کے حوالے سے شبلی فراز کا کلیدی کردار ہے جبکہ شفقت محمود کو بھی کریڈٹ جاتا ہے۔تاہم وزیر اطلاعات کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے،حارث خلیق نے کہا کہ لوگوں کو شبلی فراز سے بہت توقعات ہیں سب ان کے وزیر اطلاعات بننے سے بہت خوش ہیں

Courtesy Jang